عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ النَّارَ»
حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ، آپ ارشاد فرماتے تھے ، کہ : “جو کوئی شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے ، اور محمد اس کے رسول ہیں ، تو اللہ نے اس شخص پر دوزخ کی آگ حرام کر دی ہے” ۔
تشریح
جیسا کہ اس سے پہلی حدیث کی تشریح میں تفصیل سے بتلایا جا چکا ہے ، اس حدیث میں بھی “توحید و رسالت کی شہادت” مراد ، دعوت اسلام کو قبول کرنا اور اس پر چلنا ہے ، اسی کو دوسرے لفظوں میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ : “لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ” کی شہادت پورے اسلام کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے ۔ جس نے یہ شہادت سوچ سمجھ کے ادا کی ، درحقیقت اس نے پورے اسلام کو اپنا دین بنا لیا ، اب اگر بالفرض اس سے بہ تقاضائے بشریت کوئی کوتاہی بھی ہو گی تو اس کا ایمانی شعور ، کفارہ اور توبہ وغیرہ کے مقررہ طریقوں سے اس کی تلافی کرنے پر اس کو مجبور کرے گا ، اور اس لئے ان شاء اللہ وہ عذاب دوزخ سے محفوظ ہی رہے گا ۔