921 – "ضرب الله مثلا صراطا مستقيما وعلى جنبتي الصراط سوران فيهما أبواب مفتحة وعلى الأبواب ستور مرخاة وعلى باب الصراط داع يقول يا أيها الناس ادخلوا الصراط جميعا ولا تتعوجوا وداع يدعو من فوق الصراط فإذا أراد الإنسان أن يفتح شيئا من تلك الأبواب قال ويحك لا تفتحه فإنك إن تفتحه تلجه فالصراط الإسلام والسوران حدود الله والأبواب المفتحة محارم الله وذلك الداعي على رأس الصراط كتاب الله والداعي من فوق واعظ الله في قلب كل مسلم". (حم ك عن النواس) .
٩٢١۔۔ اللہ نے سیدھی راہ کی مثال بیان فرمائی ہے کہ اس راہ کے جانبین دودیواریں ہیں دیواروں میں دروازہ کھلے ہوئے ہیں ، اور دروازوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اوعین اس سیدھی راہ کے سرے پر ایک منادی ہے جو پکار پکار کر کہہ رہا ہے اے انسانو سب سیدھے راہ پر چلے آؤ اورادھرادھر دروازوں میں نہ مڑو۔ اور اس راہ کے اوپر کی طرف بھی ایک منادی پکار رہا ہے اور جب کوئی شخص ان دروازوں میں سے کسی میں داخل ہونا چاہتا ہے تو وہ منادی پکاراٹھتا ہے تف ہو تجھ پر اس دروازے کو مت کھول اگر کھولے گا تو اس میں داخل ہوجائے گا۔ پس یہ راہ اسلام کی سیدھی راہ ہے اور اس کے جانبین کی دیواریں حدود اللہ ہیں، کھلے ہوئے دروازے اللہ کے محارم ہیں اور راہ کے سرے پر کھڑامنادی ، کتاب اللہ ہے اور راہ کے اوپرکھڑا منادی واعظ اللہ یعنی ہر سلیم الطبع انسان کا ضمیر ہے۔ ھمم، المستدرک للحاکم، بروایت نواس۔