HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37848

37835- "مسند ابن عباس" عن أسباط عن السدي قال: كان ملك وكان له ابن يقال له الخضر وإلياس أخوه، فقال الناس للملك: إنك قد كبرت وابنك الخضر ليس يدخل في ملك فلو زوجته لكي يكون ولده ملكا بعدك! فقال له: يا بني تزوج، فقال: لا أريد، قال: لا بد لك، قال: فزوجني، فزوجه امرأة بكرا، فقال لها الخضر: إنه لا حاجة لي في النساء، فإن شئت عبدت الله معي وأنت في طعام الملك ونفقته وإن شئت طلقتك، قالت: بل أعبد الله معك، قال: فلا تظهري سري، فإنك إن حفظت سري حفظك الله، وإن أظهرت عليه أهلك أهلكك الله. فكانت معه سنة لم تلد، فدعاها الملك فقال: أنت شابة وابني شاب فأين الولد وأنت من نساء ولد؟ فقالت: إنما الولد بأمر الله، ودعا الخضر فقال له: أين الولد يا بني؟ قال: الولد بأمر الله، فقيل للملك: فلعل هذه المرأة عقيم لا تلد، فزوجه امرأة قد ولدت فقال للخضر: طلق هذه، قال: تفرق بيني وبينها وقد اغتبطت بها! فقال: لا بد من طلاقها، فطلقها ثم زوجه ثيبا قد ولدت، فقال لها الخضر كما قال للأولى، فقالت: بل أكون معك، فلما كان الحول دعاها فقال: إنك ثيب قد ولدت قبل ابني فأين ولدك؟ فقالت: هل يكون الولد إلا من بعل وبعلي مشتغل بالعبادة لا حاجة له في النساء! فغضب لذلك وقال: اطلبوه، فهرب فطلبه ثلاثة فأصابه اثنان منهم، فطلب إليهما أن يطلقاه فأبيا، وجاء الثالث فقال: لا تذهبا به فلعله يضربه وهو ولده، فأطلقاه، ثم جاؤا إلى الملك، فأخبره الاثنين أنهما أخذاه وأن الثالث أخذه منهما، فحبس الثالث، ثم فكر الملك فدعا الاثنين فقال: أنتما خوفتما ابني حتى هرب فذهب، فأمر بهما فقتلا، ودعا بالمرأة فقال لها: أنت هربت ابني وأفشيت سره، لو كتمت عليه لأقام عندي، فقتلها وأطلق المرأة الأولى والرجل، فذهبت المرأة فاتخذت عريشا على باب المدينة، فكانت تحتطب وتبيعه وتتقوت بثمنه، فخرج رجل من المدينة فقير فقال: بسم الله فقالت المرأة: وأنت تعرف الله؟ قال: أنا صاحب الخضر، قالت: وأنا امرأة الخضر، فتزوجها وولدت له وكانت ماشطة ابنة فرعون. فقال أسباط عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس أنها بينا هي تمشط ابنة فرعون سقط المشط من يدها فقالت: سبحان ربي! فقالت ابنة فرعون: أبي؟ قالت: لا، ربي، ورب أبيك، فقالت: أخبر أبي! فقالت: نعم، فأخبرته، فدعا بها فقال: ارجعي، فأبت، فدعا ببقرة من نحاس وأخذ بعض ولدها فرمى به في البقرة وهي تغلي، ثم قال لها: ترجعين؟ قالت: لا، فأخذ الولد الآخر - حتى ألقى أولادها أجمعين ثم قال لها: ترجعين؟ قالت: لا، فأمر بها، قالت: إن لي حاجة، قال: وما هي؟ قالت: إذا ألقيتني بالبقرة تأمر بالبقرة أن تحمل ثم تكفأ في بيتي الذي على باب المدينة وتنحي البقرة وتهدم البيت علينا حتى يكون قبورنا، فقال: نعم، إن لك علينا حقا، ففعل بها ذلك. قال ابن عباس: قال النبي صلى الله عليه وسلم: "مررت ليلة أسري بي فشممت رائحة طيبة فقلت: يا جبريل! ما هذا؟ " فقال: هذا ريح ماشطة بنت فرعون وولدها." كر".
٣٧٨٣٥۔۔۔ (مسند ابن عباس (رض) اسباط (رح)، سدی (رح) سے نقل کرتے ہیں کہ ایک بادشاہ تھا جس کا ایک بیٹا تھا جس کو خضر کہتے تھے، (علیہ السلام) اور الیاس اس کا بھائی تھا، (علیہ السلام) لوگوں نے بادشاہ کو کہا :
آپ ضعیف العمر ہوگئے ہیں اور آپ کا بیٹا خضر بادشاہی میں نہیں آتا ہے۔ آپ ایسا کریں کہ اس کی شادی کردیں۔ اس کا بیٹا ہوگا تو شاید وہ آپ کے بعد بادشاہی سنبھال لے۔ چنانچہ بادشاہ نے اپنے بیٹے خضر (علیہ السلام) کو کہا : بیٹا شادی کرلے۔ بیٹے نے کہا : میں شادی نہیں کرنا چاہتا۔ باپ نے کیا : بیٹا اس کے بغیر تو چارہ کار نہیں۔ بیٹے نے کہا : تب آپ کی مرضی، شادی کردیں۔ چنانچہ باپ نے اپنے بیٹے خضر کی ایک کنواری عورت سے شادی کردی۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے اس عورت کو فرمایا : مجھے عورتوں کی رغبت و حاجت نہیں ہے۔ اگر تو چاہتی ہے تو میرے ساتھ اللہ کی عبادت کرتی رہ اور شاہی رہن سہن اور کھانے کھاتی رہ اور اگر چاہے تو میں تجھے طلاق دے دیتا ہوں۔ عورت بولی : نہیں، بلکہ میں تیرے ساتھ اللہ کی عبادت کرتی رہوں گی۔ خضر نے فرمایا : ٹھیک ہے، مگر میرا راز کسی پر ظاہر نہ کرنا۔ کیونکہ اگر تو میرے راز کی حفاظت کرتی رہے گی تو اللہ تیری حفاظت کرتا رہے گا ۔ اور اگر تو، راز کو فاش کردے گی تو اللہ تجھے ہلاک کردے گا ۔
چنانچہ وہ سال بھر خضر کے ساتھ رہی اور اس نے کسی بچے کو جنم نہیں دیا۔
لہٰذا اس کو بادشاہ نے بلوایا اور کہا : تو جوان عورت ہے اور میرا بیٹا بھی جوان ہے۔
پھر بچہ کہاں ہے ؟ حالانکہ تو بچے دینے والی عورتوں میں سے ہے۔ عورت بولی : اولاد اللہ کے حکم سے ہوتی ہے۔ پھر بادشاہ نے اپنے خضر کو بلایا اور بوچھا : اے بیٹے ! بچہ کہاں ہے ؟ خضر نے بھی وہی جواب دیا : بچہ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔
کسی نے بادشاہ کو کہا : ممکن ہے یہ عورت بانجھ کوکھ ہو بچہ جننے کی اہلیت نہ رکھتی ہو۔
لہٰذا آپ اپنے بیٹے کی شادی کسی ایسی عورت سے کریں جس نے پہلے کوئی بچہ جنم دیا ہو۔
چنانچہ بادشاہ نے اپنے بیٹے کو کہا تم اس بیوی کو طلاق دے دو خضر بولا : آپ میرے اور اس کے درمیان جدائی کرانا چاہتے ہو حالانکہ اب مجھے اس سے لگاؤ ہوگیا ہے۔ بادشاہ نے کہا : اس کو طلاق دئیے بغیر گذارہ نہیں۔ چنانچہ مجبوراً خضر نے اس بیوی کو طلاق دے دی۔ پھر بادشاہ نے اپنے بیٹے کی شادی یہ اسی تیبہ عورت (جس کی پہلے شادی ہوچکی ہو) سے کردی جس نے پہلے بچہ بھی جنا تھا۔
چنانچہ خضر نے اس کو بھی وہی بات کہی جو پہلی عورت کو شادی کے بعد کہی تھی۔
عورت نے بھی ویسا جواب دیا کہ میں تمہارے ساتھ عبادت کرتی رہوں۔ جب اس کو بھی سال گذر گیا تو بادشاہ نے اس کو بھی بلایا اور کہا : تو پہلے سے شادی شدہ عورت تھی اور تجھے پہلے بچہ بھی ہوچکا تھا، اب تیرا بچہ کہاں ہے ؟ عورت (راز کو مخفی نہ رکھ سکی اور ) بولی : بچہ مرد کے ملنے سے ہوتا ہے اور میرا مرد عبادت میں مشغول رہتا ہے اور اس کو عورتوں کی طرف رغبت ہوتی نہیں۔ تب بادشاہ کو اپنے بیٹے پر سخت غصہ آیا اور اس کو تلاش کرنے کا حکم دیا۔ مگر خضر بھاگ گئے ان کی تلاش میں تین افراد نکلے۔ ان میں سے دو افراد نے خضر کو تلاش کرلیا۔
خضر نے ان کو کہا : تم مجھے چھوڑ دو مگر دونوں نے چھوڑنے سے انکار کردیا۔ پھر تیسرا متلاشی بھی ان کے پاس پہنچ گیا اس نے کہا : تم خضر کو بادشاہ کے پاس لے جانے سے گریز کرو، کہیں بادشاہ اسی کو سزا نہ دے اور یہ اس کا بیٹا ہے۔
چنانچہ دونوں کی سمجھ میں بات آگئی اور انھوں نے اس کو چھوڑ دیا۔
پھر بادشاہ کے پاس آکر دونوں نے خبر دی کہ انھوں نے خضر کو پکڑلیا تھا لیکن تیسرے نے اس کو ان سے لے لیا۔ چنانچہ بادشاہ نے تیسرے کو قید کرلیا۔ پھر بادشاہ نے غور و فکر کیا تو دونوں کو بلایا اور بولا : تم دونوں نے میرے بیٹے کو اتنا خوفزدہ کردیا کہ وہ مجھ سے بھاگ کر چلا گیا۔ لہٰذا پھر بادشاہ نے ان دونوں کے قتل کا حکم جاری کردیا اور عورت کو بھی بلایا اور اس کو کہا : تو نے میرے بیٹے کو فرار ہونے پر مجبور کیا ہے، اور اس کے راز کو فاش کیا ہے۔ اگر اس کا راز رکھتی تو وہ میرے پاس موجود ہوتا۔ چنانچہ بادشاہ نے اس کو بھی قتل کروا دیا۔ اور پہلی بیوی اور تیسرے آدمی کو آزاد کردیا۔
عورت نے جا کر شہر کے دروازے پر ایک چھپر ڈال لیا اور لکڑیاں اکٹھی کرکے ان کو بیچتی اور اس سے اپنا گذر سفر کرتی تھی۔
ایک مرتبہ وہی تیسرا آدمی فقیری حالت میں اس شہر سے نکلا اور اس نے بسم اللہ کہا۔ عورت نے اس سے پوچھا : کیا تو اللہ کو جانتا ہے ؟ اس نے کہا :
میں خضر (علیہ السلام) کا ساتھ ہوں عورت بولی : اور میں خضر (علیہ السلام) کی پہلی بیوی ہوں۔
چنانچہ اس آدمی نے اس عورت سے شادی کرلی اور پھر اس کے ہاں اولاد بھی ہوئی۔
یہ عورت (خضر (علیہ السلام) کی طلاق یافتہ اور اس دوسرے آدمی کی بیوی) ، فرعون کی بیٹی کی کنگھی کرنے والی خادمہ تھی۔
اسیاط، عطاء بن السائب عن سعید بن جبیر عن ابن عباس (رض) کی سند سے روایت کرتے ہیں۔
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں ایک مرتبہ وہ عورت فرعون کی بیٹی کو کنگھی کررہی تھی کہ اس کے ہاتھ سے کنگھی چھوٹ کر گرگئی تو اس کے منہ سے نکلا :
سبحان ربی، میرا رب پاک ذات ہے۔ فرعون کی بیٹی بولی : یعنی میرا باپ ؟
عورت بولی : نہیں میرا اور تیرے باپ کا رب۔
فرعون کی بیٹی نے اس عورت کو ڈرایا کہ میں اپنے باپ کو خبر دوں گی۔
عورت بولی ٹھیک ہے۔ چنانچہ بیٹی نے اپنے باپ فرعون کو خبر کردی۔ فرعون نے اس کو بلوایا اور بولا اپنے پہلے دین کی طرف واپس آجا۔ لیکن عورت نے انکار کردیا۔ فرعون نے تیل کا کڑاھا گرم کروایا حتی کہ جب وہ جوش مارنے لگا تو تب اس عورت سے پوچھا : کیا تو اپنے دین کی طرف آتی ہے ؟
اس نے تب بھی انکار کیا تو فرعون نے حکم دیا اور اس کی اولاد میں سے ایک بچے کو اس کڑاھے میں ڈال دیا گیا۔ پھر دوبارہ عورت سے پوچھا : کیا اپنے دین کی طرف واپس آتی ہے ؟ اس نے تب بھی انکار کیا پھر دوسرا بچہ ڈال دیا گیا۔
حتی کہ اس طرح اس عورت کی تمام اولاد کو ڈال دیا گیا پھر آخر میں پوچھا : اب لوٹتی ہے اپنے سابقہ دین کی طرف ؟ اس نے انکار کیا تو پھر اس کے لیے بھی حکم دیا گیا۔
عورت بولی : میری ایک حاجت ہے، پوچھا گیا : وہ کیا ؟ اس نے کہا : جب تو مجھے کڑاھے میں ڈال دے تو پھر یہ کڑاھا میرے گھر جو شہر کے دروازے پر ہے میں الٹوا دینا اور پھر کڑاھا نکال کر ہماری نعشوں پر اس گھر کو ڈھا دینا تاکہ وہ ہماری قبر بن جائے۔ بادشاہ نے کہا : بہتر ہے۔ تیرا اتنا تو ہم پر حق ہے۔ اور پھر بادشاہ نے اس کے حکم کو پورا کروایا۔
ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
جس رات مجھے آسمانوں کی سیر کے لیے لے جایا گیا تو میں نے ایک عمدہ خوشبو محسوس کی میں نے پوچھا اے جبرائیل ! یہ کیسی خوشبو ہے ؟ انھوں نے فرمایا : یہ خوشبو فرعون کی بیٹی کی کنگھی کرنے والی خادمہ اور اس کی اولاد کی خوشبو ہے (رواہ ابن عساکر

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
Kanz al-Ummal: 37848 | undefined - Hadith.one