hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 9022

.

كنز العمال

9022
Kanz al-Ummal
9022- عن أم سلمة قالت: خرج أبو بكر تاجرا في زمن رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه السويبط والنعمان فقال النعمان يا سويبط، إني جائع فأطعمني، قال كما أنت حتى ينزل أبو بكر، فأبى أن يطعمه، فلما نزلوا انطلق النعمان إلى ناس من الأعراب، فقال: أبيعكم عبدا لي، فإن أخبركم أنه حر فلا تصدقوه، فانطلق فباعه بقلائص، وجاء القوم لسويبط، وقالوا: قد ابتعناك، فقال إني حر، فلم يلتفتوا إلى قوله، فانطلقوا به وأعطوا النعمان من القلائص وجاء أبو بكر، فقال: يا نعمان أين السويبط قال: والله بعته، قال: وحق ما تقول؟ قال نعم، وهذا ثمنه، هذه القلائص، قال: انطلق معي، فانطلق مع أبي بكر إليهم، فلم يزل أبو بكر حتى استنقذه، ورد القلائص، فلما قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم أخبره أبو بكر فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه منها حولا. الروياني وابن منده "كر".
٩٠٢٢۔۔۔ حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں حضرت ابوبکر الصدیق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں تجارت کی غرض سے نکلے آپ کے ساتھ سویبط اور نعمان بھی تھے، نعمان نے (سویبط سے) کہا : سویبط مجھے بھوک لگی ہے کھانا کھلاؤ ! تو انھوں نے کہا : حضرت ابوبکر کے اترنے تک انتظار کرو، تو انھوں نے کھانا کھلانے سے انکار کیا، پھر جب انھوں نے پر اؤ کیا تو نعمان (قریبی) کچھ بدوؤں کے پاس گئے، ان سے کہا : میں تمہارے ہاتھ اپنا غلام بیچنا چاہتا ہوں، اگر وہ تمہیں یہ بتائے کہ میں آزاد ہوں تو تم تصدیق نہ کرنا، چنانچہ انھیں چند اونٹنیوں کے عوض بیچ کر چلتے بنے، وہ لوگ سویبط کے پاس آئے، اور کہنے لگے ہم نے تمہیں خریدلیا ہے، انھوں نے کہا : میں تو آزاد ہوں ، وہ ان کی بات پر متوجہ ہوئے ، وہ انھیں لے گئے اور نعمان کو اونٹنیاں دے دیں۔
حضرت ابوبکر (رض) آئے تو فرمایا : سویبط کہا ہے ؟ کہا میں نے تو اللہ کی قسم اسے بیچ دیا ہے، کہا : کیا تم درست کہہ رہے ہو ؟ کہا : جی ہاں، اور یہ ان کی قیمت ہے جو اونٹنیوں (کی شکل) ہیں، فرمایا : میرے ساتھ آؤ، چنانچہ وہ حضرت ابوبکر کے ساتھ ان کے پاس گئے، حضرت ابوبکر (برابر گفتگو کرتے رہے) یہاں تک انھیں چھڑالیا، اور وہ اونٹیناں واپس کردیں، پھر یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے ، تو حضرت ابوبکر (رض) نے آپ کو بتایا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ اس واقعہ سے ہنس پڑے۔ (الرویانی وابن مندہ، ابن عساکر)