hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 9522

.

كنز العمال

9522
Kanz al-Ummal
9522- "ألا إن بعد زمانكم هذا زمانا عضوضا يعض الموسر على ما في يده حذار الإنفاق، وقد قال الله تعالى: {وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ} وسيد شرار الخلق يبايعون كل مضطر، ألا إن بيع المضطرين حرام، المسلم أخو المسلم، لا يظلمه، ولا يخذله، إن كان عندك معروف فعد به على أخيك، ولا تزده هلاكا إلا هلاكه". "ع عن حذيفة".
9518 ۔۔۔ فرمایا کہ ” سنو ! تمہارے اس زمانے کے بعد ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جو تنگی کا ہوگا (اس زمانے میں) خوشحال آدمی خرچ ہوجانے کے ڈر سے اپنے مال کو اس مضبوطی سے پکڑ کر رکھے گا جیسے دانتوں میں دبا رکھا ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” جو کچھ تم نے کسی چیز میں سے خرچ کیا وہی اس کا بدلہ دے گا “۔ (سورة سبا 39)
اور بدترین لوگوں کا سردار وہ ہوگا جو ہر مجبور سے خریدو فروخت کرے گا، سنو ! مجبوروں سے خریدو فروخت کرنا حرام ہے، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اس کی شرمندگی کا باعث بنتا ہے، اگر تمہارے پاس کوئی نیکی ہے تو اس کے ساتھ اپنے (مسلمان) بھائی کی طرف لوٹو اور اس کے ہلاکت میں مزید ہلاکت کا باعث نہ بنو۔ (مسند ابی یعلی بروایت حضرت حذیفہ (رض))
فائدہ :۔۔۔ مجبور سے خریدو فروخت کرنے سے مراد مجبور کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھانے سے ہے، ورنہ مجبوری کی حالت میں نیک نیتی کے ساتھ صحیح اسلامی طریقے سے کسی سے خریدو فروخت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)