HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

36903

36893- عن أم ذر قالت: لما حضر أبا ذر الوفاة بكيت فقال: ما يبكيك؟ فقلت: مالي لا أبكى وأنت تموت بفلاة من الأرض وليس عندي ثوب يسعك كفنا؟ قال: فلا تبكي فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لنفر أنا فيهم: ليموتن رجل منكم بفلاة من الأرض يشهده عصابة من المسلمين، وليس من أولئك النفر أحد إلا وقد هلك في قرية وجماعة وأنا الذي أموت بفلاة، والله ما كذبت ولا كذبت فأبصري الطريق، قالت فقلت: وأنى وقد ذهب الحاج وانقطعت الطرق، قال: اذهبي فتبصري، قالت: فكنت أجيء إلى كثيب1 فأتبصر ثم أرجع إليه فأمرضه فبينا أنا كذلك إذا أنا برجال على رحالهم كأنهم الرخم2 فألحت لهم بثوبي، فأقبلوا حتى وقفوا علي وقالوا: مالك يا أمة الله؟ قلت: امرؤ من المسلمين يموت تكفنونه؟ قالوا: ومن هو؟ قلت: أبو ذر، قالوا: صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قلت: نعم، قالت: ففدوه بآبائهم وأمهاتهم وأسرعوا إليه فدخلوا عليه، فرحب بهم وقال: إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لنفر أنا فيهم: ليموتن رجل بفلاة من الأرض يشهده عصابة من المسلمين وليس من أولئك النفر أحد إلا وقد هلك في قرية وجماعة وأنا الذي أموت بالفلاة، أنتم تسمعون أنه لو كان عندي ثوب يسعني كفنا لم أكفن إلا فيه، أنتم تسمعون أني أشهدكم أن لا يكفنني رجل منكم كان أميرا أو عريفا أو بريدا أو نقيبا؛ فليس من القوم أحد إلا قارف بعض ما قال إلا فتى من الأنصار قال: يا عم! أنا أكفنك، لم أصب مما ذكرت شيئا، أكفنك في ردائي هذا أو ثوبين في عيبتي من غزل أمي حاكتهما لي. فكفنه الأنصاري في النفر الذين شهدوه."أبو نعيم".
٣٦٨٩٣۔۔۔ حضرت ابو ذر غفاری (رض) کی بیوی ام ذر (رض) کہتی ہیں : جب ابو ذر (رض) کی وفات کا وقت آیا میں رونے لگی : ابو ذر (رض) بولے : تم کیوں رو رہی ہو ؟ میں نے کہا : میں کیوں نہ روؤں حالانکہ آپ قریب الموت ہیں اور ہم ہیں بھی بیابان میں جہاں اور کوئی نہیں میرے پاس اتنا کپڑا بھی نہیں جو آپ کے کفن کی کفایت کرسکے ؟ ابو ذر (رض) بولے : رد نہیں چونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک جماعت سے فرماتے سنا ہے میں بھی ان میں تھا فرمایا : کہ ضرور تم میں سے ایک شخص بیاباں میں مرے گا اس کے پاس مسلمانوں کی ایک تگڑی جماعت حاضر ہوگی چنانچہ اس وقت آپ (رض) کے پاس حاضرین میں سے جتنے لوگ تھے ان میں سے کوئی بھی میرے علاوہ بیاباں میں نہیں مرا ہر ایک بستی میں یا جماعت میں مرا ہے سو میں ہی ہوں جو بیاباں میں مر رہا ہوں اللہ کی قسم میں جھوٹ نہیں بول رہا اور نہ ہی میں نے جھوٹ بولا ہے جاؤ راستہ دیکھو۔ ام ذر کہتی ہیں : میں نے کہا : یہ کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ لوگ حج کے لیے جا چکے ہیں اور راستے منقطع ہوچکے ہیں۔ ابو ذر (رض) نے کہا : تم جاؤ دیکھ تو لونا، ام ذر کہتی ہیں : میں ریت کے ایک ٹیلے پر آگئی اور ادھر ادھر دیکھنے لگی : پھر میں ابو ذر (رض) کے پاس لوٹ آتی اور ان کی تیمار داری کرتی اسی دوران میں چکر لگا رہی تھی کیا دیکھتی ہوں۔ کہ کچھ لوگ کجاو وں پر سوار پرندوں کے جھنڈ کی طرف سامنے سے آرہے ہیں۔ میں کپڑا لے کر انھیں اپنی طرف بلانے لگی وہ میری طرف آنے لگے اور میرے پاس آکر رک گئے اور پوچھا : اے اللہ کی بندی تمہیں کیا ہوا ؟ میں نے کہا : مسلمانوں میں سے ایک شخص مرا جا رہا ہے تم لوگ اس کی تجہیزو تکفین کا بند و بست کر دو ۔ راہ گیروں نے پوچھا : وہ کون شخص ہے ؟ میں نے کہا : وہ ابو زر غفاری ہیں۔ وہ بولے : ابو ذر جو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی ہیں ؟ میں نے کہا : جی ہاں ام ذر کہتی ہیں انھوں نے ابو ذر (رض) پر اپنے ماں باپ کو قربان کیا اور جلدی سے ابوذر کے پاس آئے ابو ذر (رض) نے انھیں مرحبا کہا اور بولے : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک جماعت سے فرماتے سنا میں بھی اس جماعت میں تھا فرمایا کہ ایک شخص بیاباں میں ضرور مرے گا اور اس کے پاس مسلمانوں کی ایک تگڑی جماعت آئے گی چنانچہ اس وقت آپ کے پاس حاضرین میں سے ہر شخص بستی میں یا جماعت میں مرا ہے اور میں ہی وہ شخص ہوں جو بیاباں میں مر رہا ہوں تم لوگ میری بات سن رہے ہو اگر میرے پاس اتنا کپڑا ہوا جو میرے کفن کے لیے کافی ہو مجھے اسی میں کفن دو اور تم یہ بھی سن رہے ہو کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں مجھے وہ شخص کفن نہ دے جو امیر ہو یا سرکاری جاسوس ہو یا ایلچی ہو یا نقیب ہو، چنانچہ راہگیروں کی جماعت میں ہر شخص کسی نہ کسی عہدے پر فی الوقت فائز تھا یا قبل ازیں کسی عہدے پر رہ چکا تھا البتہ ایک انصاری نوجوان لڑکا تھا اس نے کسی قسم کا کوئی عہدہ نہیں قبول کیا تھا وہ لڑکا کہنے لگا : اے چچا جان، میں آپ کو کفن دوں گا میں آپ کے ذکر کردہ عہدوں میں سے کسی عہدے پر نہیں ہوں میں آپ کو اس چادر میں کفن دوں گا یا ان دو کپڑوں میں کفن دوں گا جو میرے تھیلے میں پڑے ہوئے ہیں جن کی سوت میری امی نے کاٹی ہے اور اسی نے وہ بنائے ہیں۔ چنانچہ اسی انصاری نوجوان نے ابو ذر غفاری (رض) کو کفن پہنایا۔ (رواہ ابو نعیم)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
Kanz al-Ummal: 36903 | undefined - Hadith.one