HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37847

37834- ابن عساكر أنبأنا أبو الكرم بن المبارك بن الحسن بن أحمد بن علي الشهرزوري أنبأنا أبو البركات عبد الملك بن أحمد بن علي الشهرزوري أنبأنا عبد الله بن عمر بن أحمد الواعظ حدثني أبي حدثنا أحمد بن عبد العزيز بن منير الحراني بمصر حدثنا أبو الطاهر خير بن عرفة الأنصاري حدثنا هانيء بن الحسن حدثنا بقية عن الأوزاعي عن مكحول قال سمعت واثلة بن الأسقع قال: غزونا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم غزوة تبوك حتى إذا كنا في بلاد حذام في أرض لهم يقال لها الحوزة وقد كان أصابنا عطش شديد فإذا بين أيدينا آثار غيث، فسرنا مليا فإذا بغدير وإذا فيه جيفتان وإذا السباع قد وردت الماء فأكلت من الجيفتين وشربت من الماء، فقلنا: يا رسول الله! هذه جيفتان وآثار السباع قد أكلت منهما، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "نعم، هما طهوران اجتمعا من السماء والأرض لا ينجسهما شيء، وللسباع ما شربت في بطونها ولنا ما بقي،" حتى إذا ذهب ثلث الليل إذا نحن بمناد ينادي بصوت حزين: اللهم اجعلني من أمة محمد المرحومة المغفور لها المستجاب لها المبارك عليها! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا حذيفة! ويا أنس! ادخلا إلى هذا الشعب فانظرا ما هذا الصوت"، قالا: فدخلنا فإذا برجل عليه ثياب بيض أشد بياضا من الثلج وإذا وجهه ولحيته كذلك، ما أدري أيهما شد ضوءا ثيابه أو وجهه، فإذا هو أعلى جسما منا بذراعين أو ثلاثة فسلمنا عليه، فرد علينا السلام ثم قال: مرحبا! أنتما رسل رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالا: فقلنا: نعم، قالا: فقلنا: من أنت يرحمك الله؟ قال: أنا إلياس النبي، خرجت أريد مكة فرأيت عسكركم فقال لي جند من الملائكة على مقدمتهم جبريل وعلى ساقتهم ميكائيل: هذا أخوك رسول الله صلى الله عليه وسلم فسلم عليه والقه، ارجعا فأقرئاه مني السلام وقولا له: لم يمنعني من الدخول إلى عسكركم إلا أني أتخوف أن تذعر الإبل ويفزع المسلمون من طولي وإن خلقي ليس كخلقكم، قولا له: يأتيني، قال حذيفة وأنس: فصافحناه، فقال لأنس: من هذا؟ قال: هذا حذيفة بن اليمان صاحب سر رسول الله صلى الله عليه وسلم، فرحب به ثم قال: والله إنه لفي السماء أشهر منه في الأرض! تسميه أهل السماء "صاحب سر رسول الله" صلى الله عليه وسلم، قال حذيفة: هل تلقى الملائكة قال: ما من يوم إلا أنا ألقاهم ويسلمون علي وأسلم عليهم، فأتينا النبي صلى الله عليه وسلم فخرج معنا حتى أتينا الشعب وهو يتلألأ وجهه نورا فإذا ضوء وجه إلياس كالشمس، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "على رسلكم" فتقدمنا النبي صلى الله عليه وسلم قدر خمسين ذراعا وعانقه مليا ثم قعدا، قالا: فرأينا شيئا كهيئة الطير العظام بمنزلة الإبل قد أحدقت به وهي بيض وقد نشرت أجنحتها بيننا وبينهم، ثم صرخ بنا النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "يا حذيفة ويا أنس! تقدما" فتقدمنا فإذا بين أيديهم مائدة خضراء لم أر شيئا قط أحسن منها قد غلب خضرتها بياضنا فصارت وجوهنا خضرا وثيابنا خضرا وإذا عليها خبز ورمان وموز وعنب ورطب وبقل ما خلا الكراث، ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم: "كلوا بسم الله،" قالا: فقلنا: يا رسول الله! أمن طعام الدنيا هذا؟ قال: "لا"، قال لنا: "هذا رزقي ولي في كل أربعين يوما وأربعين ليلة أكلة تأتيني بها الملائكة وهذا تمام الأربعين يوما والليالي، وهو شيء يقول الله له: كن فيكون". فقلنا: من أين وجهك؟ قال: "وجهي من خلف رومية، كنت في جيش من الملائكة مع جيش من المسلمين غزوا أمة من الكفار، فقلنا: فكم يسار من ذلك الموضع الذي كنت فيه؟ قال: أربعة أشهر، وفارقته أنا منذ عشرة أيام، وأنا أريد إلى مكة أشرب بها في كل سنة شربة وهي ريتي وعصمتي إلى تمام الموسم من قابل، فقلنا: فأي المواطن أكثر مقامك؟ قال: الشام وبيت المقدس والمغرب واليمن وليس من مسجد من مساجد محمد صلى الله عليه وسلم إلا وأنا أدخله صغيرا كان أو كبيرا، قلنا: الخضر متى عهدك به؟ قال: منذ سنة، كنت قد التقيت أنا وهو بالموسم وقد كان قال لي: إنك ستلقى محمدا صلى الله عليه وسلم قبلي فأقرئه مني السلام، وعانقه وبكى، ثم صافحناه وعانقناه وبكى وبكينا، فنظرنا إليه حتى هو في السماء كأنه يحمل حملا، فقلنا: يا رسول الله! لقد رأينا عجبا إذ هو إلى السماء، فقال: إنه يكون بين جناحي ملك حتى ينتهي به حيث أراد. قال ابن عساكر: هذا حديث منكر وإسناده ليس بالقوي".
٣٧٨٣٤۔۔۔ ابن عساکر ا بنانا ابو الکرم بن المبارک بن الحسن بن احمد بن علی الشھر زوری انبانا ابو البرکان عبدالملک بن احمد بن علی الشھر زوری انبانا عبداللہ بن عمر بن احمد الوعظ حدثنی ابی حدثنا احمد بن عبدالعزیز بن منیر الحدانی بمصر حدثنا ابو الطاھو خیربن عرفۃ الانصاری حدثنا ھانی، بن الحسن حدثنا بقیۃ عن الاوزاعی عن مکحول قال سمعت واثلۃ بن الاسقع۔
حضرت واثلۃ بن الاسقع (رض) ارشاد فرماتے ہیں : ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ تبوک میں شرکت کی۔ جب ہم پلاء حذام میں حوزۃ نامی علاقے میں پہنچے تو وہاں ہم کو سخت پیاس لاحق ہوئی اور اچانک ہی ہم پر بارش کے آثار منڈلانے لگے۔ ہم بہت خوش ہوئے۔ اس کے علاوہ قریب ہی ہمیں ایک تالاب نظر آیا۔ لیکن اس میں دو مردار پڑے ہوئے تھے اور پھر وہاں تالاب پر درندے اکٹھے ہوگئے انھوں نے مرداروں کو کھالیا اور اسی تالاب سے پانی پیا (اور چلے گئے) ۔ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! (آپ دیکھ رہے ہیں کہ ) ان مرداروں اور درندوں کا (اس پانی میں) اثر ہے۔
نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں مگر یہ دونوں آسمان و زمین کے اکٹھے ہوئے ہیں ان کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرسکتی۔ درندے جو پانی اپنے پیٹوں میں لے گئے لے گئے اور جو بچ گیا وہ ہمارے لیے ہے۔
حضرت واثلۃ بن الاسقع (رض) فرماتے ہیں : (ہمارے وہاں قیام کے دوران) جب ایک تہائی رات گذر گئی تو ہم کو کسی منادی کی نداء کان میں پڑی جو بڑی رنجیدہ آواز کے ساتھ پکار رہا تھا :
اللھم اجعلنی من امۃ محمد المرحومۃ المغفور لھا المستجاب لھا المبارک علیھا۔
اے اللہ ! مجھے امت محمدیہ میں سے کردے، جس امت پر تیری رحمت ہے اور اس کی مغفرت ہوچکی ہے اور اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان پر برکتیں نازل ہوتی ہیں۔
حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے حذیفہ ! اور اے انس !
اس گھاٹی میں جاؤ (جہاں سے یہ آواز آرہی ہے) اور یہ دیکھو یہ کیسی آواز ہے ؟
دونوں نے (آکر) کہا : ہم وہاں داخل ہوئے تو وہاں ایک آدمی تھا جس پر سفید لباس زیب تن تھا برف سے زیادہ سفید۔
اور اس کا چہرہ اور اس کی داڑھی بھی اسی طرح سخت سفید تھی۔ معلوم نہیں کہ اس کا لباس زیادہ سفید تھا یا اس کا چہرہ۔ اور اس کا قد ہم سے دویا تین ہاتھ زیادہ لمبا تھا۔ ہم نے اس کو سلام کیا اس نے ہمارے سلام کا جواب دیا۔
پھر فرمایا : خوش آمدید ہو۔ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصد ہو ؟ ہم نے عرض کیا :
ہاں۔ پھر ہم نے پوچھا : اللہ آپ پر رحم رکے، آپ کون ہیں ؟ انھوں نے عرض کیا : میں الیاس پیغمبر ہوں ((علیہ السلام)) ۔ میں مکہ کے ارادے سے نکلا تھا۔ پھر میں نے تمہارا لشکر دیکھا تو مجھے ملائکہ کے ایک لشکر، جس کے مقدمہ میں جبرائیل (علیہ السلام) اور پیچھے میکائیل (علیہ السلام) تھے، نے مجھے کہا : یہ آپ کے بھائی (محمد) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، آپ ان کو سلام کیجئے اور ان سے ملاقات کیجئے۔ لہٰذا اب تم دونوں جاکر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میرا سلام عرض کرو اور ان کی خدمت میں میری درخواست سناؤ اور بولو کہ میں اس وجہ سے آپ کے لشکر میں داخل نہیں ہوسکتا کہ وہاں اونٹ (اور دوسرے جانور) بدک جائیں گے اور میرے قد کاٹھ کو دیکھ کر مسلمان پریشان ہوں گے کیونکہ میری تخلیق تمہاری تخلیق جیسی نہیں ہے۔ لہٰذا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کرو۔ (مہربانی فرماکر) میرے پاس آجائیں۔
حضرت حذیفہ اور انس (رض) فرماتے ہیں : پھر ہم نے ان سے مصافحہ کیا تو انھوں نے انس (رض) سے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ تو انھوں نے اپنے ساتھ کے متعلق بتایا : یہ حذیفہ بن الیمان (رض) ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے راز دار۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے ان کو مبارک باددی اور فرمایا :
اللہ کی قسم ! یہ زمین سے زیادہ آسمانوں میں مشہور ہیں اور اہل آسمان ان کو رسول اللہ کے راز دار کے نام سے جانتے ہیں
حضرت حذیفہ (رض) نے حضرت الیاس (علیہ السلام) سے پوچھا : کیا آپ ملائکہ سے ملاقات کرتے ہیں ؟ انھوں نے جواب میں فرمایا : کوئی دن ایسا نہیں گذرتا جس میں میں ان سے ملاقات نہ کرتا ہوں۔ پھر وہ مجھے سلام کرتے ہیں اور میں ان کو سلام کرتا ہوں۔
دونوں صحابی رسول فرماتے ہیں : چنانچہ پھر ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ساتھ تشریف لائے، حتی کہ ہم اسی گھاٹی میں پہنچ گئے۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کا چہرہ نور سے تمتما رہا تھا گویا سورج کی روشنی چہرے سے نکل رہی ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو فرمایا :
تم یہیں ٹھہرو۔ پھر آپ پچاس قدم ہم سے آگے نکل کر تشریف لے گئے اور حضرت الیاس (علیہ السلام) سے خوب جی بھر کر بغل گیر ہوئے پھر دونوں پیغمبر بیٹھ گئے۔
دونوں صحابی فرماتے ہیں : پھر ہم نے پرندے کی مثل اونٹ جتنا بڑا پرندہ دیکھا جس نے اپنے پر ہمارے اور دونوں پیغمبر کے درمیان پھیلا رکھے تھے، اس کا رنگ سفید تھا اور وہ اس جگہ کو گھیرے ہوئے تھا۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو آواز دی اے حذیفہ ! اے انس ! آجاؤ۔ چنانچہ ہم دونوں آگئے پہنچے، دیکھا تو ان کے سامنے سبز دستر خوان بچھا ہوا ہے میں نے اس سے اچھی چیز کبھی نہیں دیکھی، اس کی سبزی ہماری سفیدی پر غالب آرہی تھی حتی کہ ہمارے چہرے اور ہمارے لب اس بھی سبز ہوگئے تھے۔ دسترخوان پر دیکھا تو روٹیاں، انار، کیلے، انگور، تازہ کھجور اور گندنے کے علاوہ سبزیاں بھی تھیں۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ کا نام لے کر کھاؤ۔ دونوں صحابی فرماتے ہیں : ہم نے پوچھا : یا رسول اللہ ! کیا یہ دنیا کا کھانا ہے ؟ تو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نہیں، حضرت الیاس (علیہ السلام) نے ہم کو فرمایا : یہ میرا کھانا ہے اور مجھے ہر چالیس دن اور رات میں یہ کھانا ایک مرتبہ ملتا ہے اور ملائکہ میرے پاس یہ کھانا لے کر آتے ہیں۔ اور آج چالیس دن و رات پورے ہونے کے بعد یہ کھانا آیا ہے۔
اور اللہ کے لیے کن فرمانے کی دیر ہوتی ہے اور یہ حاضر ہوجاتا ہے دونوں صحابی فرماتے ہیں : ہم نے پوچھا : آپ کا کس طرف رخ سفر تھا ؟ فرمایا سلطنت رومیہ کے پیچھے۔ پھر فرمایا : میں ملائکہ کے لشکر میں تھا جو مسلمانوں کی مدد کررہا تھا۔ اور کفار کی جماعت سے لڑ رہا تھا۔ ہم نے پوچھا : وہاں سے یہاں تک کتنے عرصہ کا سفر ہے ؟ فرمایا : چار ماہ کا اور مجھے وہاں سے نکلے ہوئے دن دن ہوگئے ہیں۔ اور میں مکہ کی طرف جا رہا تھا تاکہ وہاں کا (زمزم) پانی پی سکوں۔ میں سال میں ایک مرتبہ وہ پانی پیتا ہوں جو مجھے سارا سال سیراب رکھتا ہے اور آئندہ آنے والے سال تک کے لیے میری حفاظت کرتا ہے۔ ہم نے پوچھا : کون سا علاقہ آپ کا زیادہ تر جائے سکونت رہتا ہے ؟ فرمایا :
شام، بیت المقدس، مغر، یمن اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مساجد میں سے کوئی مسجد ایسی نہیں ہوتی جہاں میں داخل نہ ہوتا ہوں چھوٹی ہو یا بڑی۔
ہم نے پوچھا : کہ حضرت خضر (علیہ السلام) سے آپ کی ملاقات کب ہوئی تھی ؟
ارشاد فرمایا : سال پہلے۔ موسم حج میں میری اور ان کی ملاقات ہوئی تھی۔
انھوں نے مجھے فرمایا تھا : تم مجھ سے قبل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کروگے۔ لہٰذا تم ان کو میرا سلام کہنا۔
پھر حضرت الیاس (علیہ السلام) نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (الوداعی ) معانقہ کیا اور رونے لگے پھر ہم نے ان کے ساتھ مصافحہ کیا اور معانقہ کیا وہ بھی روئے ہم بھی روئے۔
پھر ہم نے ان کو دیکھا تو وہ آسمان کی طرف بلند ہو رہے تھے گویا انھوں نے کوئی بوجھ لاد رکھا ہے۔ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ ہم نے بڑا تعجب خیز منظر دیکھا کہ وہ آسمان کی طرف از خود بلند ہوگئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : وہ فرشتے کے دو پروں کے درمیان بیٹھ کر گئے ہیں جہاں چاہیں فرشتہ ان کو اتار دے گا ۔ (ابن عساکر، ھذا حدیث منکر، وانسادہ لیس بالقوی)
کلام :۔۔۔ مذکورہ روایت چھوٹی من گھڑت ہے اور اس کی سند بھی قوی نہیں (یہاں صرف تنبیہ کے لیے ذکر کردی گئی۔ )

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
Kanz al-Ummal: 37847 | undefined - Hadith.one