922 – " قد تركتكم على البيضاء ليلها كنهارها لا يزيغ عنها بعدي إلا هالك ومن يعش منكم فسيرى اختلافا كثيرا فعليكم بما عرفتم من سنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهدين عضوا عليها بالنواجذ وعليكم بالطاعة وإن عبدا حبشيا فإنما المؤمن كالجمل الأنف حيثما قيد انقاد". (حم هـ ك عن عرباض) .
٩٢٢۔۔ میں تمہیں ایک روشن ملت پر چھوڑے جارہاہوں جس کی رات بھی دن کے مانند روشن وچمکدار ہے اس ملت سے میرے بعد کوئی منحرف نہ ہوگا مگر وہی جس کے مقدر میں ہلاکت ہے جو تم میں سے میرے بعد حیات رہا وہ بہت سے اختلافات کو رونما دیکھے گا پس تم پر میری سنت اور خلفا راشدین مہیدین کی سنت کو لازم ہے جس کو تم جانتے ہو، اپنی کچیلی کے ساتھ مضبوطی سے تھام لینا اور تم پر ہر حال میں امام کی اتباع لازم ہے خواہ تم پر کسی حبشی غلام کو ہی کیوں نہ امیر بنادیا جائے کیونکہ مومن تونکیل پڑے ہوئے اونٹ کی مانند ہے ، اس کو جہاں ہانکا جائے خاموشی سے چل دیتا ہے۔ مسنداحمد، ابن ماجہ، المستدرک للحاکم بروایت عرباض۔