HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

36882

36872- عن عبد الملك بن يعلى الليثي أن بكر بن شداخ الليثي وكان ممن يخدم النبي صلى الله عليه وسلم وهو غلام فلما احتلم جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول! إني كنت أدخل على أهلك وقد بلغت مبلغ الرجال، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: اللهم صدق قوله ولقه الظفر! فلما كان في ولاية عمر وجد يهودي قتيلا فأعظم ذلك عمر وجزع وصعد على المنبر فقال: أفيما ولاني الله واستخلفني يفتك بالرجال؟ أذكر الله رجلا كان عنده علم إلا أعلمني! فقام إليه بكر بن شداخ فقال: أنا به عليم فقال: الله أكبر! بؤت بدمه فهات المخرج، فقال: بلى، خرج فلان غازيا ووكلني بأهله فجئت إلى بابه فوجدت هذا اليهودي في منزله وهو يقول: وأشعث غرة الإسلام مني. ... خلوت بعرسه ليل التمام أبيت على ترائبها ويمسي. ... على جرداء لا حقة الحزام كأن مجامع الربلات منها. ... فئام ينهضون إلى فئام فصدق عمر قوله وأبطل دمه بدعاء النبي صلى الله عليه وسلم."ابن منده وأبو نعيم".
٣٦٨٧٢۔۔۔ عبد الملک بن یعلی لیثی کی روایت ہے کہ حضرت بکر بن شداج لیثی (رض) ان صحابہ (رض) میں سے تھے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کرتے تھے یہ لڑکپن میں خدمت کا فریضہ انجام دیتے تھے چنانچہ جب سن بلوغت کو پہنچے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے آپ کے اہل خانہ کے پاس داخل ہونا پڑتا ہے حالانکہ میں سن بلوغت کو پہنچ چکا ہوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دعا دی اور فرمایا : یا اللہ اس کی بات کو سچ کر دے اور فتح مندی سے اسے ہم کنار کر چنانچہ حضرت عمر (رض) کے دور خلافت میں کسی یہودی نے ایک مقتول پایا عمر (رض) نے اس کو امر عظیم سمجھا اور اس پر بڑے رنج کا اظہار کیا پھر منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا : کیا اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مجھے ولایت دی ہے اور اسی لیے مجھے خلافت عطا کی ہے کہ مردوں کو یوں ناحق قتل کیا جائے ؟ میں اللہ تعالیٰ سے ایسے شخص کا سوال کرتا ہوں جس کے پاس اس کا کوئی علم ہو اور مجھے بتائے بکر بن شداج (رض) کھڑے ہوئے اور فرمایا : مجھے اس کا علم ہے حضرت عمر (رض) نے کہا : اللہ اکبر تم اس مقتول کے خون کے ذمہ دار ہو ورنہ اس سے نکلنے کی کوئی حجت بیان کرو عرض کیا : جی ہاں فلاں شخص جہاد میں شرکت کی غرض سے نکلا اور مجھے اپنے اہل و عیال کا وکیل بنا گیا میں اس کے دروازے پر پہنچا تو میں نے اس یہودی کو اس کے گھر میں پایا اور یہ کہہ رہا تھا :
واشعث غرۃ الاسلام منی خلوت بعرسہ لیل التمام
میری وجہ سے اسلام کی چمک دھیمی پڑگئی میں نے اس کے جلوہ کے لیے پوری پوری رات خلوت میں گزار دی۔
ابیت علی نرابھا ویمسی علی جرداء لا حقۃ الخرام
میں اس کے سینے پر حملہ کرنے سے بار رہا ہوں لیکن اس نے بےبالوں کے شام کی کہ وہ وسط راستہ پر جا چکا تھا۔
کان مجامع الربلات منھا فنام ینھفون الی فنام
گویا کہ اس کی ہڈیوں کے جوڑا انسانوں کی جماعت کی مانند تھے جو کسی دوسری جماعت کی طرف اٹھ رہے ہوں۔
چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کی وجہ سے ان کی بات سچ قرار دی اور مقتول کا خون رائیگاں قرار دیا۔ (رواہ ابن مندہ وابو نعیم)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔