hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 8975

.

كنز العمال

8975
Kanz al-Ummal
8975- "عمر رضي الله عنه" عن سماك قال: هجا النجاشي وهو قيس بن عمر والحارثي بني العجلان، فاستعدوا عليه عمر بن الخطاب فقال ما قال فيكم فأنشدوه: إذا الله عادى أهل لؤم ودقة ... فعادى بني العجلان رهط ابن مقبل فقال عمر: إن كان مظلوما استجيب له وإن كان ظالما لم يستجب قالوا وقد قال أيضا: قبيلته لا يغدرون بذمة ... يظلمون الناس حبة خردل ولافقال عمر: ليت آل الخطاب هكذا قالوا وقد قال: ولا يردون الماء إلا عشية ... إذا صدر الوراد عن كل منهل فقال عمر: ذاك أقل للزحام قالوا وقد قال: تعاف الكلاب الضاريات لحومهم ... ويأكلن من كعب وعوف ونهشل فقال عمر: احرز القوم موتاهم، ولم يضيعوهم. الدينوري "كر".
٨٩٧٥۔۔۔ (عمر (رض)) سماک سے روایت ہے کہ نجاشی یعنی قیس بن عمر اور حارثی نے نبی عجلان کی ہجو کی تو انھوں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے شکایت کی، حضرت عمر نے فرمایا : اس نے تمہارے بارے میں جو کچھ کہا وہ سناؤ !
اللہ تعالیٰ جب کمینے اور گھٹیا لوگوں سے دشمنی کرے گا تو وہ نبی عجلان سے دشمنی کرے گا جو ابن مقبل کا گروہ۔
حضرت عمر نے فرمایا : اگر وہ مظلوم ہے تو اس کی دعا قبول ہوگی اور اگر ظالم ہے تو اس کی دعا قبول نہ ہوگی، انھوں نے کہا
اس نے یہ بھی کہا ہے :
اس کا قبیلہ کسی ذمہ داری میں بدعہدی نہیں کرتا ، اور لوگوں پر رائی برابر بھی ظلم نہیں کرتے، تو حضرت عمر نے فرمایا : کاش ! خطاب کی اولاد ایسے کہتی ، انھوں نے کہا : اس نے کہا ہے : وہ شام کے وقت ہی گھاٹ پر آتے ہیں جب پانی پینے والے ہر گھاٹ سے واپس ہونے لگتے ہیں تو حضرت عمر نے فرمایا : یہ اس واسطہ کے بھیڑ کم ہو، انھوں نے کہا : اس نے کہا ہے :
نقصان دہ کتے ان کے گوشت سے نفرت کرتے ہیں، اور کعب ، عوف نیشل کا گوشت کھاتے ہیں، تو حضرت عمر (رض) نے فرما کیا : قوم نے اپنے مردوں کو بچالیا انھیں ضائع نہیں کیا۔ (الدینوری، ابن عساکر)