9162- عن زياد بن أبي هند الداري عن أبيه قال: قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة، ونحن ستة نفر: تميم بن أوس، ونعيم أخوه، ويزيد بن قيس، وأبو هند بن عبد الله، وأخوه الطيب بن عبد الله، فسماه رسول الله صلى الله عليه وسلم عبد الرحمن وفاكه بن النعمان، فأسلمنا وسألناه أن يعطنا أرضا من أرض الشام، فأعطانا وكتب لنا كتابا في جلد أدم فيه شهادة العباس وجهم بن قيس وشرحبيل بن حسنة، قال أبو هند: فلما هاجر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى المدينة قدمناه عليه فسألناه أن يجدد لنا كتابا فكتب لنا كتابا نسخته: بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما أعطى محمد صلى الله عليه وسلم تميما الداري وأصحابه فذكر الكتاب وشهد أبو بكر بن أبي قحافة، وعمر بن الخطاب، وعثمان بن عفان، وعلي بن أبي طالب ومعاوية بن أبي سفيان وكتب. أبو نعيم في المعرفة.
٩١٦٢۔۔۔ زیاد بن ابی ھند الداری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں : کہ مکہ میں ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم چھ آدمی تھے، تمیم بن اوس، اور ان کے بھائی نعیم، یزید بن قیس، ابوھندبن عبداللہ اور ان کے بھائی طیب بن عبداللہ ، جن کا نام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبدالرحمن رکھ دیا، فاکہ بن نعمان ، ہم سب لوگ مسلمان ہوگئے ہم نے آپ سے شام کی زمین میں سے کچھ زمین کا مطالبہ کیا۔
چنانچہ آپ نے ہمیں زمین عطا کردی اور چمڑے پر ایک تحریر بھی لکھ دی جس پر حضرت عباس ، جہم بن قیس اور شرجیل بن حسنۃ کی گواہی تھی، ابوھندہ کہتے ہیں : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو ہم آپ کے پاس آئے اور آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ ہمارے لیے وہ تحریر تازہ کردیں چنانچہ آپ نے تحریر لکھوائی جس کا نسخہ یہ ہے :
(بسم اللہ الرحمن الرحیم) یہ اس بات کی تحریر ہے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمیم داری اور اس کے دوستوں کو عطا کیا ہے پھر اس (سابقہ) تحریر کا ذکر کیا اور حضرت ابوبکر بن ابی قحافہ، عمر بن خطاب ، عثمان بن عفان ، علی بن ابی طالب اور معاویہ بن ابی سفیان گواہ بنے اور انھوں نے لکھا۔ (ابونعیم فی المعرفۃ)