Maarif ul Hadith
8. کتاب الحج
معارف الحدیث
969
Maarif ul Hadithعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : « يَأَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فَرَضَ اللهُ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ ، فَحُجُّوا » ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَسَكَتَ حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا ، فَقَالَ : " لَوْ قُلْتُ : نَعَمْ لَوَجَبَتْ ، وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ " ، ثُمَّ قَالَ : « ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَدَعُوهُ » (رواه مسلم)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ دیا اور اس میں فرمایا : اے لوگو ! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے لہٰذا اس کو ادا کرنے کی فکر کرو .... ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا ہر سال حج کرنا فرض کیا گیا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں سکوت فرمایا اور کوئی جواب نہیں دیا ، یہاں تک کہ اس شخص نے تین دفعہ اپنا وہ سوال دوہرایا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ناگواری کے ساتھ) فرمایا کہ : اگر میں تمہارے اس سوال کے جواب میں کہہ دیتا کہ : “ ہاں ! ہر سال حج کرنا فرض کیا گیا ” تو اسی طرح فرض ہو جاتا ، اور تم ادا نہ کر سکتے .... اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی کہ : کسی معاملہ میں جب میں خود تم کو کوئی حکم نہ دوں تم مجھ سے حکم لینے (اور سوال کر کر کے اپنی پابندیوں میں اضافہ کرنے) کی کوشش نہ کرو .... تم سے پہلی امتوں کے لوگ اسی لیے تباہ ہوئے کہ وہ اپنے نبیوں سے سوال بہت کرتے تھے اور پھر ان کے احکام کی خلاف ورزی کرتے تھے .... لہذا (میری ہدایت تم کو یہ ہے کہ) جب میں تم کو کسی چیز کا حکم دوں تو جہاں تک تم سے ہو سکے اس کی تعمیل کرو اور جب تم کو کسی چیز سے منع کروں تو اس کو چھوڑ دو ۔ (صحیح مسلم)
تشریح
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
جیسا کہ معلوم ہو چکا ہے اسلام کے پانچ ارکان میں سے آخری اور تکمیلی رکن “ حج بیت اللہ ” ہے ۔ حج کیا ہے ؟ .... ایک معین اور مقررہ وقت پر اللہ کے دیوانوں کی طرح اس کے دربار میں حاضر ہونا ، اور اس کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اداؤں ، اور طور طریقوں کی نقل کر کے ان کے سلسلے اور مسلک سے اپنی وابستگی اور وفاداری کا ثبوت دینا اور اپنی استعداد کے بقدر ابراہیمی جذبات اور کیفیات سے حصہ لینا اور اپنے کو ان کے رنگ میں رنگنا ۔
مزید وضاحت کے لیے کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ایک شان یہ ہے کہ وہ ذو الجلال والجبروت ، احکم الحاکمین اور شہنشاہ کل ہے ، اور ہم اس کے عاجز و محتاج بندے اور مملوک و محکوم ہیں ۔ اور دوسری شان اس کی یہ ہے کہ ان تمام صفات جمال سے بدرجہ اتم متصف ہے جس کی وجہ سے انسان کو کسی سے محبت ہوتی ہے اور اس لحاظ سے وہ .... بلکہ صرف وہی .... محبوب حقیقی ہے ۔ اس کی پہلی حاکمانہ اور شاہانہ شان کا تقاضا یہ ہے کہ بندے اس کے حضور میں ادب و نیاز کی تصویر بن کر حاضر ہوں .... ارکان اسلام میں پہلا عملی رکن نماز اسی کا خاص مرقع ہے اور اس میں یہی رنگ غالب ہے ۔ اور زکوٰۃ بھی اسی نسبت کے ایک دوسرے رخ کو ظاہر کرتی ہے .... اور اس کی دوسری شان محبوبیت کا تقاضا یہ ہے کہ بندوں کا تعلق اس کے ساتھ محبت اور والہیت کا ہو ۔ روزے میں بھی کسی قدر یہ رنگ ہے ، کھانا پینا چھوڑ دینا اور نفسانی خواہشات سے منہ موڑ لینا عشق و محبت کی منزلوں میں سے ہے ، مگر حج اس کا پورا پورا مرقع ہے ۔ سلے کپڑوں کے بجائے ایک کفن نما لباس پہن لینا ، ننگے سر رہنا ، حجامت نہ بنوانا ، ناخن نہ ترشوانا ، بالوں میں کنگھا نہ کرنا ، تیل نہ لگانا ، خوشبو کا استعمال نہ کرنا ، میل کچیل سے جسم کی صفائی نہ کرنا ، چیخ چیخ کے لبیک لبیک پکارنا ، بیت اللہ کے گرد چکر لگانا ، اس کے ایک گوشے میں لگے ہوئے سیاہ پتھر (حجر اسود) کو چومنا ، اس کے در و دیوار سے لپٹنا اور آہ و زاری کرنا ، پھر صفا و مروہ کے پھیرے کرنا ، پھر مکہ شہر سے بھی نکل جانا اور منیٰ اور کبھی عرفات اور کبھی مزدلفہ کے صحراؤں میں جا پڑنا ، پھر جمرات پہ بار بار کنکریاں مارنا ، یہ سارے اعمال وہی ہیں جو محبت کے دیوانوں سے سرزد ہوا کرتے ہیں ، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام گویا اس رسم عاشقی کے بانی ہیں .... اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ ادائیں اتنی پسند آئیں کہ اپنے دربار کی خاص الخاص حاضری حج و عمرہ کے ارکان و مناسک ان کو قرار دے دیا ۔ انہی سب کے مجموعہ کا نام گویا حج ہے ، اور یہ اسلام کا آخری اور تکمیلی رکن ہے ۔
اس سلسلہ معارف الحدیث کی پہلی جلد “ کتاب الایمان ” میں وہ حدیثیں گزر چکی ہیں جن میں اسلام کے ارکان پنجگانہ کا بیان ہے ، اور ان میں آخری رکن “ حج بیت اللہ ” بتایا گیا ہے ۔
حج کی فرضیت کا حکم راجح قول کے مطابق ۹ھ میں آیا ، اور اس کے اگلے سال ۱۰ھ میں اپنی وفات سے صرف تین مہینے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بڑی تعداد کے ساتھ حج فرمایا ، جو “ حجۃ الوداع ” کے نام سے مشہور ہے ۔ اور اسی حجۃ الوداع میں خاص عرفات کے میدان میں آپ پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي (المائدة5 : 3)
آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ، اور تم پر اپنی نعمت کا اتمام کر دیا ۔
اس میں اس طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ حج اسلام کا تکمیلی رکن ہے ۔
اگر بندہ کو صحیح اور مخلصانہ حج نصیب ہو جائے جس کو دین و شریعت کی زبان میں “ حج مبرور ” کہتے ہیں اور ابراہیمیؑ و محمدیؑ نسبت کا کوئی ذرہ اس کو عطا ہو جائے تو گویا اس کو سعادت کا اعلیٰ مقام حاصل ہو گیا ، اور وہ نعمت عظمیٰ اس کے ہاتھ آ گئی جس سے بڑی کسی نعمت کا اس دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ، اس کو حق ہے کہ تحدیث نعمت کے طور پر کہے اور مست ہو ہو کر کہے ؎
نازم بچشم خود کہ جمالِ تو دیدہ استافتم بہ پائے خود کہ مکویت رسیدہ است
ہر دم ہزار بوسہ زنم دست خویش راکہ دامنت گرفتہ بسویم کشیدہ است
اس مختصر تمہید کے بعد حج کے متعلق ذیل کی حدیثیں پڑھئے ۔
تشریح ..... جامع ترمذی وغیرہ میں قریب قریب اسی مضمون کی ایک حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے ۔ اس میں یہ تصریح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حج کی فرضیت کا یہ اعلان اور اس پر یہ سوال و جواب جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مندرجہ بالا حدیث میں ذکر کیا گیا ہے سورہ آل عمران کی اس آیت کے نازل ہونے پر پیش آیا تھا ۔
وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ البَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا
اللہ کے واسطے بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے ان لوگوں پر جو اس کی استطاعت رکھتے ہوں ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں ان صحابی کا نام مذکور نہیں ہے جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گھا کہ : “ کیا ہر سال حج کرنا فرض کیا گیا ہے ؟ ” لیکن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی اسی مضمون کی حدیث جس کو امام احمد اور دارمی اور نسائی وغیرہ نے روایت کیا ہے ، اس میں تصریح ہے کہ یہ سوال کرنے والے اقرع بن حابس تمیمی تھے ، یہ ان لوگوں میں ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا ، ان کو تعلیم و تربیت حاصل کرنے کا ابھی پورا موقع نہیں ملا تھا ، اسی لیے ان سے یہ لغزش ہوئی کہ ایسا سوال کر بیٹھے اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا تو پھر دوبارہ اور سہ بارہ سوال کیا ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ : “ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج کرنا واجب ہو جاتا ” ۔ اس کا منشاء اور مطلب یہ ہے کہ سوال کرنے والے کو سوچنا سمجھنا چاہئے تھا کہ میں نے حج کے فرض ہونے کا جو حکم سنایا تھا اس کا تقاضا اور مطالبہ عمر بھر میں بس ایک حج کا تھا ، اس کے بعد ایسا سوال کرنے کا نتیجہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ اگر میں ہاں کہہ دیتا (اور ظاہر ہے کہ آپ ہاں جب ہی کہتے جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا) تو ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا ، اور امت سخت مشکل میں پڑ جاتی .... اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : اگلی امتوں کے بہت سےلوگ کثرت سوال اور قیل و قال کی اسی بری عادت کی وجہ سے تباہ ہوئے ، انہوں نے اپنے نبیوں سے سوال کر کر کے شرعی پابندیوں میں اضافہ کرایا اور پھر اس کے مطابق عمل کر نہیں سکے ۔
حدیث کے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑی اور اصولی بات فرمائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : “ جب میں تم کو کسی چیز کا حکم دوں تو جہاں تک تم سے ہو سکے اس کی تعمیل کرو ، اور جس چیز سے منع کروں اس کو ترک کر دو ” ۔
مطلب یہ ہے کہ میری لائی ہوئی شریعت کا مزاج سختی اور تنگی نہیں ہے بلکہ سہولت اور وسعت کا ہے ، جس حد تک تم سے تعمیل ہو سکے اس کی کوشش کرو ، بشری کمزوریوں کی وجہ سے جو کمی کسر رہ جائے گی اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم سے اس کی معافی کی امید ہے ۔
تشریح
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
جیسا کہ معلوم ہو چکا ہے اسلام کے پانچ ارکان میں سے آخری اور تکمیلی رکن “ حج بیت اللہ ” ہے ۔ حج کیا ہے ؟ .... ایک معین اور مقررہ وقت پر اللہ کے دیوانوں کی طرح اس کے دربار میں حاضر ہونا ، اور اس کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اداؤں ، اور طور طریقوں کی نقل کر کے ان کے سلسلے اور مسلک سے اپنی وابستگی اور وفاداری کا ثبوت دینا اور اپنی استعداد کے بقدر ابراہیمی جذبات اور کیفیات سے حصہ لینا اور اپنے کو ان کے رنگ میں رنگنا ۔
مزید وضاحت کے لیے کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ایک شان یہ ہے کہ وہ ذو الجلال والجبروت ، احکم الحاکمین اور شہنشاہ کل ہے ، اور ہم اس کے عاجز و محتاج بندے اور مملوک و محکوم ہیں ۔ اور دوسری شان اس کی یہ ہے کہ ان تمام صفات جمال سے بدرجہ اتم متصف ہے جس کی وجہ سے انسان کو کسی سے محبت ہوتی ہے اور اس لحاظ سے وہ .... بلکہ صرف وہی .... محبوب حقیقی ہے ۔ اس کی پہلی حاکمانہ اور شاہانہ شان کا تقاضا یہ ہے کہ بندے اس کے حضور میں ادب و نیاز کی تصویر بن کر حاضر ہوں .... ارکان اسلام میں پہلا عملی رکن نماز اسی کا خاص مرقع ہے اور اس میں یہی رنگ غالب ہے ۔ اور زکوٰۃ بھی اسی نسبت کے ایک دوسرے رخ کو ظاہر کرتی ہے .... اور اس کی دوسری شان محبوبیت کا تقاضا یہ ہے کہ بندوں کا تعلق اس کے ساتھ محبت اور والہیت کا ہو ۔ روزے میں بھی کسی قدر یہ رنگ ہے ، کھانا پینا چھوڑ دینا اور نفسانی خواہشات سے منہ موڑ لینا عشق و محبت کی منزلوں میں سے ہے ، مگر حج اس کا پورا پورا مرقع ہے ۔ سلے کپڑوں کے بجائے ایک کفن نما لباس پہن لینا ، ننگے سر رہنا ، حجامت نہ بنوانا ، ناخن نہ ترشوانا ، بالوں میں کنگھا نہ کرنا ، تیل نہ لگانا ، خوشبو کا استعمال نہ کرنا ، میل کچیل سے جسم کی صفائی نہ کرنا ، چیخ چیخ کے لبیک لبیک پکارنا ، بیت اللہ کے گرد چکر لگانا ، اس کے ایک گوشے میں لگے ہوئے سیاہ پتھر (حجر اسود) کو چومنا ، اس کے در و دیوار سے لپٹنا اور آہ و زاری کرنا ، پھر صفا و مروہ کے پھیرے کرنا ، پھر مکہ شہر سے بھی نکل جانا اور منیٰ اور کبھی عرفات اور کبھی مزدلفہ کے صحراؤں میں جا پڑنا ، پھر جمرات پہ بار بار کنکریاں مارنا ، یہ سارے اعمال وہی ہیں جو محبت کے دیوانوں سے سرزد ہوا کرتے ہیں ، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام گویا اس رسم عاشقی کے بانی ہیں .... اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ ادائیں اتنی پسند آئیں کہ اپنے دربار کی خاص الخاص حاضری حج و عمرہ کے ارکان و مناسک ان کو قرار دے دیا ۔ انہی سب کے مجموعہ کا نام گویا حج ہے ، اور یہ اسلام کا آخری اور تکمیلی رکن ہے ۔
اس سلسلہ معارف الحدیث کی پہلی جلد “ کتاب الایمان ” میں وہ حدیثیں گزر چکی ہیں جن میں اسلام کے ارکان پنجگانہ کا بیان ہے ، اور ان میں آخری رکن “ حج بیت اللہ ” بتایا گیا ہے ۔
حج کی فرضیت کا حکم راجح قول کے مطابق ۹ھ میں آیا ، اور اس کے اگلے سال ۱۰ھ میں اپنی وفات سے صرف تین مہینے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بڑی تعداد کے ساتھ حج فرمایا ، جو “ حجۃ الوداع ” کے نام سے مشہور ہے ۔ اور اسی حجۃ الوداع میں خاص عرفات کے میدان میں آپ پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي (المائدة5 : 3)
آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ، اور تم پر اپنی نعمت کا اتمام کر دیا ۔
اس میں اس طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ حج اسلام کا تکمیلی رکن ہے ۔
اگر بندہ کو صحیح اور مخلصانہ حج نصیب ہو جائے جس کو دین و شریعت کی زبان میں “ حج مبرور ” کہتے ہیں اور ابراہیمیؑ و محمدیؑ نسبت کا کوئی ذرہ اس کو عطا ہو جائے تو گویا اس کو سعادت کا اعلیٰ مقام حاصل ہو گیا ، اور وہ نعمت عظمیٰ اس کے ہاتھ آ گئی جس سے بڑی کسی نعمت کا اس دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ، اس کو حق ہے کہ تحدیث نعمت کے طور پر کہے اور مست ہو ہو کر کہے ؎
نازم بچشم خود کہ جمالِ تو دیدہ استافتم بہ پائے خود کہ مکویت رسیدہ است
ہر دم ہزار بوسہ زنم دست خویش راکہ دامنت گرفتہ بسویم کشیدہ است
اس مختصر تمہید کے بعد حج کے متعلق ذیل کی حدیثیں پڑھئے ۔
تشریح ..... جامع ترمذی وغیرہ میں قریب قریب اسی مضمون کی ایک حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے ۔ اس میں یہ تصریح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حج کی فرضیت کا یہ اعلان اور اس پر یہ سوال و جواب جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مندرجہ بالا حدیث میں ذکر کیا گیا ہے سورہ آل عمران کی اس آیت کے نازل ہونے پر پیش آیا تھا ۔
وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ البَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا
اللہ کے واسطے بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے ان لوگوں پر جو اس کی استطاعت رکھتے ہوں ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں ان صحابی کا نام مذکور نہیں ہے جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گھا کہ : “ کیا ہر سال حج کرنا فرض کیا گیا ہے ؟ ” لیکن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی اسی مضمون کی حدیث جس کو امام احمد اور دارمی اور نسائی وغیرہ نے روایت کیا ہے ، اس میں تصریح ہے کہ یہ سوال کرنے والے اقرع بن حابس تمیمی تھے ، یہ ان لوگوں میں ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا ، ان کو تعلیم و تربیت حاصل کرنے کا ابھی پورا موقع نہیں ملا تھا ، اسی لیے ان سے یہ لغزش ہوئی کہ ایسا سوال کر بیٹھے اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا تو پھر دوبارہ اور سہ بارہ سوال کیا ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ : “ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج کرنا واجب ہو جاتا ” ۔ اس کا منشاء اور مطلب یہ ہے کہ سوال کرنے والے کو سوچنا سمجھنا چاہئے تھا کہ میں نے حج کے فرض ہونے کا جو حکم سنایا تھا اس کا تقاضا اور مطالبہ عمر بھر میں بس ایک حج کا تھا ، اس کے بعد ایسا سوال کرنے کا نتیجہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ اگر میں ہاں کہہ دیتا (اور ظاہر ہے کہ آپ ہاں جب ہی کہتے جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا) تو ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا ، اور امت سخت مشکل میں پڑ جاتی .... اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : اگلی امتوں کے بہت سےلوگ کثرت سوال اور قیل و قال کی اسی بری عادت کی وجہ سے تباہ ہوئے ، انہوں نے اپنے نبیوں سے سوال کر کر کے شرعی پابندیوں میں اضافہ کرایا اور پھر اس کے مطابق عمل کر نہیں سکے ۔
حدیث کے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑی اور اصولی بات فرمائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : “ جب میں تم کو کسی چیز کا حکم دوں تو جہاں تک تم سے ہو سکے اس کی تعمیل کرو ، اور جس چیز سے منع کروں اس کو ترک کر دو ” ۔
مطلب یہ ہے کہ میری لائی ہوئی شریعت کا مزاج سختی اور تنگی نہیں ہے بلکہ سہولت اور وسعت کا ہے ، جس حد تک تم سے تعمیل ہو سکے اس کی کوشش کرو ، بشری کمزوریوں کی وجہ سے جو کمی کسر رہ جائے گی اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم سے اس کی معافی کی امید ہے ۔
970
Maarif ul Hadithعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ مَلَكَ زَادًا وَرَاحِلَةً تُبَلِّغُهُ إِلَى بَيْتِ اللهِ وَلَمْ يَحُجَّ فَلاَ عَلَيْهِ أَنْ يَمُوتَ يَهُودِيًّا ، أَوْ نَصْرَانِيًّا ، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ : وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ البَيْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً. (رواه الترمذى)
حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس کے پاس سفر حج کا ضروری سامان ہو اور اس کو سواری میسر ہو جو بیت اللہ تک اس کو پہنچا سکے اور پھر وہ حج نہ کرے ، تو کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر ، اور یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ : “ اللہ کے لیے بیت اللہ کا حج فرض ہے ان لوگوں پر جو اس تک جانے کی استطاعت رکھتے ہوں ۔ ” (جامع ترمذی)
تشریح
اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے بڑی سخت وعید ہے جو حج کرنے کی استطاعت رکھنے کے باوجود حج نہ کریں ۔ فرمایا گیا ہے کہ ان کا اس حال میں مرنا اور یہودی یا نصرانی ہو کر مرنا گویا برابر ہے (معاذ اللہ) یہ اس طرح کی وعید ہے جس طرح ترک نماز کو کفر و شرک کے قریب کہا گیا ہے .... قرآن مجید میں بھی ارشاد ہے :
أَقِيمُوا الصَّلاَةَ وَلاَ تَكُونُوا مِنَ المُشْرِكِينَ
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ترک صلوٰۃ مشرکوں والا عمل ہے ۔
حج فرض ہونے کے باوجود حج نہ کرنے والوں کو مشرکین کے بجائے یہود و نصاریٰ سے تشبیہہ دینے کا راز یہ ہے کہ حج نہ کرنا یہود و نصاریٰ کی خصوصیت تھی کیوں کہ مشرکین عرب حج کیا کرتے تھے لیکن وہ نماز نہیں پڑھتے تھے ، اس لیے ترک نماز کو مشرکوں والا عمل بتلایا گیا ۔
اس حدیث میں استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے والوں کے لیے جو سخت وعید ہے اس کے لیے سورہ آل عمران کی اس آیت کا جو حوالہ دیا گیا ہے اور اس کی سند پیش کی گئی ہے جس میں حج کی فرضیت کا بیان ہے ، یعنی
“ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ البَيْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً ” لیکن معلوم ہوتا ہے کہ راوی نے صرف حوالہ کے طور پر آیت کا یہ ابتدائی حصہ پڑھنے پر اکتفا کیا ، یہ وعید آیت کے جس حصے سے نکلتی ہے وہ اس کے آگے والا حصہ ہے ، یعنی “ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ العَالَمِينَ ” (جس کا مطلب یہ ہے کہ اس حکم کے بعد جو کوئی کافرانہ رویہ اختیار کرے یعنی باوجود استطاعت کے حج نہ کرے تو اللہ کو کوئی پرواہ نہیں ، وہ ساری دنیا اور ساری کائنات سے بے نیاز ہے) .... اس میں استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے والوں کے رویہ کو “ وَمَنْ كَفَرَ ” کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے ، اور “ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ العَالَمِينَ ” کی وعید سنائی گئی ہے ، اس کا مطلب یہی ہوا کہ ایسے ناشکرے اور نافرمان جو کچھ بھی کریں اور جس حال میں مریں اللہ کو ان کی کوئی پرواہ نہیں ۔
قریب قریب اسی مضمون کی ایک حدیث مسند دارمی وغیرہ میں حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔
تشریح
اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے بڑی سخت وعید ہے جو حج کرنے کی استطاعت رکھنے کے باوجود حج نہ کریں ۔ فرمایا گیا ہے کہ ان کا اس حال میں مرنا اور یہودی یا نصرانی ہو کر مرنا گویا برابر ہے (معاذ اللہ) یہ اس طرح کی وعید ہے جس طرح ترک نماز کو کفر و شرک کے قریب کہا گیا ہے .... قرآن مجید میں بھی ارشاد ہے :
أَقِيمُوا الصَّلاَةَ وَلاَ تَكُونُوا مِنَ المُشْرِكِينَ
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ترک صلوٰۃ مشرکوں والا عمل ہے ۔
حج فرض ہونے کے باوجود حج نہ کرنے والوں کو مشرکین کے بجائے یہود و نصاریٰ سے تشبیہہ دینے کا راز یہ ہے کہ حج نہ کرنا یہود و نصاریٰ کی خصوصیت تھی کیوں کہ مشرکین عرب حج کیا کرتے تھے لیکن وہ نماز نہیں پڑھتے تھے ، اس لیے ترک نماز کو مشرکوں والا عمل بتلایا گیا ۔
اس حدیث میں استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے والوں کے لیے جو سخت وعید ہے اس کے لیے سورہ آل عمران کی اس آیت کا جو حوالہ دیا گیا ہے اور اس کی سند پیش کی گئی ہے جس میں حج کی فرضیت کا بیان ہے ، یعنی
“ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ البَيْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً ” لیکن معلوم ہوتا ہے کہ راوی نے صرف حوالہ کے طور پر آیت کا یہ ابتدائی حصہ پڑھنے پر اکتفا کیا ، یہ وعید آیت کے جس حصے سے نکلتی ہے وہ اس کے آگے والا حصہ ہے ، یعنی “ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ العَالَمِينَ ” (جس کا مطلب یہ ہے کہ اس حکم کے بعد جو کوئی کافرانہ رویہ اختیار کرے یعنی باوجود استطاعت کے حج نہ کرے تو اللہ کو کوئی پرواہ نہیں ، وہ ساری دنیا اور ساری کائنات سے بے نیاز ہے) .... اس میں استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے والوں کے رویہ کو “ وَمَنْ كَفَرَ ” کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے ، اور “ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ العَالَمِينَ ” کی وعید سنائی گئی ہے ، اس کا مطلب یہی ہوا کہ ایسے ناشکرے اور نافرمان جو کچھ بھی کریں اور جس حال میں مریں اللہ کو ان کی کوئی پرواہ نہیں ۔
قریب قریب اسی مضمون کی ایک حدیث مسند دارمی وغیرہ میں حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔
971
Maarif ul Hadithعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُوجِبُ الْحَجَّ؟ قَالَ : « الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ » (رواه الترمذى وابن ماجه)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور اس نے پوچھا کہ : کیا چیز حج کو واجب کر دیتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سامان سفر اور سواری ۔ (جامع ترمذی ، سنن ابن ماجہ)
تشریح
قرآن مجید میں فرضیت حج کی شرط کے طور پر “ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ” فرمایا گیا ہے ، یعنی حج ان لوگوں پر فرض ہے جو سفر کر کے مکہ معظمہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں .... اس میں جو اجمالی ہے غالباً سوال کرنے والے صحابی نے اس کی وضاحت چاہی اور دریافت کیا کہ اس کی استطاعت کا متعین معیار کیا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ایک تو سواری کا انتظام ہو جس میں مکہ معظمہ تک سفر کیا جا سکے اور اس کے علاوہ کھانے پینے جیسی ضروریات کے لیے اتنا سرمایہ ہو جو اس زمانہ سفر کے گزارے کے لیے کافی ہو .... فقہائے کرام نے اس گزارے میں ان لوگوں کے گزارے کو بھی شامل کیا ہے جن کی کفالت جانے والے کے ذمہ ہو ۔
تشریح
قرآن مجید میں فرضیت حج کی شرط کے طور پر “ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ” فرمایا گیا ہے ، یعنی حج ان لوگوں پر فرض ہے جو سفر کر کے مکہ معظمہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں .... اس میں جو اجمالی ہے غالباً سوال کرنے والے صحابی نے اس کی وضاحت چاہی اور دریافت کیا کہ اس کی استطاعت کا متعین معیار کیا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ایک تو سواری کا انتظام ہو جس میں مکہ معظمہ تک سفر کیا جا سکے اور اس کے علاوہ کھانے پینے جیسی ضروریات کے لیے اتنا سرمایہ ہو جو اس زمانہ سفر کے گزارے کے لیے کافی ہو .... فقہائے کرام نے اس گزارے میں ان لوگوں کے گزارے کو بھی شامل کیا ہے جن کی کفالت جانے والے کے ذمہ ہو ۔
972
Maarif ul Hadithعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ ، وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس آدمی نے حج کیا اور اس میں نہ تو کسی شہوانی اور فحش بات کا ارتکاب کیا ، اور نہ اللہ کی کوئی نافرمانی کی تو وہ گناہوں سے ایسا پاک و صاف ہو کر واپس ہو گا جیسا اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا تھا ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے : الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ ۚ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ اس آیت میں حج کرنے والوں کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ خاص کر زمانہ حج میں وہ شہوت کی باتوں اور اللہ کی نافرمانی والے سارے کاموں اور آپس کی جھگڑے بازی سے بچیں ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں اس ہدایت پر عمل کرنے ولوں کو بشارت سنائی گئی ہے اور فرمایا گیا ہے کہ جو شخص حج کرے اور ایام حج میں نہ شہوت کی باتیں کرے ، اور نہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی کوئی ایسی حرکت کرے جو جسق کی حد میں آتی ہو ، تو حج کی برکت سے اس کے سارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے اور وہ گنوہوں سے بالکل ایسا پاک و صاف ہو کر واپس ہو گا جیسا کہ وہ اپنی پیدائش کے دن بے گناہ تھا ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے یہ دولت نصیب فرمائے ۔
تشریح
قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے : الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ ۚ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ اس آیت میں حج کرنے والوں کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ خاص کر زمانہ حج میں وہ شہوت کی باتوں اور اللہ کی نافرمانی والے سارے کاموں اور آپس کی جھگڑے بازی سے بچیں ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں اس ہدایت پر عمل کرنے ولوں کو بشارت سنائی گئی ہے اور فرمایا گیا ہے کہ جو شخص حج کرے اور ایام حج میں نہ شہوت کی باتیں کرے ، اور نہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی کوئی ایسی حرکت کرے جو جسق کی حد میں آتی ہو ، تو حج کی برکت سے اس کے سارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے اور وہ گنوہوں سے بالکل ایسا پاک و صاف ہو کر واپس ہو گا جیسا کہ وہ اپنی پیدائش کے دن بے گناہ تھا ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے یہ دولت نصیب فرمائے ۔
973
Maarif ul Hadithعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « العُمْرَةُ إِلَى العُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا ، وَالحَجُّ المَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الجَنَّةُ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک عمرہ سے دوسرے عمرہ تک کفارہ ہو جاتا ہے اس کے درمیان کے گناہوں کا ۔ اور “ حج مبرور ” (پاک اور مخلصانہ حج) کا بدلہ تو بس جنت ہے ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
974
Maarif ul Hadithعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَابِعُوا بَيْنَ الحَجِّ وَالعُمْرَةِ ، فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الكِيرُ خَبَثَ الحَدِيدِ ، وَالذَّهَبِ ، وَالفِضَّةِ ، وَلَيْسَ لِلْحَجَّةِ الْمَبْرُورَةِ ثَوَابٌ إِلاَّ الجَنَّةُ. (رواه الترمذى والنسائى)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : پے در پے کیا کرو حج اور عمرہ کیوں کہ حج اور عمرہ دونوں فقر و محتاجی اور گناہوں کو اس طرح دور کر دیتے ہیں جس طرح لوہا اور سنار کی بھٹی لوہے اور سونے چاندی کا میل کچیل دور کر دیتی ہے اور “ حج مبرور ” کا صلہ اور ثواب تو بس جنت ہی ہے .... (جامع ترمذی ، سنن نسائی)
تشریح
جو شخص اخلاص کے ساتھ حج یا عمرہ کرتا ہے وہ گویا اللہ تعالیٰ کے دریائے رحمت میں غوطہ لگاتا اور غسل کرتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ گناہوں کے گندے اثرات سے پاک صاف ہو جاتا ہے اور اس کے علاوہ دنیا میں بھی اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہوتا ہے کہ فقر و محتاجی اور پریشان حالی سے اس کو نجات مل جاتی ہے اور خوش حالی اور اطمینان قلب کی دولت نصیب ہو جاتی ہے اور مزید برآں “ حج مبرور ” کے صلہ میں جنت کا عطا ہونا اللہ تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے ۔
تشریح
جو شخص اخلاص کے ساتھ حج یا عمرہ کرتا ہے وہ گویا اللہ تعالیٰ کے دریائے رحمت میں غوطہ لگاتا اور غسل کرتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ گناہوں کے گندے اثرات سے پاک صاف ہو جاتا ہے اور اس کے علاوہ دنیا میں بھی اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہوتا ہے کہ فقر و محتاجی اور پریشان حالی سے اس کو نجات مل جاتی ہے اور خوش حالی اور اطمینان قلب کی دولت نصیب ہو جاتی ہے اور مزید برآں “ حج مبرور ” کے صلہ میں جنت کا عطا ہونا اللہ تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے ۔
975
Maarif ul Hadithعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الحَاجُّ وَالْعُمَّارُ وَفْدُ اللهِ ، إِنْ دَعَوْهُ أَجَابُوهُ ، وَإِنِ اسْتَغْفَرُوهُ غَفَرَ لَهُمْ ". (رواه ابن ماجه)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حج اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں ، اگر وہ اللہ سے دعا کریں تو وہ ان کی دعا قبول فرمائے ، اور اگر وہ اس سے مغفرت مانگیں تو وہ ان کی مغفرت فرمائے ۔ (سنن ابن ماجہ)
976
Maarif ul Hadithعَن ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِذَا لَقِيتَ الْحَاجَّ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَصَافِحْهُ ، وَمُرْهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتَهُ ، فَإِنَّهُ مَغْفُورٌ لَهُ » (رواه احمد)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب کسی حج کرنے والے سے تمہاری ملاقات ہو تو اس کے اپنے گھر میں پہنچنے سے پہلے اس کو سلام کرو اور مصافحہ کرو اور اس سے مغفرت کی دعا کے لئے کہو ، کیوں کہ وہ اس حال میں ہے کہ اس کے گناہوں کی مغفرت کا فیصلہ ہو چکا ہے (اس لیے اس کی دعا کے قبول ہونے کی کاص توقع ہے) ۔ (مسند احمد)
977
Maarif ul Hadithعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَنْ خَرَجَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا أَوْ غَازِيًا ثُمَّ مَاتَ فِي طَرِيقِهِ كَتَبَ اللهُ لَهُ أَجْرَ الْغَازِي وَالْحَاجِّ وَالْمُعْتَمِرِ..... (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کا جو بندہ حج یا عمرہ کی نیت سے یا راہ خدا میں جہاد کے لیے نکلا پھر راستہ ہی میں اس کو موت آ گئی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے واسطے وہی اجر و ثواب لکھ دیا جاتا ہے جو حج و عمرہ کرنے کے لیے اور راہ جہاد کرنے والے کے لیے مقرر ہے ۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
تشریح ..... اللہ تعالیٰ کے اس کریمانہ دستور و قانون کا اعلان خود قرآن مجید میں بھی کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہے :
وَمَن يَخْرُجْ مِن بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّـهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّـهِ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا (النساء 100 : 4)
اور جو بندہ اپنا گھر بار چھوڑ کے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی نیت سے نکل پڑے ، پھر آ جائے اس کو موت (راستہ ہی میں) تو مقرر ہو گیا اس کا اجر اللہ کے ہاں ، اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور بڑا مہربان ہے ۔
اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی بندہ اللہ کی رضا کا کوئی کام کرنے کے لیے گھر سے نکلے اور اس کے عمل میں آنے سے پہلے راستہ ہی میں اس کی زندگی ختم ہو جائے تو اللہ تعالیی کے ہاں اس عمل کا پورا اجر اس بندہ کے لئے مقرر ہو جاتا ہے ، اور یہ اللہ تعالیٰ کی شان رحمت کا تقاضا ہے ۔ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا
تشریح
تشریح ..... اللہ تعالیٰ کے اس کریمانہ دستور و قانون کا اعلان خود قرآن مجید میں بھی کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہے :
وَمَن يَخْرُجْ مِن بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّـهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّـهِ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا (النساء 100 : 4)
اور جو بندہ اپنا گھر بار چھوڑ کے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی نیت سے نکل پڑے ، پھر آ جائے اس کو موت (راستہ ہی میں) تو مقرر ہو گیا اس کا اجر اللہ کے ہاں ، اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور بڑا مہربان ہے ۔
اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی بندہ اللہ کی رضا کا کوئی کام کرنے کے لیے گھر سے نکلے اور اس کے عمل میں آنے سے پہلے راستہ ہی میں اس کی زندگی ختم ہو جائے تو اللہ تعالیی کے ہاں اس عمل کا پورا اجر اس بندہ کے لئے مقرر ہو جاتا ہے ، اور یہ اللہ تعالیٰ کی شان رحمت کا تقاضا ہے ۔ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا
978
Maarif ul Hadithعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : « وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ المَدِينَةِ ذَا الحُلَيْفَةِ ، وَلِأَهْلِ الشَّأْمِ الجُحْفَةَ ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ المَنَازِلِ ، وَلِأَهْلِ اليَمَنِ يَلَمْلَمَ ، فَهُنَّ لَهُنَّ ، وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ لِمَنْ كَانَ يُرِيدُ الحَجَّ وَالعُمْرَةَ ، فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ ، فَمُهَلُّهُ مِنْ أَهْلِهِ ، وَكَذَاكَ وَكَذَاكَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذو الحلیفہ کو اہل مدینہ کا میقات مقرر کیا ، اور جحفہ کو اہل شام کا اور قرن المنازل کو اہل نجد کا ، اور یلملم کو اہل یمن کا ۔ پس یہ چاروں مقامات خود ان کے رہنے والوں کے لیے میقات ہیں ، اور ان سے لوگوں کے لیے جو دوسرے علاقوں سے ان مقامات پر ہوئے ہوئے آئیں جن کا ارادہ حج یا عمرہ کا ہو ۔ پس جو لوگ ان مقامات کے ورے ہوں (یعنی ان مقامات سے مکہ معظمہ کی طرف سے رہنے والے ہوں) تو وہ اپنے گھر ہی سے احرام باندھیں گے ۔ اور یہ قاعدہ اسی طرح چلے گا ، یہاں تک کہ خاص مکہ کے رہنے والے مکہ ہی سے احرام باندھیں گے ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
کعبہ مکہ مکرمہ کو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا قبلہ اور اپنا محترم و مقدس “ بیت ” (گھر) قرار دیا ہے ، اور جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے ، جو لوگ وہاں ھاضری کی استطاعت رکھتے ہوں ، ان پر عمر میں ایک دفعہ حاضر ہونا اور حج کرنا فرض کیا ہے ، اور اس حاضری اور حج کے کچھ لازمی آداب مقرر کئے ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ حاضر ہونے والے اپنے روزمرہ کے اور عام عادی لباس مین حاضر نہ ہوں بلکہ ایسے فقیرانہ لباس میں حاضر ہوں جو مردوں کے کفن سے مشابہت رکھتا ہو ، اور آخرتمیں میدان حشر کی حاضری کو یاد دلاتا ہو ...... کرتا ، پاجامہ ، صدری ، شیروانی ، کوٹ ، پتلون کچھ نہ ہو بس ایک تہبند باندھ لیں ، اور ایک چادر جسم کے اوپر کے حصے میں ڈال لیں ، سر بھی کھلا ہو ، پاؤںمیں موزہ بلکہ ایسا جوتا بھی نہ ہو جس سے پورا پاؤں ڈھک جائے ۔ (1) اسی قسم کی کچھ اور بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جن کا منشاء یہ ہے کہ بندہ ایسی ہیئت اور صورت میں حاضر ہو جس سے اس کی عاجزی اور بےچارگی اور بے حیثیتی و بے مائگی اور عیش دنیوی سے بے رغبتی ظاہر ہو .... لیکن بندوں کے ضعف کا لحاظ رکھتے ہوئے اس کو اس کا مکلف نہیں کیا گیا کہ وہ اپنے گھر ہی سے احرام بند اور ان آداب کے پابند ہو کے روانہ ہوں ، اگر یہ حکم دیا جاتا تو اللہ کے بندے بڑی مشکل میں پڑ جاتے ۔ اب سے کچھ ہی زمانہ پہلے تک بہت سے ملکوں کے حاجی کئی کئی مہینے سفر کرنے کے بعد مکہ معظمہ پہنچا کرتے تھے ، اور اب بھی بہت سے ملکوں کے حجاج کئی کئی ہفتے کا بری اور بحری سفر کر کے وہاں پہنچتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اتنی طویل مدت تک احرام کی پابندیوں کا نبھانا اکثر لوگوں کے لیے سخت مشکل ہوتا ہے ، اس لیے مختلف راستوں سے آنے والے حجاج کے لیے مکہ معظمہ کے قریب مختلف سمتوں میں کچھ مقامات مقرر کر دئیے گئے ہیں اور حکم دیا گیا ہے کہ حج یا عمرہ کے لیے آنے والے جب ان میں سے کسی مقام پہ پہنچیں تو “ بیت اللہ ” اور “ بلد اللہ الحرام ” کے ادب میں وہیں سے احرام بن ہو جائیں .... مختلف سمتوں کے یہ معین مقامات جن کی تفصیل آگے آئے گی “ میقات ” کہلاتے ہیں ۔
یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ احرام باندھنے کا مطلب صرف احرام والے کپڑے پہن لینا نہیں ہے ، بلکہ یہ کپڑے پہن کے پہلے دو رکعت نماز (دوگانہ احرام) پڑھی جاتی ہے اس کے بعد پکار کر تلبیہ پڑھا جاتا ہے :
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ
اس تلبیہ کے پڑھنے کے بعد آدمی محرم (احرام بند) ہو جاتا ہے ، اور اسی سے حج کا عمل شروع ہو جاتا ہے ، اور احرام والی ساری پابندیاں اس پر عائد ہو اجاتیں ہیں .... جس طرح تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد نماز کا عمل شروع ہو جاتا ہے اور نماز والی ساری پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں ۔
اس تمہید کے بعد مواقیت ، احرام اور تلبیہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مندرجہ ذیل احادیث پڑھئے :
تشریح
کعبہ مکہ مکرمہ کو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا قبلہ اور اپنا محترم و مقدس “ بیت ” (گھر) قرار دیا ہے ، اور جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے ، جو لوگ وہاں ھاضری کی استطاعت رکھتے ہوں ، ان پر عمر میں ایک دفعہ حاضر ہونا اور حج کرنا فرض کیا ہے ، اور اس حاضری اور حج کے کچھ لازمی آداب مقرر کئے ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ حاضر ہونے والے اپنے روزمرہ کے اور عام عادی لباس مین حاضر نہ ہوں بلکہ ایسے فقیرانہ لباس میں حاضر ہوں جو مردوں کے کفن سے مشابہت رکھتا ہو ، اور آخرتمیں میدان حشر کی حاضری کو یاد دلاتا ہو ...... کرتا ، پاجامہ ، صدری ، شیروانی ، کوٹ ، پتلون کچھ نہ ہو بس ایک تہبند باندھ لیں ، اور ایک چادر جسم کے اوپر کے حصے میں ڈال لیں ، سر بھی کھلا ہو ، پاؤںمیں موزہ بلکہ ایسا جوتا بھی نہ ہو جس سے پورا پاؤں ڈھک جائے ۔ (1) اسی قسم کی کچھ اور بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جن کا منشاء یہ ہے کہ بندہ ایسی ہیئت اور صورت میں حاضر ہو جس سے اس کی عاجزی اور بےچارگی اور بے حیثیتی و بے مائگی اور عیش دنیوی سے بے رغبتی ظاہر ہو .... لیکن بندوں کے ضعف کا لحاظ رکھتے ہوئے اس کو اس کا مکلف نہیں کیا گیا کہ وہ اپنے گھر ہی سے احرام بند اور ان آداب کے پابند ہو کے روانہ ہوں ، اگر یہ حکم دیا جاتا تو اللہ کے بندے بڑی مشکل میں پڑ جاتے ۔ اب سے کچھ ہی زمانہ پہلے تک بہت سے ملکوں کے حاجی کئی کئی مہینے سفر کرنے کے بعد مکہ معظمہ پہنچا کرتے تھے ، اور اب بھی بہت سے ملکوں کے حجاج کئی کئی ہفتے کا بری اور بحری سفر کر کے وہاں پہنچتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اتنی طویل مدت تک احرام کی پابندیوں کا نبھانا اکثر لوگوں کے لیے سخت مشکل ہوتا ہے ، اس لیے مختلف راستوں سے آنے والے حجاج کے لیے مکہ معظمہ کے قریب مختلف سمتوں میں کچھ مقامات مقرر کر دئیے گئے ہیں اور حکم دیا گیا ہے کہ حج یا عمرہ کے لیے آنے والے جب ان میں سے کسی مقام پہ پہنچیں تو “ بیت اللہ ” اور “ بلد اللہ الحرام ” کے ادب میں وہیں سے احرام بن ہو جائیں .... مختلف سمتوں کے یہ معین مقامات جن کی تفصیل آگے آئے گی “ میقات ” کہلاتے ہیں ۔
یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ احرام باندھنے کا مطلب صرف احرام والے کپڑے پہن لینا نہیں ہے ، بلکہ یہ کپڑے پہن کے پہلے دو رکعت نماز (دوگانہ احرام) پڑھی جاتی ہے اس کے بعد پکار کر تلبیہ پڑھا جاتا ہے :
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ
اس تلبیہ کے پڑھنے کے بعد آدمی محرم (احرام بند) ہو جاتا ہے ، اور اسی سے حج کا عمل شروع ہو جاتا ہے ، اور احرام والی ساری پابندیاں اس پر عائد ہو اجاتیں ہیں .... جس طرح تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد نماز کا عمل شروع ہو جاتا ہے اور نماز والی ساری پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں ۔
اس تمہید کے بعد مواقیت ، احرام اور تلبیہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مندرجہ ذیل احادیث پڑھئے :