HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

38095

38083- عن خالد بن عرعرة قال قال: سلوني عما شئتم! ولا تسألني إلا عما ينفع أو يضر، فقال رجل: يا أمير المؤمنين! ما {وَالذَّارِيَاتِ ذَرْوا} قال: ويحك! ألم أقل لك: لا تسأل إلا عما ينفع أو يضر؟ تلك الرياح، قال: فما {الْحَامِلاتِ وِقْراً} ؟ قال: هي السحاب، قال: فما {الْجَارِيَاتِ يُسْراً} ؟ قال: تلك السفن، قال: {الْمُقَسِّمَاتِ أَمْراً} ؟ قال: تلك الملائكة، قال: فما {الْجَوَارِ الْكُنَّسِ} ؟ قال: تلك الكواكب، قال: فما {وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ} ؟ قال: السماء، قال: فما {الْبَيْتِ الْمَعْمُور} ؟ قال: بيت في السماء يقال له: الضراح، وهو بحيال الكعبة من فوقها، حرمته في السماء كحرمة البيت في الأرض، يصلي فيه كل يوم سبعون ألفا من الملائكة فلا يعودون فيه أبدا. قال رجل: يا أمير المؤمنين! أخبرني عن هذا البيت، قال: هو أول بيت وضع للناس، قال: كانت البيوت قبله وقد كان نوح يسكن البيوت ولكنه أول بيت وضع للناس مباركا وهدى للعالمين، قال: فأخبرني عن بنائه، قال: أوحى الله تعالى إلى إبراهيم عليه السلام أن ابن لي بيتا، فضاق إبراهيم ذرعا، فأرسل الله إليه ريحا يقال لها السكينة ويقال لها الحجوج، لها عينان ورأس، وأوحى الله تعالى إلى إبراهيم أن يسير إذا سارت ويقيل إذا قالت، فسارت حتى انتهت إلى موضع البيت فتطوفت عليه مثل الجحفة1 وهي بإزاء البيت المعمور، يدخله كل يوم سبعون ألف ملك لا يعودون فيه إلى يوم القيامة، فجعل إبراهيم وإسماعيل يبنيانه كل يوم ساقا، فإذا اشتد عليهما الحر استظلا في ظل الجبل، فلما بلغ موضع الحجر قال إبراهيم لإسماعيل ائتني بحجر أضعه يكون علما للناس، فاستقبل إسماعيل الوادي وجاء بحجر، فاستصغره إبراهيم ورمى به وقال: جئني بغيره، فذهب إسماعيل وهبط جبريل على إبراهيم بالحجر الأسود وجاء إسماعيل فقال إبراهيم: قد جاءني من لم يكلني فيه إلى حجرك، فبنى البيت وجعل يطوفون حوله ويصلون حتى ماتوا وانقرضوا فتهدم البيت، فبنته العمالقة فكانوا يطوفون به حتى ماتوا وانقرضوا فتهدم البيت، فبنته قريش فلما بلغوا موضع الحجر اختلفوا في وضعه فقالوا: أول من يطلع من الباب، فطلع النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: قد طلع الأمين، فبسط ثوبا ووضع الحجر وسطه وأمر بطون قريش فأخذ كل بطن منهم بناحية من الثوب، ووضعه بيده صلى الله عليه وسلم. "الحارث وابن راهويه والصابوني في المائتين، هب، وروى بعضه الأزرقي، ك".
٣٨٠٨٣۔۔۔ خالد بن عرعرۃ سے روایت ہے فرمایا : حضرت علی (رض) نے فرمایا : جو چاہو مجھ سے پوچھو ! لیکن صرف نفع یا نقصان کی چیز کے متعلق پوچھو ! یہ ہوائیں ہیں، وہ کہنے لگا : بوجھ اٹھانے والی کیا ہیں ؟ فرمایا : یہ بادل ہیں، وہ کہنے لگا : نرمی سے چلنے والی کیا ہیں ؟ فرمایا : یہ کشتیاں ہیں، وہ کہنے لگا : حکم سے تقسیم کرنے والے کون ہیں ؟ فرمایا : یہ فرشتے ہیں، وہ کہنے لگا : چل کر پیچھے ہٹ جانے والے کون ہیں ؟ فرمایا : یہ ستارے ہیں، وہ کہنے لگا : اونچی چھت سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : آسمان، وہ کہنے لگا : آبادگھر سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : آسمان میں ایک گھر ہے جسے ضراح کہا جاتا ہے وہ بلندی میں کعبہ کے بالکل سامنے ہے آسمان میں اس کی عزت و حرمت ایسی ہی ہے جیسے زمین میں بیت اللہ کی عزت و حرمت ہے اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں جن کی پھر کبھی باری نہیں آئے گی۔
وہ شخص کہنے لگا : امیر المومنین ! مجھے اس گھر کے بارے میں بتائیں ! فرمایا : یہ پہلا گھر ہے جسے لوگوں کے لیے بنایا گیا، فرمایا اس سے پہلے بھی دنیا میں گھر تھے اور نوح (علیہ السلام) ان گھروں میں رہتے تھے، لیکن یہ پہلا گھر ہے جسے لوگوں کے لیے بنایا گیا ، فرمایا : اس سے پہلے بھی دنیا میں گھر تھے اور نوح (علیہ السلام) ان گھروں میں رہتے تھے، لیکن یہ پہلا گھر ہے جسے لوگوں کے لیے بنایا گیا اور اس میں برکت رکھی گئی اور تمام جہانوں کے لیے ہدایت کا سامان رکھا گیا۔ وہ کہنے لگا : مجھے اس کی تعمیر کے متعلق بتائیں ! فرمایا : اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ میرے لیے گھر بناؤ۔ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) گھبرا گئے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک ہوا بھیجی جسے سکینہ ، اور خجوج کہا جاتا ہے اس کی دو آنکھیں اور ایک سر تھا اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ جب وہ سکینہ چلے تو چلیں، اور جہاں ٹھہرے تو ٹھہر جائیں، پھر وہ چلتے چلتے بیت اللہ کی جگہ تک جاپہنچی اور اس پر حوض کے باقی ماندہ پانی کی طرح منڈلانے لگی اور وہ بیت المعمور کی سیدھ میں تھی، جس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جو قیامت تک نہیں لوٹیں گے، پھر حضرت ابراہیم واسمعیل (علیہما السلام) اس کی تعمیر کرنے لگے، روزانہ ایک دیوار بناتے، جب دھوپ تیز ہوجاتی تو پہاڑ کے سائے میں آجاتے، جب (مخصوص) پتھر رکھنے کی باری آئی تو حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل سے فرمایا : میرے پاس ایسا پتھر لاؤج سے میں لوگوں کے لیے نشانی کے طور پر رکھو، حضرت اسماعیل نے وادی کا رخ کیا اور ایک پتھر اٹھالائے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے چھوٹا سمجھ کر پھینک دیا، اور فرمایا کوئی اور پتھر لاؤ، حضرت اسماعیل (پتھر لینے) چلے گئے اتنے میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم علیہ کے پاس حجر اسود لے کر اترے، اور اسماعیل (علیہ السلام) بھی آگئے، تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : میرے پاس وہ آچکا جس نے مجھے تمہارے پتھر کے لیے نہیں چھوڑا، (یعنی تم پتھر پھینک دو اس کی جگہ حجر اسود لگانا ہے) پھر آپ نے بیت اللہ بنایا، اور یہ لوگ بیت اللہ کا طواف کرتے رہے اور وہاں نمازیں پڑھتے رہے یہاں تک کہ فوت ہوگئے اور ان کا زمانہ ختم ہوگیا، پھر بیت اللہ گرگیا۔
بعد میں عمالقہ نے اس کی تعمیر کی وہ بھی اس کا طواف کرنے لگے یہاں تک کہ وہ بھی مرگئے اور ختم ہوگئے، خانہ کعبہ گرگیا، پھر قریش نے اس کی تعمیر کی، جب حجر اسود رکھنے کا موقعہ آیا تو ان میں اختلاف ہوگیا، تو وہ کہنے لگے : جو سب سے پہلے دروازے سے آئے گا (وہ حجر اسود رکھے گا) تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے، لوگ کہنے لگے ! امین آگیا، آپ نے کپڑا بچھایا اور پتھر اس کے درمیان میں رکھ کر قریش کے سرداروں سے فرمایا : کہ ہر شخص کپڑے کا ایک گوشہ پکڑلے (انہوں نے اوپر اٹھایا) آپ نے اپنے ہاتھ سے پتھر رکھا۔ (الحارث وابن راھویہ والصابونی فی المائتین، بیھقی وروی بعضہ الازرقی، حاکم)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
Kanz al-Ummal: 38095 | undefined - Hadith.one