عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْخَطْمِيِّ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْتَوْدِعَ الْجَيْشَ قَالَ: «أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكُمْ وَأَمَانَتَكُمْ وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمْ» (رواه ابوداؤد)
حضرت عبداللہ الخطمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ آپ ﷺ لشکر کو رخصت کرتے وقت فرماتے : “أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكُمْ وَأَمَانَتَكُمْ وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمْ” (میں اللہ کے سپرد کرتا ہوں تمہارے دین کو اور تمہاری صفت امانت کو ، اور تمہارے آخری اعمال کو) ۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
یہاں “امانت” سے مراد انسان کے دل کی وہ خاص صفت اور کیفیت ہے ، جو اس سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ اللہ کے اور اس کے بندوں کے حقوق صحیح طور پر ادا کرے ۔ مختصر لفظوں میں اس کو “بندگی کی ذمہ داریوں کے احساس” سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔
مؤمن کی خاص پونجی اس کی یہ صفت امانت اور اس کا دینی اور اعمال ہیں ، اس لئے رسول اللہ ﷺ لشکر کو رخصت کرتے وقت مجاہدین کی ان چیزوں کو خاص طور سے اللہ کی سپردگی میں دیتے تھے اور دعا فرماتے تھے کہ وہ ان کی حفاظت فرمائے ۔ اسی طرح کسی شخص کو رخصت کرتے وقت بھی آپ ﷺ کا معمول تھا کہ آپ ﷺ اس کا ہاتھ اپنے دستِ مبارک میں لے لیتے اور فرماتے : “أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَآخِرُ عَمَلِكَ” (تمہارے دین تمہارے امانت اور خاتمہ والے اعمال کو میں خدا کے سپرد کرتا ہوں ، وہ ان کی حفاظت فرمائے) ۔ رواہ الترمذی عن ابن عمر ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی کو رخصت کرنے کے وقت مصافحہ فرمانا بھی آپ ﷺ کا معمول تھا ۔ واللہ اعلم ۔