8965 - عن أبي حاتم السجستاني سهل بن محمد : ثنا أبو عبيدة معمر بن المثنى ، حدثني روبة بن العجاج ، حدثني أبي قال : سألت أبا هريرة فقال يا أبا هريرة ما ذا تقول في هذا : طاف الخيالان فهاجا سقما خيال تكني وخيال تكتما قامت تريك رهبة أن تصرما ساقا بخنداه وكعبا وأدرما فقال أبو هريرة : كان يحدى نحو هذا أو مثل هذا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا يعيبه.
(كر).
٨٩٦٥۔۔۔ ابوحاتم سجستانی سہل بن محمد ، ابوعبیدہ معمر بن المثنی ، رؤبہ بن حجاج ان کے سلسلہ سند میں روایت ہے کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے پوچھا : ابوہریرہ ! آپ اس شعر کے بارے کیا کہتے ہیں۔
دوخیالوں نے چکر لگایا اور ایک بیماری کو بھڑکایا، ایک خیال جس کی تونیت رکھتا ہے اور ایک خیال جسے تو چھپاتا ہے ، وہ کھڑے ہو کر تجھے کو ف کی وجہ سے دکھانے لگی کی خنداۃ میں پنڈلی اور ایسا ٹخنا ہوجاجو قریب ہوں۔ تو حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : ان جیسے یا انہی الفاظ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حدی کی جاتی تھی اور آپ اسے برانہ سمجھتے تھے۔ (ابن عساکر)