عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ، فَقَالَ: «يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ»، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ، وَسَعْدَيْكَ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: «يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: «يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: «هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «فَإِنَّ حَقُّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ، وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا»، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: «يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ، وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: «هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ» (رواه البخارى ومسلم واللفظ له)
حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے ، کہ ایک دفعہ میں حضور ﷺ کے ساتھ ایک ہی سواری پر تھا اور میرے اور آپ ﷺ کے درمیان کجاوے کے پچھلے حصے کے سوا اور کوئی چیز حائل نہ تھی (یعنی میں حضور ﷺ کے پیچھے بالکل ملا ہوا بیٹھا تھا کہ چلتے ہی چلتے) آپ ﷺ نے مجھے پکارا ، اور فرمایا : معاذ بن جبل! ۔۔۔ میں نے عرض کیا : “لبیک یا رسول اللہ (ﷺ) وسعدیک” (یعنی میں حاضر ہوں ، ارشاد فرمائیں) ۔۔۔ پھر کچھ دیرچلنے کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا : “معاذ بن جبل!” میں نے عرض کیا : “لبیک یا رسول اللہ (ﷺ) وسعدیک” پھر کچھ دیر چلنے کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا : “معاذ بن جبل!” میں نے عرض کیا : “لبیک یا رسول اللہ (ﷺ) وسعدیک” (اس تیسری دفعہ میں) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : “تم جانتے ہو ، کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟” میں نے عرض کیا : “اللہ و رسول ﷺ کو ہی زیادہ علم ہے” ارشاد فرمایا : “اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ اس کی عبادت و بندگی کریں ، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں” پھر کچھ دیر چلنے کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا : “معاذ بن جبل!” میں نے عرض کیا : “لبیک یا رسول اللہ (ﷺ) وسعدیک” آپ ﷺ نے فرمایا : “تم جانتے ہو کہ جب بندے اللہ کا یہ حق ادا کریں ، تو پھر اللہ پر ان کا کیا حق ہے؟” میں نے عرض کیا : “اللہ و رسول ﷺ کو ہی زیادہ علم ہے” آپ ﷺ نے فرمایا : “یہ کہ انہیں عذاب میں نہ ڈالے”۔
تشریح
حضرت معاذؓ نے اصل حدیث بیان کرنے سے پہلے حضور ﷺ کے ساتھ ایک ہی سواری آپ کے پیچھے بالکل آپ سے مل کر بیٹھنے کو جس خاص انداز سے بیان کیا ہے ، اس کی چند وجہیں ہو سکتی ہیں : ایک یہ کہ حضور ﷺ کی جو خاص شفقت اور عنایت حضرت معاذؓ پر تھی ، اور بارگاہِ نبویﷺ میں جو خاص مقامِ قرب ان کو حاصل تھا ، وہ سامعین کے پیشِ نظر رہے ، تاکہ وہ یہ سمجھ سکیں کہ حضور ﷺ نے حضرت معاذؓ سے ایک ایسی بات کیوں فرمائی ، جس کی عوام مسلمین میں اشاعت کے آپ روادار نہ تھے ، جیسا کہ اگلی روایت میں تصریح ہے ۔
دوسری بات اس کی توجیہ میں یہ بھی کہی جا سکتی ہے ، کہ ممکن ہے حضرت معاذؓ کا مقصد اس تفصیل کے بیان کرنے سے اس حدیث کے بارے میں اپنا اتقان بھی ظاہر کرنا ہو ، یعنی لوگوں پر یہ واضح کرنا ہو کہ مجھے یہ حدیث ایسی یاد ہے ، کہ اُس وقت کی یہ جزئی باتیں بھی مجھے محفوظ ہیں ۔
اور تیسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے ، کہ جس طرح عشاق و محبین کی عادت ہوتی ہے کہ وہ محبت کی یادگار صحبتوں کو والہانہ انداز میں اور مزے لے لے کر تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں ، اسی جذبے کے ما تحت حضرت معاذؓ نے حضور ﷺ کے ساتھ اہپنے سوار ہونے کی یہ تفصیل بیان کی ہو ۔
۲۔ حضور ﷺ نے تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد حضرت معاذؓ کو تین دفعہ مخاطب کیا ، اور پھر جو کچھ آپ فرمانا چاہتے تھے اس کا ایک حصہ آپ نے تیسری دفعہ فرمایا ، اور دوسرا جز کچھ دیر توقف کے بعد چوتھی دفعہ فرمایا ۔۔۔ اس کی توجیہ میں شارحین نے لکھا ہے ، کہ غالباً آنحضرتﷺ اس طرح حضرت معاذؓ کو پوری طرح اپنی طرف متوجہ فرمانا چاہتے تھے ، تا کہ وہ ہمہ تن گوش ہو کر پوری رغبت و توجہ اور غور و تامل کے ساتھ آپ کا ارشاد سنیں ۔۔۔ دوسری توجیہ یہ بھی کی گئی ہے کہ حضور ﷺ کو اس میں تردد اور توقف تھا ، کہ حضرت معاذؓ سے بھی یہ بات بیان کر دی جائے یا نہ کی جائے ، اس وجہ سے آپ نے ابتداء میں تو تین دفعہ توقف فرمایا ، اور جب بیان فرما دینے ہی کے متعلق آپ کا شرح صدر ہو گیا تب آپ نے بیان فرمایا ۔۔۔ لیکن راقم کے نزدیک ان دونوں توجیہوں میں تکلف ہے ، اور زیادہ قرین قیاس یہ معلوم ہوتا ہے ، کہ حضور ﷺ پر اس وقت کوئی خاص استغراقی حالت طاری تھی ، آپ حضرت معاذؓ کو مخاطب کرتے تھے ، اور کچھ فرمانے سے پہلے پھر اسی کیفیت میں استغراق ہو جاتا تھا ، اس وجہ سے درمیان میں یہ وقفے ہوئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔
۳۔ اصل حدیث کا حاصل صرف یہ ہے کہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا حق یہ ہے ، کہ وہ اس کی عبادت اور بندگی کریں ، اور کسی چیز کو اس کے ساتھ شرین نہ کریں ، اور جب وہ اللہ کا یہ حق ادا کریں گے ، تو االلہ تعالیٰ نے ان کا یہ حق اپنے پر مقرر کر لیا ہے کہ وہ ان کو عذاب میں نہ ڈالے گا ۔
اس حدیث میں “اللہ کی عبادت کرنے اور شرک سے بچنے” سے مراد بھی درحقیقت دینِ توحید (یعنی اسلام) کو اختیار کرنا ، اور اس پر چلنا ہے ، اور چونکہ اس وقت اسلام و کفر کے درمیان سب سے بڑا اور واضح فرق و امتیاز توحید اور شرک ہی کا تھا ، اس لئے اس حدیث میں (اور بعض ، اور حدیثوں میں بھی) اسی عنوان کو اختیار کیا گیا ہے ، نیز یہ بھی واقعہ ہے کہ اللہ کی عبادت و بندگی کرنا ، اور شرک سے بچنا اسلام کی رُوح ، اور اس کا مرکزی مسئلہ ہے ، اس لئے بھی کبھی کبھی اسلام کے لیے یہ عنوان اختیار کر لیا جاتا ہے ، اس بات کی تائید (کہ اس حدیث میں اللہ کی عبادت کرنے اور شرک سے بچنے سے مراد دین اسلام قبول کرنا ہے) اس سے بھی ہوتی ہے ، کہ صحیحین (بخاری و مسلم) ہی میں حضرت معاذؓ کی اسی حدیث کی ایک روایت میں (جو اگلے ہی نمبر پر ذکر کی جارہی ہے) توحید و رسالت دونوں پر ایمان لانے اور دونوں کی شہادت ادا کرنے کا ذکر ہے ، اور ایک روایت میں شہادت توحید و رسالت کے علاوہ نماز اور روزہ کا بھی ذکر ہے ۔