HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37278

37268- "أيضا" عن سعد قال: لما قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة جاءت جهينة فقالت: إنك قد نزلت بين أظهرنا فأوثق لنا حتى نأمنك وتأمنا، فأوثق لهم ولم يسلموا، فبعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في رجب ولم نكن مائة وأمرنا أن نغير على حي من كنانة إلى جنب جهينة فأغرنا عليهم وكانوا كثيرا، فلجأنا إلى جهينة وشعبها فقالوا: لم تقاتلون في الشهر الحرام؟ فقلنا: إنما نقاتل من أخرجنا من البلد الحرام في الشهر الحرام، فقال بعضنا لبعض: ما ترون؟ قالوا:نأتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فنخبره، وقال قوم: لا بل نقيم ههنا، وقلت أنا في أناس معي: لا بل نأتي عير قريش هذه فنضيبها، فانطلقنا إلى العير وانطلق أصحابنا إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبروه الخبر، فقام غضبانا محمرا لونه ووجهه فقال: ذهبتم من عندي جميعا وجئتم متفرقين، إنما أهلك من كان قبلكم الفرقة، ولأبعثن عليكم رجلا ليس بخيركم أصبركم على الجوع والعطش، فبعث علينا عبد الله بن جحش الأسدي، فكان أول أمير في الإسلام. "ش".
٣٧٢٦٧۔۔۔” ایضا “ حضرت سعد (رض) کہتے ہیں : جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تو قبیلہ جہینہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا انھوں نے عرض کیا : آپ ہمارے درمیان اترے ہیں لہٰذا آپ ہمارے کو استوار کرجائیں تاکہ آپ ہم پر بھروسہ کریں اور ہم آپ پر چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے میثاق لکھ دیا جب کہ یہ قبیلہ ابھی اسلام نہیں لایا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ماہ رجب میں کنانہ کی ایک بستی پر غارتگری ڈھانے بھیجا یہ بستی جہینہ کے پاس ہی آباد تھی ہماری تعداد سو سے زیادہ نہیں تھی جب کہ وہ ہم سے زیادہ تھے ہم نے انھیں لوٹا ہم جہینہ میں آکر ٹھہرے جہینہ کے لوگوں نے پوچھا : تم نے حرمت والے مہینے میں قتال کیوں کیا ہے ؟ ہم نے کہا : ہم نے تو ان لوگوں سے قتال کیا ہے جنہوں نے ہمیں حرمت والے مہینے میں حرمت والے شہر سے نکالا ہے اس متعلق ہم ایک دوسرے سے چہ میگوئیاں کرنے لگے کہ تمہارا کیا خیال ہے ؟ صحابہ (رض) نے کہا : ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاکر انھیں خبر کرنی چاہیے۔ جب کہ بعض صحابہ (رض) نے کہا : نہیں بلکہ ہمیں یہیں قیام کرنا چاہیے میں نے کہا جب کہ میرے ساتھ بھی کچھ لوگ تھے نہیں بلکہ ہمیں قریش کے اس قافلہ کے پاس جانا چاہے اور انھیں لوٹنا چاہیے ہم قریش کے قافلہ کو لوٹنے چل پڑے جب کہ ہمارے دوسرے ساتھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف چل پڑے انھوں نے آپ کو سارا واقعہ سنایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سخت غصہ میں سرخ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا : تم میرے پاس سے اکٹھے گئے تھے اور اب جدا جدا واپس لوٹ رہے ہو۔ تم سے پہلی قوموں کو تفرقہ نے ہلاک کیا ہے۔ البتہ میں تمہارے اوپر ایسے شخص کو امیر مقرر کرتا ہوں جو بھوک اور پیاس پر زیادہ سے زیادہ صبر کرتا ہے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ بن جحش اسدی (رض) کو ہمارا امیر مقرر کیا اور یہ اسلام میں پہلے امیر مقرر کئے گئے تھے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔