HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37768

37758- "مسند أنس" "ابن جرير" حدثني محمد بن الهيثم حدثني الحسن ابن حماد حدثنا يحيى بن يعلى الأسلمي عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن الحسن عن أنس بن مالك قال: جاء أبو بكر إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقعد بين يديه فقال: يا رسول الله! قد علمت مناصحتي وقدمي في الإسلام وإني وإني، قال: وما ذاك؟ قال: تزوجني فاطمة! فسكت عنه - أو قال: أعرض عنه - فرجع أبو بكر إلى عمر فقال: هلكت وأهلكت، قال: وما ذاك؟ قال: خطبت فاطمة إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأعرض عني، قال: مكانك حتى آتي النبي صلى الله عليه وسلم فأطلب مثل الذي طلبت، فأتى عمر النبي صلى الله عليه وسلم فقعد بين يديه فقال: يا رسول الله! قد علمت مناصحتي وقدمي في الإسلام وإني وإني، قال: وما ذاك؟ قال: تزوجني فاطمة! فأعرض عنه، فرجع عمر إلى أبي بكر فقال: إنه ينتظر أمر الله فيها، انطلق بنا إلى علي حتى نأمره أن يطلب مثل الذي طلبنا، قال علي: فأتياني وأنا أعالج فسيلا فقالا: ابنة عمك تخطب! قال: فنبهاني لأمر، فقمت أجر ردائي طرفا على عاتقي وطرفا أجره على الأرض حتى أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقعدت بين يديه فقلت: يا رسول الله؟ قد عرفت قدمي في الإسلام ومناصحتي وإني وإني، قال: وما ذاك يا علي؟ قلت تزوجني فاطمة! قال: وعندك شيء؟ قلت: فرسي وبدني - قال: أعني درعي -قال: أما فرسك فلا بد لك منها، وأما درعك فبعها، فبعتها بأربعمائة وثمانين فأتيته بها فوضعتها في حجره، فقبض منها قبضة فقال: يا بلال! ابغنا بها طيبا، وأمرهم أن يجزوها، فجعل لهم سرير شرط بالشرط ووسادة من أدم حشوها ليف وملء البيت - كثيبا يعني رملا - وقال لي: إذا أتتك فلا تحدث شيئا حتى آتيك، فجاءت مع أم أيمن حتى قعدت في جانب البيت وأنا في جانب وجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ههنا أخي؟ فقالت أم أيمن؟ أخوك أو أخوك وقد زوجته ابنتك! قال: نعم، فدخل فقال لفاطمة: ائتيني بماء. فقامت إلى قعب1 في البيت فجعلت فيه ماء فأتت به، فأخذه فمح فيه ثم قال لها: قومي، فنضح بين ثدييها وعلى رأسها وقال: الل هم! أعيذها بك وذريتها من الشيطان الرجيم، وقال لها: أدبري، فأدبرت فنضح بين كتفيها ثم قال: اللهم! إني أعيذها بك وذريتها من الشيطان الرجيم، ثم قال لعلي: ائتيني بماء، فعلمت الذي يريد فقمت فملأت القعب ماء فأتيته به، فأخذ منه بفيه ثم مجه فيه ثم صب على رأسي وبين ثديي ثم قال: اللهم! إني أعيذه بك وذريته من الشيطان الرجيم، ثم قال: أدبر، فأدبرت فصب بين كتفي وقال: اللهم! إني أعيذه بك وذريته من الشيطان الرجيم، وقال لي: ادخل بأهلك باسم الله والبركة.
٣٧٧٥٥۔۔۔” مسند انس (رض) “ ابن جریر محمد بن ھیشم حسن بن حماد یحییٰ بن یعلی اسلمی سعید بن ابی عروری قتادہ حسن کے سلسلہ سند سے مروی ہے کہ حضرت انس (رض) کہتے ہیں حضرت ابوبکر صدیق (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے بیٹھ گئے اور عرض کیا : یارسول اللہ آپ کو میری خیر خواہی کا بخوبی علم ہے اور اسلام میں میری قدامت کو بھی آپ جانتے ہیں نیز میرا آپ سے ایسا اور ایسا تعلق رہا ہے آپ نے فرمایا : تم کیا چاہتے ہو ؟ عرض کیا : فاطمہ (رض) سے میری شادی کرادیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر خاموش رہے یا کہا : آپ نے اعراض کرلیا۔ ابوبکر (رض) حضرت عمر (رض) کے پاس واپس لوٹے اور فرمایا : میں ہلاک ہوگیا اور مجھے ہلاک کردیا گیا۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : وہ کیوں ؟ ابوبکر (رض) نے فرمایا : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فاطمہ کے لیے پیغام نکاح دیا اور آپ نے اعراض کرلیا : حضرت عمر (رض) نے کہا : آپ اپنی جگہ رہیں حتیٰ کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاتا ہوں اور اس مقصد کا اظہار کرتا ہوں۔ چنانچہ عمر (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ کے سامنے بیٹھ گئے اور عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ میری خیر خواہی کو تو بخوبی جانتے ہیں اور اسلام میں میری قدامت کو بھی آپ جانتے ہیں میرا آپ سے ایسا اور ایسا تعلق رہا ہے۔ (اور وہ اب بھی ہے) آپ نے فرمایا : کیا چاہتے ہو ؟ عرض کیا : فاطمہ (رض) سے میری شادی کرادیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعراض کرلیا حضرت عمر (رض) حضرت ابوبکر (رض) کے پاس واپس لوٹ آئے اور کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کی انتظار میں ہیں چلیں اب ہم علی کے پاس جاتے ہیں اور انھیں کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاکر یہی مقصد ظاہر کرین حضرت علی (رض) کہتے ہیں یہ دونوں حضرات شیخین میرے پاس آئے اس وقت میں کھجوروں کے پودے لگارہا تھا انھوں نے فرمایا : تمہارے چچا کی بیٹی کو نکاح دیا جارہا ہے حضرت علی (رض) کہتے ہیں : انھوں نے مجھے ایک نام کے لیے جگادیا میں اپنی چادر لیے اٹھ کھڑا ہوا چادر کا ایک پلو میرے کاندھے پر تھا اور درسرازمین پر گھسٹ رہا تھا حتیٰ کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یارسول اللہ ! آپ میری خیر خواہی سے بخوبی واقف ہیں اور میری اسلام میں قدامت کو بھی آہ جانتے ہیں نیز میرا آپ سے ایسا اور ایسا تعلق ہے فرمایا : کیا چاہتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : آپ فاطمہ (رض) سے میری شادی کرادیں فرمایا : تمہاری پاس کوئی چیز ہے “۔ میں نے کہا میرے پاس میرا گھوڑا اور میری زرہ ہے آپ نے فرمایا : رہی بات گھوڑے کی سوا کوئی چارہ کار ہیں البتہ زرہ نیچ دو مں نے ٢٨٠ درہم میں زرہ بیچ دی اور رقم لا کر آپ کی گود میں ڈھیر کردی آپ نے اس میں سے مٹھی بھر درہم اٹھائے اور بلال (رض) کو دے کر فرمایا : اے بلال ان درہم کی ہمارے لیے خوشبو خرید لاؤ آپ نے ایک چارپائی ایک تکیہ جو چھال سے بھرا ہوا تھا جہیز میں دیا جب کہ میرا گھر ریت سے اٹا پڑا تھا آپ نے فرمایا جب فاطمہ (رض) تمہارے پاس پہنچ جائے کچھ نہیں کرنا۔ حتیٰ کہ میں تمہارے پاس آجاؤں چنانچہ فاطمہ (رض) ام ایمن (رض) کے ہمراہ آئی اور گھر میں ایک طرف بیٹھ گئی جب کہ میں دوسری طرف بیٹھا ہوا تھا اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے، آتے ہی فرمایا : علی میرا بھائی ہے۔ ام ایمن (رض) نے جواب دیا : وہ آپ کا بھائی ہے حالانکہ آپ نے اپنی بیٹی سے اس کی شادی کرائی ہے فرمایا : جی ہاں آپ اندر تشریف لائے اور فاطمہ سے فرمایا : میرے پاس پانی لاؤ چنانچہ فاطمہ (رض) نے ایک پیالہ اور اس میں پانی ڈال کر آپ کے پاس لائی آپ نے پانی میں کلی کی اور پھر فاطمہ (رض) سے فرمایا : کھڑی ہوجا جب وہ کھڑی ہوگئیں تو آپ نے پانی ان کے سر اور سینے پر بھی بہادیا اور فرمایا : یا اللہ ! میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں آپ نے فاطمہ (رض) سے فرمایا : پیٹھ پھیرو فاطمہ (رض) نے آپ کی طرف پیٹھ کردی اور آپ نے کچھ پانی فاطمہ (رض) کا کاندھوں پر انڈیل دیا پھر فرمایا : یا اللہ ! میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں پھر حضرت علی (رض) سے پانی لانے کو فرمایا حضرت علی کہتے ہیں۔ میں آپ کے ارادہ کو جانتا تھا میں اٹھا اور پانی سے پیالا بھر لایا آپ نے پانی میں کلی کی اور پھر میرے سینہ اور سر پر بہادیا پھر فرمایا : اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں پھر فرمایا : پیٹھ پھیرو میں نے آپ کی طرف پیٹھ پھیر دی آپ نے میرے کاندھوں پر پانی بہادیا اور فرمایا : میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں ۔ پھر آپ نے مجھے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نام اور اس کی برکت کے ساتھ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ گھر میں داخل ہوجاؤ۔

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
Kanz al-Ummal: 37768 | undefined - Hadith.one