9020- عن صهيب قال: قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بقباء ومعه أبو بكر وعمر، وبين أيديهم رطب، وقد رمدت في الطريق فأصابني مجاعة شديدة، فوقعت في الرطب، فقال عمر: يا رسول الله ألا ترى صهيبا يأكل الرطب وهو أرمد؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا صهيب تأكل الرطب وأنت أرمد؟ فقال صهيب: يا رسول الله إنما آكل بشق عيني هذه الصحيحة، فتبسم. "كر".
٩٠٢٠۔۔۔ حضرت صہیب (رض) سے روایت ہے، میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، آپ قباء میں تشریف رکھتے تھے، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھی آپ کے ساتھ تھے، آپ کے ساتھ تھے، آپ کے سامنے کھجوریں پڑی ہوئیں تھیں، اور مجھے راستہ میں آنکھ کی تکلیف ہوگئی تھی، مجھے سخت بھوک لگی، میں بھی کھجوریں کھانے لگا، حضرت عمر نے کہا : یارسول اللہ ! کیا آپ صہیب کو نہیں دیکھتے اس کی آنکھ کی تکلیف ہوگئی تھی، مجھے سخت بھوک لگی، میں بھی کھجوریں کھانے لگا، حضرت عمر نے کہا : یارسول اللہ ! کیا صہیب کو نہیں دیکھتے اس کی آنکھ دکھ رہی ہے اور وہ کھجوریں کھا رہا ہے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں آنکھوں کی تکلیف ہے اور تم کھجوریں کھا رہے ہو ؟ توصہیب (رض) نے کہا : یا رسول اللہ ! میں اپنی صبح آنکھ کی جانب سے کھارہاہوں تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے۔ (ابن عساکر)