9170- عن عبد الله بن الزبير قال: أتى أعرابي عمر فقال، يا أمير المؤمنين بلادنا قاتلنا عليها في الجاهلية، وأسلمنا عليها في الإسلام، علام تحميها؟ فأطرق عمر وجعل ينفخ ويفتل شاربه، وكان إذا كربه أمر فتل شاربه ونفخ، فلما رأى الأعرابي ما به جعل يردد ذلك، فقال عمر: المال مال الله، والعباد عباد الله، والله لولا ما أحمل عليه في سبيل الله ما حميت من الأرض شبرا في شبر. أبو عبيد.
٩١٧٠۔۔۔ عبداللہ بن زبیر (رض) سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی حضرت عمر (رض) کے پاس آیا، کہا : امیرالمومنین ! ہم اپنے شہروں پر جاہلیت میں لڑے اور اسلام لائے ، تو پھر آپ کسی وجہ سے انھیں ہم سے روکتے ہیں ؟ حضرت عمر نے سرجھکالیا اور لمبے لمبے سانس لے کر اپنی مونچھوں کو بل دینے لگے، آپ کی عادت تھی جب پریشان ہوتے یا کوئی اہم کام پیش آتا تو اپنی مونچھوں کے بل دیتے اور لمبے لمبے سانس لیتے تھے، اعرابی نے جب یہ حالت دیکھی تو اس بات سے رجوع کرنے لگا، حضرت عمر نے فرمایا : مال اللہ تعالیٰ کا اور بندے بھی اللہ تعالیٰ کے ہیں، اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ کی راہ کا خرچ نہ ہوتا تو میں زمین کی ایک بالشت بھی محفوظ اور ممنوع نہ رکھتا۔