عَنْ أَنَسِ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي» (رواه الترمذى و ابو داؤد وابن ماجه عن جابر)
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری شفاعت میری امت کے ان لوگوں کے حق میں ہو گی جو کبیرہ گناہوں کے مرتکب ہوئے ہوں گے ، (ترمذی و ابو داؤد) اس حدیث کو ابن ماجہ نے بجائے حضرت انسؓ کے حضرت جابر سے روایت کیا ہے ۔
تشریح
اس قسم کی حدیثوں سے نڈر اور بے خوف ہو کر گناہوں پر اور زیادہ جری ہو جانابڑا کمینہ پن ہے ، حضور ﷺ کے اس قسم کے ارشادات کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جن لوگوں سے شامتِ نفس سے گناہ ہو جائیں ، وہ بھی مایوس اور نا امید نہ ہوں ، میں ان کی شفاعت کروں گا اس لئے وہ شفاعت کا استحقاق پیدا کرنے کے لیے اللہ کے ساتھ اپنے بندگی کے تعلق کو ، اور میرے امتی ہونے کے تعلق کو درست کرنے کی فکر کریں ۔