HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37837

37824- عن أسير بن جابر قال: كان محدث بالكوفة يحدثنا فإذا فرغ من حديثه تفرقوا ويبقى رهط فيهم رجل يتكلم بكلام لا أسمع أحدا يتكلم كلامه فأحببته ففقدته، فقلت لأصحابي: هل تعرفون رجلا كان يجالسنا كذا وكذا؟ فقال رجل من القوم: نعم أنا أعرفه، ذاك أويس القرني، قلت: فتعلم منزله؟ قال: نعم، فانطلقت معه حتى ضربت حجرته فخرج إلي قلت: يا أخي؟ ما حبسك عنا؟ قال: العري، وكان أصحابي يسخرون به ويؤذونه، قلت: خذ هذا البرد فالبسه، قال: لا تفعل، فإنهم إذا يؤذونني إن رأوه علي، فلم أزل به حتى لبسه فخرج عليهم فقالوا: من ترون خدع عن برده هذا؟ فجاء فوضعه وقال: ألا ترى! فأتيت المجلس فقلت: ما تريدون من هذا الرجل؟ قد آذيتموه، الرجل يعرى مرة ويكتسى مرة، فأخذتهم بلساني أخذا شديدا، فقضي أن أهل الكوفة وفدوا إلى عمر فوفد رجل ممن كان يسخر به فقال عمر: هل ههنا أحد من القرنيين؟ فجاء ذلك الرجل، فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد قال: "إن رجلا يأتيكم من اليمن يقال له أويس لا يدع باليمن غير أم له، وقد كان به بياض فدعا الله فأذهبه عنه إلا مثل موضع الدرهم، فمن لقيه منكم فمروه فليستغفر لكم". قال: فقدم علينا، قلت: من أين؟ قال: من اليمن، قلت: ما اسمك؟ قال: أويس، قلت: فمن تركت باليمن؟ قال: أما لي، قلت: أكان بك بياض فدعوت الله فأذهبه عنك؟ قال: نعم، قلت: استغفر لي، قال: أو يستغفر مثلي لمثلك يا أمير المؤمنين! قال: فاستغفر له، قلت له: أنت أخي لا تفارقني، فاملس1 مني، فأنبئت أنه قدم عليكم الكوفة، قال: فجعل ذلك الرجل الذي كان يسخر به ويحقره يقول: ما هذا فينا وما نعرفه، فقال عمر: بلى إنه رجل كذا - كأنه يضع من شأنه. قال: فينا يا أمير المؤمنين رجل يقال له "أويس" نسخر به، قال: أدرك ولا أراك تدرك، فأقبل ذلك الرجل حتى دخل عليه قبل أن يأتي أهله فقال له أويس ما هذه بعادتك! فما بدا لك؟ قال: سمعت عمر يقول فيك كذا وكذا فاستغفر لي يا أويس! قال: لا أفعل حتى تجعل لي عليك أن لا تسخر بي فيما بعد ولا تذكر الذي سمعته من عمر إلى أحد، فاستغفر له، قال أسير: فما لبثت أن فشا أمره في الكوفة فأتيته فدخلت عليه فقلت له: يا أخي ألا أراك العجب ونحن لا نشعر؟ قال: ما كان في هذا ما أتبلغ به في الناس وما يجزى كل عبد إلا بعمله، ثم املس منهم فذهب"ابن سعد، حل، ق في الدلائل، كر".
٣٧٨٢٤۔۔۔ اسیر بن جابر سے مروی ہے کہ کوفہ میں ایک محدث تھا جو ہمیں حدیث بیان کرتا تھا۔ جب وہ حدیث سے فارغ ہوجاتا تو لوگ منتشر ہوجاتے، جب کہ ایک گروہ پیچھے بیٹھا رہ جاتا تھا۔ ان میں ایک آدم تھا جو ان کو ایسی باتیں سناتا تھا جو میں نے کسی کو بیان کرتے نہیں سنی تھیں۔ مجھے اس آدمی کی باتیں اچھی لگیں۔ پھر وہ شخص مفقود ہوگیا۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا : تم اس شخص کو جانتے ہو جو ہمارے ساتھ بیٹھتا (تھا اور ایسی ایسی باتیں کرتا) تھا۔ ایک آدمی نے کہا : ہاں میں اس کو جانتا ہوں۔ وہ اویس قرنی ہیں۔ میں نے کہا : تم اس کا گھر جانتے ہو ؟
اس نے اثبات میں جواب دیا تو میں اس کے ساتھ چل پڑا اور جا کر اس کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اویس نکل کر میرے پاس آئے۔ میں نے کہا : اے بھائی ! تم ہمارے پاس آنے جانے سے رک کیوں گئے ؟ اویس بولے : بےلباس ہونے کی وجہ۔ کیونکہ میرے ساتھ اس کے ساتھ مذاق اور تمسخر کرتے تھے اور اس کو ستاتے تھے۔ چنانچہ میں نے اس کو کہا : یہ میری چادر لے لو اور باندھ لو۔ اویس نے ایسا کرنے سے منع کیا اور بولے : یہ چادر مجھ پر دیکھ کر وہ مجھے مزید تکلیف دیں گے۔ اسیر کہتے ہیں : میں اصرار کرتا رہا حتی کہ اویس نے وہ چادر باندھ لی اور پھر میرے ساتھیوں کے پاس آئے تو انھوں نے کہا : کیا خیال ہے، تمہارا اس نے کس کو دھوکا دے کر چادر حاصل کی ؟ اویس یہ سن کر واپس ہوئے اور چادر اتاردی اور مجھے بولے : دیکھ لیا تم نے۔ اسیر کہتے ہیں : میں اپنے دوستوں کی مجلس میں حاضر ہوا اور ان سے مخاطب ہوا : تم اس آدمی سے آخر چاہتے کیا ہو ؟ تم نے اس کو بہت ستا لیا ہے۔ اس کا حال تو یہ ہے کہ ایک وقت اس کے پاس تن ڈھانکنے کو ہوتا ہے تو دوسرے وقت وہ بھی نہیں ہوتا۔
پھر میں نے ان کو خوب کھری کھری سنائیں اور سخت زبان استعمال کی۔
پھر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ اہل کوفہ کا وفد حضرت عمر (رض) کی خدمت میں گیا۔
وفد میں ان میں سے ایک آدمی وہ بھی تھا جو اویس (رح) کو ستاتے تھے۔ حضرت عمر (رض) نے اہل وفد سے فرمایا : کیا تمہارے پاس قرنیوں میں سے کوئی شخص بھی ہے ؟
(یعنی اویس قرنی) ؟ یہ بات سن کر وہ شخص کھٹک گیا۔ پھر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : تمہارے پاس یمن سے ایک شخص آئے گا جس کو اویس کہا جاتا ہوگا۔ یمن میں صرف اپنی ماں کو چھوڑے گا۔ اس کو برص کی سفیدی ہوگی۔ وہ اللہ سے دعاکرے گا تو اس کی سفیدی زائل ہوجائے گی سوائے (ایک درہم کی جگہ کے) ۔ پس جو شخص بھی اس سے ملاقات کا شرف حاصل کرے وہ اس سے اپنے لیے مغفرت کی دعا کرالے۔ پھر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : چنانچہ وہ بزرگ ہمارے پاس تشریف لائے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا : آپ کہاں سے تعلق رکھتے ہیں ؟ انھوں نے
فرمایا : یمن سے۔ میں نے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے ؟
انھوں نے اویس نام بتایا۔ میں نے پوچھا : یمن میں کس کو چھوڑ کر آئے ہو ؟ فرمایا لگے : ماں کو۔ میں نے پوچھا : کیا تمہیں (برص کی ) سفیدی تھی پھر تمہاری دعا سے اللہ نے وہ زائل کردی ؟
انھوں نے فرمایا : بالکل۔ تب میں نے ان کی خدمت میں درخواست کی کہ میرے لیے اللہ سے مغفرت کی دعاکر دیجئے۔ وہ بولے : اے امیر المومنین ! کیا میرے جیسا (کم اوقات) شخص آپ جیسے (امیر المؤمنین) کے لیے دعا کرے گا ! چنانچہ پھر انھوں نے میرے لیے دعائے مغفرت فرمادی۔ پھر میں نے ان سے عرض کیا : آپ میرے بھائی ہیں۔ مجھ سے جدا نہ ہوئیے گا۔ لیکن پھر وہ مجھ سے گم ہوگئے۔ پھر مجھے خبر ملی کہ وہ تمہارے پاس کوفہ میں آگئے ہیں۔ یہ ساری باتیں سن کر وہ شخص جو حضرت اویس (رح) کو حقیر سمجھ کر ان کا مذاق اڑاتا تھا، وہ بولا : ایسا کوئی آدمی ہمارے اندر نہیں اور نہ ہم ایسے کسی آدمی کو جانتے ہیں۔ پھر حضرت عمر (رض) فرمانے لگے :
ہاں وہ ایسا ہی (گمنام ) آدمی ہے، گویا حضرت عمر (رض) اویس (رح) کی شان کو کم کرنے لگے، جس سے اس آدمی (میں حوصلہ پیدا ہوا اور پھر وہ) بولا : امیر المومنین ! ہمارے ہاں ایک آدمی ہے تو، جس کو اویس اویس کہتے ہیں۔ ہم اس کے ساتھ ہنسی مذاق بھی کرلیتے ہیں۔ تب حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جاؤ اس کو ملو، ممکن تو نہیں ہے کہ اب وہ تمہیں ملے۔
چنانچہ وہ شخص کوفہ واپس ہوا اور اپنے اہل و عیال کے پاس جانے سے پہلے حضرت اویس (رح) کے پاس حاضر ہوا (اور اس کی ادب نوازی کو دیکھ کر) حضرت اویس (رح) بولے : ایسی تو تمہاری عادت پہلے نہیں تھی۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ وہ آدمی بولا : میں نے حضرت عمر (رض) کو یوں یوں تمہارے متعلق فرماتے ہوئے سنا ہے۔ لہٰذا اے اویس ! میرے لیے مغفرت کی دعا کر دیجئے۔ حضرت اویس (رح) فرمانے لگے : میں ایسا نہیں کرسکتا جب تک کہ تم مجھ سے وعدہ نہ کرو کہ آئندہ میرے ساتھ مذاق تمسخر نہ کروگے اور نہ حضرت عمر (رض) کی کوئی بات کسی سے بیان کروگے۔ چنانچہ پھر حضرت اویس (رح) نے اس کے لیے اللہ کے حضور دعائے مغفرت کی۔
اسیر کہتے ہیں : پھر اویس کا معاملہ کوفہ میں شہرت پکڑ گیا تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کو عرض کیا : اے میرے بھائی : ہم نادانی میں آپ کا خیال نہیں کرپائے۔
حضرت اویس (رح) بولے : مجھے جو لوگوں سے تکلیف پہنچتی ہے تو بات یہ ہے کہ ہر انسان کو اس کے اپنے عمل کی سزا ملتی ہے۔ پھر حضرت اویس (رح) وہاں سے بھی چلے گئے اور غائب ہوگئے۔ (ابن سعد، حلیۃ الاولیاء، البیھقی فی الدلائل، ابن عساکر)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔