8936- عن ربعي بن حراش قال: وفد وفد من غطفان إلى عمر بن الخطاب، فقال: أي شعرائكم أشعر؟ قالوا: أنت أعلم يا أمير المؤمنين، قال من الذي يقول:
حلفت فلم أترك لنفسك ريبة ... وليس وراء الله للمرء مذهب
ولست بمستبق أخا لا تلمه ... على شعث أي الرجال المهذب
قالوا: النابغة، قال فمن القائل:
إلا سليمان إذ قال المليك له ... قم في البرية فازجرها عن الفند
قالوا: النابغة، قال فمن القائل:
أتيتك عاريا خلقا ثيابي ... على وجل تظن بي الظنون
فألفيت الأمانة لم تخنها ... كذلك كان نوح لا يخون
قالوا: النابغة، قال فمن القائل الذي يقول:
ولست بذاخر لغد طعاما ... حذار غد لكل غد طعام
قلنا النابغة، فقال: النابغة أشعر شعرائكم، وأعلم الناس بالشعر. ابن أبي الدنيا والدينوري والشيرازي في الألقاب "كر" ورواه وكيع في الغرر وابن جرير "كر".
٨٩٣٦۔۔۔ ربعی بن خراش سے روایت ہے کہ غطفان کا ایک وفد حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آیا، آپ نے ان لوگوں سے پوچھا : تم میں سب سے بڑا شاعر کون ہے ؟ انھوں نے کہا : امیرالمومنین ! آپ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا : اس کا قائل کون ہے :
میں نے قسم کھائی اور تیرے لیے کوئی شک کی چیز نہیں چھوڑی ، اللہ تعالیٰ کے سوا آدمی کے لیے کوئی گزرگاہ نہیں، تو ایسے بھائی سے سبقت لے جانے والا نہیں، جس کی پراگندگی کو تو جمع نہیں کرتا، کونسے مہذب لوگ ؟
لوگوں نے کہا : نابغہ، آپ نے فرمایا : اس کا قائل کون ہے ؟ صرف سلیمان ، جب بادشاہ نے اسے کہا، لوگوں میں کھڑا ہوجا اور انھیں بڑے پہاڑ سے ڈانٹو، لوگوں نے کہا : نابغہ آپ نے فرمایا : اس کا قائل کون ہے۔
میں تیرے پاس (تھوڑے کپڑوں میں گویا) ننگا ہو کر آیا، اور جو چند کپڑے تھے وہ بھی بوسیدہ ہیں، ایک ڈر کی بناپر کہ میرے بارے کئی گمان ہورہے ہیں میں نے دیکھا کہ امانت میں خیانت نہیں ہوئی ، اسی طرح نوح خیانت نہیں کرتا تھا۔
لوگوں نے کہا : نابغہ، آپ نے فرمایا اس کا کہنے والا کون ہے جو کہتا ہے : میں (آئندہ) کل کے لیے اناج رکھنے والا نہیں
کل کے بچاؤ کے خوف سے ہر کل کیلئے اناج ہے، ہم نے کہا : نابغہ، آپ نے فرمایا : نابغہ تمہارا سب سے بڑا شاعر اور سب سے زیادہ شعر سے واقف ہے (ابن ابی الدنیا والدینوری والشیرازی فی الالقاب ، ابن عساکر ورواہ وکیع فی الغرروابن جریروابن عساکر)