8949- وعنه إني قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت: يا نبي الله إني قد قلت شعرا أثنيت فيه على الله، ومدحتك قال: أما ما أثنيت به على الله فهاته، وما مدحتني به فدعه، فجعلت أنشده، فدخل رجل طوال أقنى، فقال: أمسك فلما خرج قال: هات قلت: من هذا يا نبي الله الذي دخل؟ فقلت: أمسك فلما خرج قلت: هات؟ قال: هذا عمر بن الخطاب وليس من الباطل في شيء.
٨٩٤٩۔۔۔ انہی سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، اے نبی اللہ ! میں نے اشعار میں اللہ تعالیٰ کی حمد اور آپ کی تعریف بیان کی ہے، آپ نے فرمایا : جس میں اللہ تعالیٰ کی تعریف کی ہے وہ سناؤ اور جس میں میری تعریف کی ہے انھیں رہنے دوتو میں آپکو اشعار سنانے لگا اتنے میں ایک لمبا شخص سرجھکائے داخل ہوا، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خاموش ہوجاؤ، جب وہ چلا گیا تو فرمایا : چلو سناؤ، میں نے عرض کیا : یا نبی اللہ ! یہ جو شخص آیا تھا کون تھا ؟ اور آپ نے فرمایا تھا ٹھہرو اور جب چلا گیا تو آپ نے فرمایا : اب سناؤ ؟ فرمایا : یہ عمر بن خطاب ہے اسے باطل چیز سے بالکل رغبت نہیں (طبرانی فی الکبیر)
تشریح :۔۔۔ جو شخص اس پریشانی میں ہو کہ نبی تو شعر سنے اور عمر کو باطل سے رغبت نہیں، تو اسے چاہیے کہ وہ نبی اور عمر کی ذمہ داریاں بھی خوف سمجھ لے۔