9161- إنه استقطع من رسول الله صلى الله عليه وسلم الملح الذي يقال له: ملح سد مأرب، فأقطعه، ثم إن الأقرع بن حابس التميمي قال:يا رسول الله إني قد وردت الملح في الجاهلية وهو بأرض ليس بها ماء ومن ورده أخذه وهو في الماء العد، فاستقال النبي صلى الله عليه وسلم أبيض بن حمال في قطيعته في الملح، فقال الأبيض: قد أقلتك منه على أن تجعله مني صدقة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: هو منك صدقة، وهو مثل الماء العد من ورده أخذه، فقطع له النبي صلى الله عليه وسلم: أرضا وعبلا بالجرف جرف موات حين أقاله منه. الباوردي.
٩١٦١۔۔۔ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وہ نمک (کی کان) جاگیر میں لینے کا مطالبہ کیا جسے مارب کے بند کا نمک کہا جاتا ہے آپ نے انھیں عطا کردیا، پھر اقرع بن عابس تمیمی (رض) نے کہا : یارسول اللہ ! زمانہ جاہلیت میں میں اس نمک ( کی کان) میں گیا ہوں وہ ایسی زمین میں ہے ، جہاں پانی نہیں، جو اس میں داخل ہوا وہ اسے چیکا لیتا ہے وہ بہتے پانی میں ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابیض بن حمال سے نمک کی جاگیر کا فیصلہ منسوخ کردیا، توابیض نے کہا میں اس بناء پر اس بناپر اس معاملہ کو فسخ کرتا ہوں کہ آپ اسے میری جان سے صدقہ کردیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ تمہاری طرف سے صدقہ ہے، وہ بہتے پانی کی طرح ہے جو اس میں جائے وہ اسے چیکا لیتا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ایک زمین اور (جرف موات) غیرآباد کچھ کنارے کے جھنڈ، اس فسخ کے بدلہ عطا کیے۔ (الباوردی)