HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37293

37283- عن أبي رافع قال: وجه عمر بن الخطاب جيشا إلى الروم وفيهم رجل يقال له عبد الله بن حذافة من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فأسره الروم فذهبوا به إلي ملكهم فقالوا له: إن هذا من أصحاب محمد، فقال له الطاغية: هل لك أن تنصر وأشركك في ملكي وسلطاني؟ فقال له عبد الله: لو أعطيتني جميع ما تملك وجميع ما ملكته العرب على أن أرجع عن دين محمد صلى الله عليه وسلم طرفة عين ما فعلت! قال: إذن أقتلك، قال: أنت وذاك! فأمر به فصلب، وقال للرماة: ارموه قريبا من يديه قريبا من رجليه، وهو يعرض عليه وهو يأبى، ثم أمر به فأنزل، ثم دعا بقدر فصب فيها ماء حتى احترقت، ثم دعا بأسيرين من المسلمين فأمر بأحدهما فألقي فيها وهو يعرض عليه النصرانية وهو يأبى ثم أمر به أن يلقى فيها، فلما ذهب به بكى، فقيل له إنه قد بكى فظن أنه جزع فقال: ردوه فعرض عليه النصرانية فأبى، قال: فما أبكاك إذن؟ قال: أبكاني أني قلت في نفسي: تلقى الساعة في هذه القدر فتذهب، فكنت أشتهي أن يكون بعدد كل شعرة في جسدي نفس تلقى في الله،قال له الطاغية: هل لك أن تقبل رأسي وأخلي عنك؟ فقال له عبد الله: وعن جميع أسارى المسلمين؟ قال: وعن جميع أسارى المسلمين، قال عبد الله: فقلت في نفسي عدو من أعداء الله أقبل رأسه يخلي عني وعن أسارى المسلمين لا أبالي، فدنا منه فقبل رأسه فدفع إليه الأسارى فقدم بهم على عمر فأخبر عمر بخبره، فقال عمر: حق على كل مسلم أن يقبل رأس عبد الله بن حذافة وأنا أبدأ، فقام عمر فقبل رأسه. "هب، كر".
٣٧٢٨٢۔۔۔ ابورفع کی روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب (رض) نے روم کی طرف ایک لشکر روانہ کیا اس میں ایک شخص تھا جسے عبداللہ بن حذافہ (رض) کہا جاتا تھا اور وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (رض) میں سے تھا اتفاقارومی اسے قید کرکے اپنے ملک میں لے گئے وہاں جاکر انھوں نے اپنے بادشاہ سے کہا یہ شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریبی ساتھیوں میں سے ہے روم کے سرکش گمراہوں نے حضرت عبداللہ بن حذافہ (رض) سے کہا : اگر تم نصرانی ہوجاؤ تو ہم تمہیں اپنی حکومت اور سلطنت میں شامل کرلیں گے حضرت عبداللہ (رض) نے جواب دیا : اگر تم مجھے اپنی حکومت کا سب کچھ دے دو اور ہر وہ چیز دے دو جس کے عرب مالک ہیں میں پل بھرکے لیے بھی دین محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روگرسانی نہیں کروں گارومیوں نے آپ (رض) کو دھمکی دی ہم تمہیں قتل کردیں گے فرمایا : تم اس سے اپنا جی بھرلو۔ چنانچہ بادشاہ کے حکم سے انھیں سولی پہ لٹکادیا گیا اور تیراندازوں کو حکم دیا کہ اسے قریب سے ہاتھوں اور ٹانگوں کے درمیان تیرمارو۔ وہ برابر نصرانیت کی پیشکش کرتا رہا لیکن آپ برابر انکار کرتے رہے تاہم آپ کو تختہ دار سے گلے میں رسی ڈالنے سے قبل اتار دیا گیا پھر روم کے بادشاہ نے ایک بڑی دیگ منگوائی اسمیں پانی بھروایا پھر اس کے نیچے آگ جلوائی جب پانی خوب کھول گیا تو بادشاہ نے دو مسلمان قیدی طلب کیے اور پھر ان میں سے ایک کھولتی ہوئی دیگ میں ڈال دیا آپ (رض) کو ایک بار پھر نصرانیت کی پیشکش کی گئی مگر آپ انکار پر مصر رہے پھر بادشاہ نے آپ (رض) کو دیگ میں ڈالنے کا حکم دیا جب آپ (رض) کو لے جایا جانے لگا تو آپ (رض) رو پڑے ، بادشاہ کو آپ (رض) کے رونے خبردی گئی وہ سمجھا شاید دیگ کو دیکھ کر گھبرا گیا ہو واپس کرنے کا حکم دیا ایک بار پھر نصرانیت کی پیشکش کی آپ نے انکار کردیا بادشاہ نے پوچھا : پھر تم روئے کیوں ہو ؟ فرمایا : مجھے اس چیز نے رلایا ہے کہ میری ایک ہی جان ہے جو دیگ میں پڑتے ہی ختم ہوجاوے گی میں چاہتا ہوں کہ میرے جسم پر جتنے بال ہیں ان کے بقدر مجھے ہر بارنئی جان ملتی رہے جو اللہ کی راہ میں قربان ہوتی رہے۔ رومیوں کے بادشاہ نے کہا : کیا تم میرے سر کا بوسہ لے سکتے ہو میں تمہارا راستہ چھوڑدوں گا (یعنی تمہیں رہا کردوں گا) عبداللہ (رض) نے فرمایا : میرا یہ بوسہ سب مسلمان قیدیوں کی طرف سے ہوگا (لہذا تمہارا ی قید میں جو مسلمان ہیں وہ تمہیں رہا کرنے ہوں گے) بادشاہ نے آپ (رض) کے اس مطالبہ کو منظور کرلیا۔ عبداللہ (رض) کہتے ہیں : میں نے دل میں سوچا یہ کافر اللہ کا دشمن ہے اگر اس کے سر کا بوسہ لے کر میں اپنی اور مسلمان قیدیوں کی جان بخشی کرالوں اس میں کیا حرج ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ (رض) بادشاہ کے قریب ہوئے اور اس کے سر کا بوسہ لے لیا اور اس کے بدلہ میں مسلمان قیدی آپ (رض) کے سپرد کردیئے گئے جب حضرت عمر (رض) کو اس واقعہ کی خبر دی گئی تو انھوں نے فرمایا : ہر مسلمان کا حق بنتا ہے کہ وہ عبداللہ بن حذافہ (رض) کے سرکا بوسہ لے میں اپنے سے ابتداء کرتا ہوں حضرت عمر (رض) کھڑے ہوئے اور عبداللہ بن حذافہ (رض) کے سر کا بوسہ لیا۔ (رواہ البیھقی فی شعب الایمان وابن عساکر)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔