8974- عن معمر عن الزهري كان راجز يرجز للنبي صلى الله عليه وسلم، فنزل ابنه بعد ما مات فقال أرجز لك يا رسول الله؟ قال: نعم، فقال عمر: انظر ما تقول، فقال أقول: "تالله لولا الله ما اهتدينا"، فقال عمر: صدقت، "ولا تصدقنا ولا صلينا"، فقال عمر: صدقت "فأنزلن سكينة علينا، وثبت الأقدام إذ لاقينا، والمشركون قد بغوا علينا، إذا يقولون اكفروا أبينا" فقال النبي صلى الله عليه وسلم: من يقل هذه؟ قال: أبي يا رسول الله قالها، قال: رحمه الله، قال: يا رسول الله قد يأبى الناس الصلاة عليه مخافة أن يكون قتل نفسه، فقال: كلا بل مات مجاهدا له أجران اثنان. قال الزهري وكان ضرب رجلا من المشركين بسيفه فرجع السيف فأصاب نفسه بسيفه فمات.
٨٩٧٤۔۔۔ معمر زھری سے روایت کرتے ہیں کہ ایک راجز (بہادری کی شاعری کرنے والا) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے شعر کہہ رہا تھا، جب وہ شہید ہوگئے تو ان کا بیٹا سواری سے اترا اور کہا۔ یارسول اللہ میں آپ کے لیے اشعار کہوں گا (کیا اجازت ہے ؟ ) آپ نے فرمایا : ہاں ، حضرت عمر نے کہا : سوچ لو کیا کہتے ہو، تو اس نے کہا : میں کہتا ہوں، (اللہ کی قسم ! ) اگر اللہ تعالیٰ کی ذات کی پہچان نہ ہوتی ہم ہدایت نہ پاتے ، حضرت عمر نے کہا : تم نے سچ کہا، (نہ صدقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے) حضرت عمر نے کہا : تو نے سچ کہا۔ (سو ہم) پر سکینہ نازل فرما، اور جب دشمن سے ملیں تو ہمارے قدم جمائے رکھ، مشرکوں نے ہم پر ظلم کیا، جب وہ کہتے ہیں کفر کروتو ہم انکار کردیتے ہیں۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کون ایسا کہتا ہے ؟ کہا : یارسول اللہ یہ بات میرے والد نے کہی ہے، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے، انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ لوگ ان کی نماز جنازہ پڑھنے سے انکار کررہے ہیں کہ مبادا انھوں نے اپنے آپ کو قتل کیا ہو، آپ نے فرمایا : ہرگز ایسی بات نہیں ، وہ جہاد کرتے ہوئے فوت ہوئے ان کے لیے دہرا اجر ہے، زھری فرماتے ہیں : انھوں نے ایک مشرک پر وار کیا تو ان کی تلواران پر آلگی یوں وہ شہید ہوگئے۔