HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37147

37137 (مسند علي) الواقدي حدثني أبو بكر وإسماعيل ابن محمد عن أبيه عن عامر بن سعد عن أبيه قال : رميت يوم بدر سهيل بن عمرو فقطعت علياه فاتبعت أثر الدم حتى وجدته قد أخذه مالك بن الدخشم وهو آخذ بناصيته فقلت : أسيري رميته ، فقال مالك : أسيري أخذته فأتيا رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فأخذه منهما جميعا ، فأفلت بالروحاء من مالك بن الدخشم ، فصاح في الناس فخرج في طلبه ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : من وجده فليقتله ، فوجده النبي صلى الله عليه وسلم نفسه فلم يقتله ، قال الواقدي : لما أسر سهيل بن عمرو قال عمر : يا رسول الله انزع ثنيته يدلع لسانه فلا يقوم عليك خطيبا أبدا ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا أمثل فيمثل الله بي وإن كنت نبيا ولعله يقوم مقاما لا تكرهه ، فقام سهيل بن عمرو حين بلغه وفاة النبي صلى الله عليه وسلم بخطبة أبي بكر كأنه كان يسمعها ، فقال عمر حين بلغه كلام سهيل : أشهد أنك رسول الله حيث قال النبي صلى الله عليه وسلم : لعله يقوم مقاما لا تكرهه ، وكان سهيل بن عمرو لما كان بشنوكة كان مع مالك بن الدخشم فقال : خل سبيلي للغائط ، فقام به فقال سهيل : إني أحتشم ، فاستأخر عنه ومضي سهيل على وجهه ، فلما أبطأ سهيل على مالك بن الدخشم أقبل فصاح في الناس ، فخرجوا في طلبه وخرج النبي صلى الله عليه وسلم في طلبه فقال : من وجده فليقتله ، فوجده رسول الله صلى الله عليه وسلم نفسه بين سمرات ، فأمر به فربطت يداه إلى عنقه ثم قرنه إلى راحلته فلم يركب خطوة حتى قدم المدينة فلقي أسامة بن زيد. فحدثني إسحاق بن حازم عن عبيد الله بن مقسم عن جابر بن عبد الله قال : لقي رسول الله صلى الله عليه وسلم أسامة بن زيد ورسول الله صلى الله عليه وسلم على راحلته القصوى فأجلسه رسول الله صلى الله عليه وسلم بين يديه وسهيل مجنوب يداه إلى عنقه فلما نظر أسامة إلى سهيل قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أبو يزيد ؟ قال : نعم ، هذا الذي كان يطعم الخبز بمكة (عق ، شنوكة ماء بين السقيا وملل جبل قريب من بدر).
٣٧١٣٦۔۔۔” مسند علی “ واقدی ابوبکر واسماعیل ابن محمد، اپنے والد سے عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : بدر کے دن میں نے سہیل بن عمرو کے تیرمارا جس سے انھیں گہرازخم لگامیں خون کے نشانات دیکھتا ہوا ان کے پیچھے گیا چنانچہ انھیں مالک بن خشم (رض) نے پکڑ رکھا تھا میں نے کہا : یہ میرا قیدی ہے چونکہ میں نے ہی اسے تیر سے زخمی کیا ہے۔ جب کہ مالک (رض) نے کہا : یہ میرا قیدی ہے چونکہ میں نے اسے پکڑا ہے۔ دونوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی کریم نے فیصلہ کیا کہ تم دونوں نے اسے قید کیا ہے چنانچہ روحاء نامی جگہ سے مالک بن وخشم (رض) کے ہاتھ سے سہیل بن عمرو نکل بھاگے مالک (رض) نے لوگوں میں اعلان کیا اور خود ان کی تلاش میں نکل گئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو بھی اسے پائے اسے قتل کردے چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود انھیں پایا اور قتل نہیں کیا جب سہیل بن عمرو (رض) قید ہوگئے حضرت عمر (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یارسول اللہ ! اس کے دانت نکلوادیں تاکہ اس کی زبان لٹک جائے اور آپ کے خلاف تقریریں کرنے کبھی کھڑا ہو۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا : میں اسے مثلہ نہیں کرتا چونکہ اللہ تعالیٰ مجھے مثلہ کردے اگرچہ میں نبی ہی کیوں نہ ہوں ۔ ہوسکتا ہے یہ ایسے مقام پر کھڑا ہو جسے تم اچھا سمجھو۔ چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رحلت کے موقع پر سہیل بن عمرو (رض) لوگوں سے خطاب کرنے کھڑے ہوئے اور وہی خطاب کیا جو ابوبکر (رض) نے مدینہ میں لوگوں سے کیا تھا گویا وہی خطاب سن لیا ہو۔ جب حضرت عمر (رض) کو ان کے خطاب کا علم ہوا فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اللہ کے قاصد ہو چونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چونکہ ارشاد فرمایا تھا : شاید وہ ایسے مقام پر کھڑا ہو جو تمہیں پسند ہو۔ جب سہیل بن عمرو (رض) مقام ” شنو کہ پہنچے اور وہ مالک بن دخشم (رض) کے ساتھ تھے سہیل (رض) بولے : میں قضائے حاجت کے لیے جانا چاہتا ہوں لہٰذا میرا راستہ چھوڑدوں چنانچہ مالک (رض) ان کے قریب ہی کھڑے ہوگئے سہیل (رض) کہتے ہیں : اس پر میری طبیعت سخت منقیض ہوئی اور مجھے غصہ آگیا ، مالک (رض) پیچھے ہٹ گئے اور سہیل (رض) نے موقع فرار مناسب سمجھتے ہوئے سیدھے آگے نکل گئے جب سہیل (رض) کافی تاخیر کردی اور واپس نہ لوٹے تو مالک معاملہ جانچ گئے اور لوگوں میں ان کے بھاگ جانے کا اعلان کردیا صحابہ (رض) ان کی تلاش میں چل پڑے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود بھی ان کی تلاش میں نکل گئے اور اعلان کردیا : جو بھی اسے پائے وہ اسے قتل کردے چنانچہ سہیل (رض) کو خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پکڑلیا سہیل (رض) ببول کے درختوں میں چھپے بیٹھے تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ہاتھ گردن سے باندھ دینے کا حکم دیا اور پھر انھیں اپنی سواری کے ساتھ ساتھ پیدل چلنے کا حکم دیا ، حتیٰ کہ جب مدینہ پہنچے اسامہ بن زید (رض) سے ملاقات ہوئی مجھے اسحاق بن حازم نے عبیداللہ بن مقسم کے واسطہ سے جابربن عبداللہ (رض) کی روایت سنائی ہے جابر بن عبداللہ (رض) کی روایت سنائی ہے جابر (رض) کہتے ہیں : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اسامہ بن زید (رض) سے ملاقات ہوئی دراں حالیکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی قصوی نامی اونٹنی پر سوار تھے آپ نے اسامہ (رض) کو اپنے آگے سوار کرلیاجب کہ سہیل (رض) کے ہاتھ گردن سے بندھے ہیں تھے اور پیدل چل رہے تھے جب اسامہ (رض) نے سہیل (رض) کی طرف دیکھاتو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابویزید ! عرض کیا جی ہاں فرمایا : یہ وہی شخص ہے کہ جو میں روٹیاں کھاتا تھا۔ (رواہ العقیلی) فائدہ :۔۔۔ شنو کہ نامی جگہ سقبا اور ملل کے درمیان بدر کے قریب ایک پہاڑ ہے۔

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔