عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « صَلاَةٌ فِي مَسْجِدِي هذَا ، خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلاَةٍ فِيمَا سِوَاهُ. إِلاَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری اس مسجد میں (یعنی مدینہ طیبہ کی مسجد نبوی میں) ایک نماز ، دوسری تمام مساجد کی ہزار نمازوں سے بہتر ہے ، سوائے مسجد خرم کے ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم جس کی بنیاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں رکھی ، پھر جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بھر نمازیں پڑھیں اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری دینی سرگرمیوں ، تعلیم و تربیت ، ہدایت و ارشاد اور دعوت و جہاد کا مرکز بنی رہی ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے مقدس بیت خانہ کعبہ اور مسجد حرام کے ما سوا دنیا کے سارے معبدوں پر عظمت و فضیلت بخشی ہے ۔ صحیح احادیث میں ہے کہ اس کی ایک نماز اجر و ثواب میں دوسری عام مساجد کی ہزار نمازوں سے بڑھ کر ہے ۔
اس حدیث میں مسجد نبوی کی نماز کو مکہ معظمہ اور مسجد حرام کے علاوہ دوسری عام مساجد کی ہزار نمازوں سے بہتر بتلایا گیا ہے لیکن مسجد حرام کے درجہ سے یہ حدیث ساکت ہے ، مگر دوسری مندرجہ ذیل حدیث میں اس کی بھی وضاحت فرما دی گئی ہے ۔