HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37034

37024- عن خالد بن الوليد قال: لما أراد الله بي من الخير ما أراد قذف في قلبي حب الإسلام وحضرني رشدي وقلت: قد شهدت هذه المواطن كلها على محمد فليس موطن أشهده إلا وأنصرف وإني أرى في نفسي أني موضع في غير شيء وأن محمدا سيظهر، فلما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الحديبية خرجت في خيل المشركين فلقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في أصحابه بعسفان، فقمت بازائه وتعرضت له،فصلى بأصحابه الظهر إماما، فهممنا أن نغير عليه ثم لم يعزم لنا، وكانت فيه خيرة فاطلع على ما في أنفسنا من الهجوم به، فصلى بأصحابه صلاة العصر صلاة الخوف، فوقع ذلك مني موقعا وقلت: الرجل ممنوع - وافترقنا، وعدل عن سنن خيلنا وأخذ ذات اليمين، فلما صالح قريشا بالحديبية ودافعته قريش بالبراح1 قلت في نفسي: أي شيء بقي؟ أي المذهب إلى النجاشي، فقد اتبع محمدا وأصحابه آمنون عنده، فأخرج إلى هرقل فأخرج من ديني إلى نصرانية أو يهودية فأقيم مع عجمها أو أقيم في داري فيمن بقي؟ فأنا على ذلك إذ دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم في عمرة القضية وتغيبت فلم أشهد دخوله، وكان أخي الوليد بن الوليد قد دخل مع النبي صلى الله عليه وسلم في عمرة القضية فطلبني فلم يجدني، فكتب إلي كتابا فإذا به: "بسم الله الرحمن الرحيم، أما بعد فإني لم أر أعجب من ذهاب رأيك عن الإسلام وعقلك عقلك ومثل الإسلام يجهله أحد وقد سألني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أين خالد؟ فقلت: يأتي الله به، فقال: ما مثل خالد يجهل الإسلام ولو كانت نكايته وحده مع المسلمين على المشركين لكان خيرا له ولقدمناه على غيره، فاستدرك يا أخي ما فاتك منه، فقد فاتتك مواطن صالحة". قال: فلما جاءني كتابه نشطت للخروج وزادني رغبة في الإسلام وسرتني مقالة رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال خالد: وأرى في النوم كأني في بلاد ضيقة جدبة فخرجت إلى بلد أخضر واسع فقلت: إن هذه لرؤيا حق، فلما قدمت المدينة فقلت: لأذكرنها لأبي بكر، قال: فذكرتها، فقال: هو مخرجك الذي هداك الله للإسلام، والضيق الذي كنت فيه الشرك، فلما أجمعت الخروج إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت من أصاحب إلى محمد صلى الله عليه وسلم؟ فلقيت صفوان بن أمية فقلت: يا أبا وهب! أما ترى ما نحن فيه! إنما نحن أكلة رأس وقد ظهر محمد على العرب والعجم فلو قدمنا على محمد فاتبعناه، فإن شرف محمد لنا شرف، فأبى علي أشد الإباء وقال: لو لم يبق غيري من قريش ما اتبعته أبدا! فافترقنا وقلت: هذا رجل موتور1 يطلب وترا، قتل أبوه وأخوه ببدر، قال: فلقيت عكرمة ابن أبي جهل فقلت له مثل ما قلت لصفوان، فقال لي مثل ما قال صفوان، فقلت له: فاطو ما ذكرت لك، قال: لا أذكره؛ وخرجت إلى منزلي فأمرت براحلتي تخرج إلى أن ألقى عثمان بن أبي طلحة فقلت: إن هذا لي لصديق ولو ذكرت له ما أريد، ثم ذكرت من قتل من آبائه فكرهت أن أذكره ثم قلت وما علي وأنا راحل من ساعتي، فذكرت له ما صار الأمر إليه وقلت له: إنما نحن بمنزلة ثعلب في جحر لو صب عليه ذنوب من ماء خرج وقلت له نحوا مما قلته لصاحبيه. فأسرع الإجابة وقال: لقد غدوت اليوم وأنا أريد أن أغدو وهذه راحلتي بفج مناخة فأنقذت أنا وهو يأجج1، إن سبقني أقام وإن سبقته أقمت عليه، فأدلجنا سحرة فلم يطلع الفجر حتى التقينا بيأجج فغدونا حتى انتهينا إلى الهدة فنجد عمرو بن العاص بها فقال: مرحبا بالقوم! قلنا وبك! قال: أين مسيركم؟ قلنا: ما أخرجك؟ قال: فما الذي أخرجكم؟ قلنا: الدخول في الإسلام واتباع محمد، قال: وذاك الذي أقدمني، قال: فاصطحبنا جميعا حتى قدمنا المدينة فأنخنا بظاهرة الحرة ركابنا، وأخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم فسر بنا، فلبست من صالح ثيابي ثم عمدت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلقيني أخي فقال: أسرع فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد أخبر بك فسر بقدومك وهو ينتظركم فأسرعت المشي فطلعت فما زال يبتسم إلي حتى وقفت عليه فسلمت عليه بالنبوة، فرد علي السلام بوجه طلق. فقلت له: إني أشهد أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الحمد لله الذي هداك! قد كنت أرى لك عقلا ورجوت أن لا يسلمك إلا إلى خير، قلت: يا رسول الله! قد رأيت ما كنت أشد من تلك المواطن عليك معاندا عن الحق فادع الله يغفرها لي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الإسلام يجب ما كان قبله، قلت: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم على ذلك، فقال: اللهم اغفر لخالد بن الوليد كلما أوضع فيه من صد عن سبيلك، قال خالد: ونقدم عمرو وعثمان فبايعا رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكان قدومنا في صفر من سنة ثمان، فوالله ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم أسلمت يعدل من أصحابه فيما حزبه."الواقدي، كر".
٣٧٠٢٤۔۔۔ حضرت خالد بن ولید (رض) فرماتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے مجھے خیروبھلائی سے سرشار کرنے کا ارادہ کیا،
میرے دل میں اسلام کی محبت ڈالی دی اور میری رشد و ہدایت کا وقت آن پہنچا۔ میں نے کہا : میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف لڑی گئی ساری جنگوں میں شریک رہا ہوں اور جس جنگ سے بھی واپس لوٹا ہوں دل میں پختہ عزم ہوتا چلا گیا کہ جس جگہ میں کھڑا ہوں یہ میرے شایان شان نہیں ہے (مجھے کہیں اور ہو ونا چاہے تھے) اور یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عنقریب غلبہ حاصل ہوجائے گا چنانچہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صلح حدیبیہ کی طرف تشریف لائے میں مشرکین کے شہسواروں کے ساتھ نکل پڑا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صحابہ کرام (رض) کے ساتھ مقام عسفان میں ملا میں آپ سے تعرض کرنے کے لیے آپ کے بالمقابل کھڑا ہوگیا آپ نے صحابہ (رض) کو نماز ظہر میں امامت کرائی (دوران نماز) ہم نے ارادہ کیا کہ محمد اور اس کے ساتھیوں پر حملہ کردیں لیکن ہمیں اس کی ہمت نہ ہوئی بلاشبہ اس میں بہتری تھی چنانچہ دعاعی لحاظ سے ہمیں اور پختہ یقین ہوتا چلا گیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کو نماز عصر پڑھائی اور نماز خوف پڑھائی یہ بات بھی میرے دل میں رچ بس گئی اور میں نے کہا : بلاشبی یہ شخص اپنے مضبوط دفاع میں ہے اور اس کے پاس بلا کی قوت بھی ہے ہم حملے کا خیال ترک کرکے چلے گئے جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے شہسواروں والا راستہ چھوڑ کر دائیں طرف سے چلے گئے جب قریش نے حدیبیہ میں صلح کرلی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قریش نے چٹیل میدان میں دھکیل دیا میں نے دل ہی دل میں کہا : اب کونسی چیز باقی رہی ہے، نجاشی کے پاس جانے کا کونسا راستہ رہا ہے جب کہ نجاشی نے محمد اور اس کے اصحاب کی اتباع اختیار کرلی ہے اور محمد کے اصحاب نجاشی کے پاس امن خوردہ ہیں، اگر میں ہرقل کی طرف جاتا ہوں تو اپنے دین دے نکلنا پڑتا ہے مجھے یا تو نصرانی ہونا پڑے گایا یہودی پھر مجھے ان عجمیوں کے ساتھ رہنا پڑے گا وسری صورت یہ ہے کہ میں اپنے گھر ہی میں بند ہو کر رہ جاؤں میں اسی شش وپنج میں تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ قضا کے لیے تشریف لائے میں غائب ہوگیا اور مکہ میں آپ کے داخلہ کے وقت حاضر نہیں ہوا آپ نے مجھے تلاش کیا مگر مجھے نہ پایا آپ نے میری طرف خط لکھا جس کا مضمون یہ ہے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ امابعد ! میں نے اس سے بڑھ کر کوئی بات عجیب تر نہیں دیکھی کہ تم اسلام سے بھاگ رہے ہو حالانکہ تمہاری عقل بےمثال ہے بھلااسلام جیسی چیز سے کون جاہل رہ سکتا ہے۔” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے متعلق پوچھا : خالد کہ ان ہے ؟ میں نے دل میں کہا : اللہ تعالیٰ اسے لائے گا آپ نے یہ بھی فرمایا : خالد جیسے لوگ اسلام سے جاہل نہیں رہ سکتے اگر خالد کی یلغار مسلمانوں کے ساتھ مل کر مشرکین کے خلاف ہوتی تو وہ اس کے لیے بدر بہتر تھی اور اسے ہم دوسروں پر مقدم کرتے آئے میرے بھائی مافات کا اشدراک کرو بلاشبہ بہت سارے نیکی کے مقام تجھ سے نکل چکے ہیں “ چنانچہ جب آپ کا خط مجھے ملا ممدینہ کی طرف چل پڑنے کا شوق مجھے بیقرار کرنے لگا اسلام کی طرف میری رغبت دوچند ہونے لگی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مکتوب گرامی نے میری فرحت و سرور میں اضافہ کردیا۔
حضرت خالد (رض) کہتے ہیں : ایک رات میں نے خواب دیکھا گویا میں کسی تنگ بےآب وگیاہ جگہ میں ہوں اور میں وہاں سے نکل کر کشادہ اور سرسبز و شاداب جگہ میں پہنچ گیا، میں نے سوچا یقیناً یہ سچا خواب ہے، چنانچہ جب میں مدینہ پہنچا میں نے کہا : میں ضرور ابوبکر سے اس خواب کا ذکر کروں گا کہتے ہیں : میں نے ابوبکر (رض) سے خواب بیان کیا ابوبکر (رض) نے فرمایا : یہ تمہارا کفر وشرک سے نکل کر اسلام و ہدایت کی طرف آنا ہے چنانچہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کوچ کرنے کا میرا پروگرام بن گیا میں نے سوچا محمد کے پاس جانے کے لیے میں کسے اپنا رفیق سفر بناؤن اس کے لیے میں نے صفوان بن امیہ سے ملاقات کی، میں نے اسے کہا : اے ابو وھب ! ہم جس چیز (یعنی کفر وشرک) میں پڑے ہوئے ہیں اس بارے تمہاری کیا رائے ہے ؟ بلاشبہ ہم تو ایک سر کا نوالہ ہیں عنقریب محمد عرب وعجم پہ چھایا چاہتا ہے لہٰذا ہم کیوں نہ محمد کی اتباع اختیار کریں یقیناً محمد کی برتری حقیقت میں ہماری برتی ہے۔ چنانچہ صفوان بن امیہ نے بڑی سختی سے انکار کردیا اور بولا : بالفرض قریش میں سے میرے سوا کوئی بھی باقی نہ رہے تب بھی میں محمد کی پیروی نہیں کروں گا۔ اس قدر بحث و مباحثہ کے بعد ہم جدا ہوگئے میں نے کہا : کہ شخص تو انتقام پر تلا ہوا ہے چونکہ اس کا باپ اور بھائی بدر میں قتل کردیئے گئے تھے، پھر اسی سلسلہ میں نے عکرمہ بن ابی جہل سے ب ملاقات کی اور اس کے آگے بھی میں نے یہی بات رکھی لیکن اس نے بھی صفوان کی طرح ٹکاسا جواب دے دیا، البتہ جاتے جاتے میں نے اس سے کہا : اتنا تو کرنا کہ میرا کسی سے ذکر نہ کرنا۔ بولا : کسی سے تمہارا ذکر نہیں کروں گا میں اپنے گھر واپس چلا گیا میں نے اپنی سواری تیار کرنے کا حکم دیا تاکہ میں عثمان بن ابی طلحہ سے ملوں میں نے سوچا : یہ میرا اچھا دوست ہے اگر میں ارادہ کا اس سے ذکر کردوں شاید یہ میری حمایت کرے چنانچہ میں اس کے پاس چلا گیا اور اس کے آباء کا ذکر کیا جو قتل کیے جاچکے تھے پھر میں نے اچھا نہ سمجھا کہ میں اپنے ارادہ کا اس سے ذکر کروں پھر میں نے سوچا اگر میں میں ابھی نکل جاؤں بھلا میرے آگے کو کسی رکاوٹ حائل ہے۔ بہرحال میں اسے مختلف راویوں سے گزارکر اصل مقصد پر لے آیا اور میں نے اس سے کہا : ہماری مثال اس لومڑ کی سی ہے جو کسی سوارخ میں دبکا بیٹھا ہو اگر اس پر کئی ڈول پانی انڈیلا جائے الامحالہ لومڑباہر آجائے گا پھر میں نے اس سے بھی اس طرح کی باتیں کیں جو میں نے پہلے اپنے دو دوستوں سے کی تھیں۔ چنانچہ اس نے مجھے جلد ہی تسلی بخش جواب دیا اور کہنے لگا : میں آج ہی کوچ کرنے کا سوچ رہا ہوں اور یہ میرا پختہ ارادہ ہے سامنے گھاٹی میں میری سواری تیاریی کھڑی ہے چنانچہ ہم نے آپس میں جائے ملاقات ” یا حج “ نامی جگہ متعین کردی کہ اگر وہ آگے نکل گیا تو وہ اس جگہ میرا انتظار کرے گا اور اگر میں آگے نکل گیا تو میں اس جگہ اس کا انتظار اس کا انتظار کروں گا چنانچہ ہم سحری کے قریب روانہ ہوگئے ابھی طلوع نہیں ہوئی تھی کہ ہم متعین جگہ (یا حج) پہنچ گئے وہاں سے ہم دونوں آگے چل پڑے اور مقام ھدہ ” جاپہنچے وہاں ہم سے حضرت عمرو بن العاص (رض) کو پایا، وہ بولے : مرحبا ہم نے کہا : تمہیں بھی مرحبا۔ عمرو (رض) بولے : کہاں کا ارادہ ہے ہم نے بھی فورا سوال داغ دیا کہ تم گھر سے کیوں باہر نکلے ہو ؟ انھوں نے بھی جواب میں ایک اور سوال دے مارابولے : تمہیں کس چیز نے نکلنے ہر مجبور کیا ہے ؟ ہم نے ہی جواب دیا : اور ہمیں کو گھتی سلجھانی پڑی ہم نے کہا : ہم اسلام میں داخل ہونا چاہتے ہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ عمرو بن العاص (رض) بولے : یہی چیز مجھے بھی یہاں تک لے آئی ہے۔ حضرت خالد (رض) کہتے ہیں : ہم سب اکٹھے مدینہ پہنچے اور مقام صرہ میں اپنی سواریاں بٹھائیں اتنھے میں ہماری آنے کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر کی گئی آپ ہماری آمد پر بےحد خوش ہوئے میں نے اپنا عمدہ جوڑا زیب تن کررکھا تھا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضری کا ارادہ کیا اتنے میں میرا بھائی مجھ سے ملا اس نے کہا : جلدی کرو، چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمہاری آمد پر بےحد خوشی ہوئی ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے انتظار میں ہیں، چنانچہ میں نے نہ آؤدیکھا نہ تاؤ جلدی جلدی قدم اٹھاتا ہوا خدمت اقدس میں حاضر ہوا جب میں نمودار دیکھا کہ ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسکراہٹ بھرے مبارک ہونٹوں سے تسم کے پیالے بھرے جارہے ہیں میں کھڑا ہوگیا اور سلام پیش کیا آپ نے مسکراتے چہرے سے سلام کا جواب دیا میں نے عرض کیا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمام تعریفین اس ذات کے لیے ہیں جس نے تمہیں ہدایت سے بہرہ مند کیا میں نے تمہارے اندر عقل سلیم کا وجدان کرلیا تھا مجھے پختہ امید تھی اسلام قبول کرنا خیروبھلائی کا پیغام ہے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ بہت ساری جنگوں میں نہایت سختی سے حق سے روگردانی کی ہے اور آپ کے خلاف لڑتا رہا ہوں لہٰذا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ کیری بخشش کردے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام گزشتہ کے تمام تر گناہوں کا لعدم کردیتا ہے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ آپ دعا فرمادیں آپ نے فرمایا : یا اللہ ! خالد بن ولید جہاں جہاں بھی تیری راہوں میں رکاوٹ بننے کے لیے نمودار ہوا ہے اسے سب معاف فرمادے حضرت خالد (رض) کہتے ہیں : پھر عمر وبن العاص اور عثمان بن ابی طلحہ (رض) آگے بڑھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر بیعت کی ہم سن ٨ ہجری ماہ صفر خدمت ہوئے تھے اللہ کی قسم جس دن میں نے اسلام قبول کیا اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی جنگ میں اپنے صحابہ میں سے کسی کو بھی میرے ہم پلہ نہیں سمجھا۔ (رواہ الواقدی ابن عساکر)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔