HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

36914

36904- ثنا أبو العباس الوليد بن حماد بن جابر ثني أبو عثمان عبد الرحمن بن خالد بن عثمان ثني أبي خالد بن عثمان عن أبيه عثمان بن محمد عن جده محمد بن عثمان بن عبد الرحمن عن أبيه عثمان بن عبد الرحمن عن أبي راشد عبد الرحمن بن عبيد قال: قدمت على النبي صلى الله عليه وسلم في مائة رجل من قومي فلما دنونا من النبي صلى الله عليه وسلم وقالوا لي: تقدم أنت يا أبا مغوية! فإن رأيت ما تحب رجعت إلينا حتى نتقدم إليه، وإن لم تر مما تحب شيئا انصرفت إلينا حتى ننصرف، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وكنت أصغر القوم فقلت: أنعم صباحا يا محمد! فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ليس هذا سلام المسلمين بعضهم على بعض، فقلت له: فكيف يا رسول الله؟ فقال: إذا أتيت قوما من المسلمين قلت: السلام عليكم ورحمة الله، فقلت: السلام عليكم يا رسول الله ورحمة الله، قال: وعليك السلام ورحمة الله وبركاته، فقال لي النبي صلى الله عليه وسلم: ما أسمك ومن أنت؟ فقلت: أنا أبو مغوية عبد اللات والعزى، فقال لي النبي صلى الله عليه وسلم: بل أنت أبو راشد عبد الرحمن، فأكرمني وأجلسني إلى جانبه وكساني رداءه وأعطاني حذاءه ودفع إلي عصاه وأسلمت، فقال للنبي صلى الله عليه وسلم قوم من جلسائه: يا رسول الله! إنا نراك قد أكرمت هذا الرجل، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: هذا شريف قوم، فإذا أتاكم شريف قوم فأكرموه؛ قال أبو راشد: وكان معي عبد لي يقال له "سرحان" فأسلم معي، فقال لي النبي صلى الله عليه وسلم: من هذا معك يا أبا راشد؟ فقلت: هذا عبد لي يقال له: سرحان، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: هل لك يا أبا راشد أن تعتقه فيعتق الله منك بكل عضو منه عضوا منك من النار، قال أبو راشد: فأعتقته وقلت: اشهد يا رسول الله أنه حر لوجه الله! وانصرفت إلى أصحابي فأدركت منهم قوما وفاتني منهم قوم فأتوا النبي صلى الله عليه وسلم فأسلموا. "كر".
٣٦٩٠٤۔۔۔ ابو العباس ویعد بن حماد بن جابر ابو عثمان عبد الرحمن بن خالف بن عثمان ، ابو خالد بن عثمان، عثمان بن محمد، محمد بن عثمان بن عبد الرحمن عثمان بن عبد الرحمن کی سند سے ابو راشد عبد الرحمن بن عبید (رض) کی روایت ہے وہ کہتے ہیں : میں اپنی قوم کے سو (١٠٠) آدمیوں کے ساتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا جب ہم آپ کے قریب پہنچے تو آپ نے مجھے فرمایا : اے ابو مغویہ، آگے بڑھو۔ چونکہ آگر تم اپنی محبوب چیز دیکھو گے ہمارے پاس واپس لوٹ گئے اور اگر اپنی محبوب چیز نہیں دیکھو گے واپس نہیں لوٹو گے۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب تر ہوگیا جب کہ میں اپنی قوم کے افراد میں سے سب سے چھوٹا تھا۔ میں نے کہا : یا محمد ! آنعم صیاحا (یہ لفظ جاہلیت کا سلام سمجھا جاتا تھا) یعنی صبح بخیر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ مسلمانوں کا سلام نہیں ہے، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! پھر مسلمانوں کا سلام کیا ہےَ فرمایا : جب مسلمانوں کے پاس جاؤ تو کہو : السلام علیکم و رحمۃ اللہ میں نے کہا : السلام علیکم یا رسول اللہ و رحمۃ اللہ جواب میں فرمایا ” وعلیک السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : تمہارا کیا نام ہے ؟ میں نے عرض کیا : میدا نام ابو مغویہ عبد الات والعزی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلکہ تمہارا نام ابو راشد عبد الرحمن ہے۔ آپ نے میرا اکرام کیا اور مجھے اپنے پاس بٹھایا اپنی چادر مجھے پہنائی اپنے جوتے مجھے عطا کیے اور اپنا عصا بھی مجھے دیا میں نے اسلام قبول کرلیا، حاضرین میں سے بعض لوگوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے اس شخص کا اکرام کیا ہے ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چونکہ یہ قوم کا شریف آدمی ہے جب تمہارے پاس کسی قوم کا شریف آدمی آئے اس کا اکرام کرو۔ ابو راشد (رض) کہتے ہیں : میرے ساتھ میرا غلام ” سرخان “ بھی تھا وہ بھی میرے ساتھ اسلام لے آیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے ساتھ یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا : یہ میرا غلام سرخان ہے، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو راشد کیا تم اسے آزاد کرسکتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں تمہارے ہر عضو کو دوزخ کی آگ سے آزاد فرمائے گا ابو راشد (رض) کہتے ہیں : میں نے غلام آزاد کردیا : اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے آزاد ہے پھر میں اپنے ساتھیوں کی طرف واپس لوٹ آیا اور انھوں نے بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں
حاضر ہو کر اسلام قبول کیا۔ (رواہ ابن عساکر)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
Kanz al-Ummal: 36914 | undefined - Hadith.one