HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37836

37823- عن أسير بن جابر قال: كان عمر بن الخطاب إذا أتى عليه أمداد أهل اليمن سألهم: أفيكم أويس بن عامر؟ حتى أتى على أويس فقال: أنت أويس بن عامر؟ قال: نعم، قال: من مراد ثم من قرن؟ قال: نعم، قال: فكان بك برص فبرأت منه إلا موضع درهم؟ قال: نعم، قال: لك والدة؟ قال: نعم، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "يأتي عليكم أويس بن عامر مع أمداد أهل اليمن من مراد ثم قرن، كان به برص فبرأ منه إلا موضع درهم، له والدة هو بها بر، لو أقسم على الله لأبره! فإن استطعت أن يستغفر لك فافعل"، فاستغفر لي، فاستغفر له، فقال له: أين تريد؟ قال: الكوفة، قال: ألا أكتب لك إلى عاملها فيستوصي بك قال: لا أكون في غبر1الناس أحب إلي، فلما كان من العام المقبل حج رجل من أشرافهم فوافق عمر فسأله عن أويس كيف تركته فقال: تركته رث البيت قليل المتاع، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "يأتي عليكم أويس بن عامر مع أمداد أهل اليمن من مراد ثم قرن، كان به برص فبرأ منه إلا موضع درهم، له والدة هو بها بر، لو أقسم على الله لأبره! فإن استطعت أن يستغفر لك فافعل"، فأتى أويسا فقال: استغفر لي، قال: أنت أحدث عهدا بسفر صالح فاستغفر لي، قال: استغفر لي، قال: لقيت عمر؟ قال نعم، فاستغفر له، ففطن له الناس فانطلق على وجهه. "ابن سعد، م وأبو عوانة والروياني، ع، حل، ق في الدلائل" وهكذا ترجم له صاحب الحلية أبي نعيم ترجمة واسعة /79" وقال أويس بن عامر القرني سيد العباد وعلم الأصفياء من الزهاد بشر النبي صلى الله عليه وسلم به وأوصى به أصحابه. ص.
٣٧٨٢٣۔۔۔ اسیر بن جابر سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس جب اہل یمن کی امداد آئی تو آپ (رض) نے ان (اہل یمن) سے پوچھا : کیا تمہارے ساتھ اویس بن عامر بھی ہیں ؟ پھر (ان کے بتانے پر) آپ اویس (رح) کے پاس تشریف لائے اور ان سے پوچھا : کیا آپ اویس ہیں ؟ حضرت اویس (رح) بولے : جی ہاں۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : کیا آپ کو برص کی بیماری تھی پھر وہ صحیح ہوگئی مگر پھر بھی ایک درہم کی جگہ باقی رہ گئی ہے ؟ حضرت اویس (رح) نے عرض کیا : جی ہاں۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : کیا آپ کی والدہ (حیات) ہیں ؟ عرض کیا : جی ہاں۔ تب حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : تمہارے پاس اہل یمن کی امداد کے ساتھ اویس بن عامر آئیں گے جن کا تعلق قبیلہ مراد کی قرن شاخ سے ہوگا۔ ان کو پہلے برص کی بیماری ہوئی ہوگی جو ایک درہم کے سوا صحیح ہوچکی ہوگی ان کی والدہ ہوگی جن کے ساتھ وہ (بہت) نیکی کرنے والے ہوں گے۔ اگر وہ اللہ پر قسم کھالیں تو اللہ ان کی قسم کو پوری فرمادیں گے۔
(اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا) اگر تو ان سے اپنے لیے استغفار کرواسکے تو ضرور کرا لینا۔
پھر حضرت عمر (رض) نے ان سے استغفار کی درخواست کی تو حضرت اویس (رح) نے ان کے لیے استغفار کیا۔
پھر حضرت عمر (رض) نے ان سے پوچھا : اب آپ کا کہاں جانے کا قصد ہے ؟
انھوں نے عرض کیا : کوفہ جانے کا قصد ہے۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : کیا میں آپ کے لیے کوفہ کے گورنر کو خط نہ لکھ دوں ؟ وہ آپ کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا ؟ حضرت اویس (رح) اللہ علیہ نے فرمایا : نہیں، میں عام گمنام لوگوں میں رہنا پسند کرتا ہوں۔
پھر آئندہ سال کوفہ کے اشراف لوگوں میں سے ایک شخص حج پر آیا تو حضرت عمر (رض) سے اس کی ملاقات ہوئی۔ حضرت عمر (رض) نے اس سے اویس (رح) کے متعلق پوچھا کہ جب تم آئے تو وہ کس حال میں تھے ؟ کوفی نے جواب دیا : میں نے جب ان کو چھوڑا تو ان کے گھر کا حال برا تھا اور وہ بےسروسامانی کی حالت میں تھے۔ حضرت عمر (رض) نے (وہی حدیث سنائی اور ) فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تھا : تمہارے پاس اہل یمن کی امداد کے ساتھ اویس بن عامر (رح) آئیں گے جو قبیلہ مراد کی قرن شان سے ہوں گے۔ ان کو برص لاحق ہوگا پھر وہ اس سے شفایاب ہوجائیں گے سوائے ایک درہم کی جگہ کے۔ ان کی والدہ ہوگی جس کے ساتھ وہ بہت نیکی برتنے والے ہوں گے۔ اگر وہ اللہ پر قسم کھالیں تو اللہ ان کی قسم کو پورا فرمادیں گے۔ اگر تم سے ہوسکے کہ ان سے استغفار کرواؤ تو ضرور کرالینا۔
چنانچہ وہ کوفی شخص واپسی میں حضرت اویس (رح) کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا۔ میرے لیے استغفار
کر دیجئے۔ حضرت اویس (رح) نے فرمایا : تم مبارک سفر سے نئے نئے لوٹے ہو تم میرے استغفار کرو۔ کوفی نے عرض کیا : آپ میرے لیے استغفار کر دیجئے۔ تب حضرت اویس (رح) نے اس شخص سے پوچھا : کیا تو حضرت عمر (رض) سے ملا تھا ؟ اس نے اثبات میں جواب دیا۔ تب حضرت اویس (رح) نے اس کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا۔
اب لوگوں کو ان کے مرتبے کا علم ہوگیا جس کی و جہ سے وہ وہاں سے کہیں اور کوچ کرگئے۔ (ابن سعد، مسلم، ابوعوانۃ، الرویانی، مسند ابی یعلی، حلیۃ الاولیاء، الدلائل البیھقی)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
Kanz al-Ummal: 37836 | undefined - Hadith.one