عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « أَخَّرَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ ، إِلَى اللَّيْلِ » (رواه الترمذى وابوداؤد وابن ماجه)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف زیارت کو موخر کیا (یعنی اس کی تاخیر کی اجازت دے دی) دسویں ذی الحجہ کی رات تک ۔ (جامع ترمذی ، سنن ابی داؤد ، سنن ابن ماجہ)
تشریح
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ طواف زیارت کے لیے افضل دن یوم النحر (عیدالاضحیٰ) کا دن ہے ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی ہے کہ اس دن کے ختم ہونے کے بعد رات میں بھی وہ کیا جا سکتا ہے اور اس رات کا طواف بھی افضلیت کے لحاظ سے ۱۰ ذی الحجہ ہی کا طواف شمار ہو گا .... عام عربی قاعدے کے مطابق رات کی تاریخ اگلے دن والی تاریخ ہوتی ہے اور ہر رات اگلے دن کے ساتھ لگتی ہے ، لیکن حج کے مناسک اور احکام میں بندوں کی سہولت کے لیے اس کے برعکس قاعدہ مقرر کیا گیا ہے اور ہر دن کے بعد والی رات کو اس دن کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے ، اسی بناء پر جو طواف ۱۰ ذی الحجہ کا دن گزرنے کے بعد رات میں کیا جائے گا وہ ۱۰ ذی الحجہ ہی میں شمار ہو گا ، اگرچہ عام قاعدے کے لحاظ سے وہ ۱۱ ذی الحجہ کی رات ہے ۔