hadith book logo

Maarif ul Hadith: Hadith 124

1. کتاب الایمان

معارف الحدیث

124
Maarif ul Hadith
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ مِمَّ خُلِقَ الخَلْقُ؟ قَالَ: مِنَ الْمَاءِ، قُلْتُ: الْجَنَّةُ مَا بِنَاؤُهَا؟ قَالَ: لِبْنَةُ مِنْ ذَهَبٍ وَلِبْنَةُ مِنْ فِضَّةٍ ، وَمِلاَطُهَا الْمِسْكُ الأَذْفَرُ، وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَاليَاقُوتُ، وَتُرْبَتُهَا الزَّعْفَرَانُ مَنْ يَدْخُلُهَا يَنْعَمُ وَلاَ يَبْأَسُ، وَيَخْلُدُ وَلاَ يَمُوتُ، لاَ يَبْلَى ثِيَابُهُمْ، وَلاَ يَفْنَى شَبَابُهُمْ . (رواه احمد والترمذى والدارمى)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ، کہ مخلوق کس چیز سے پیدا کی گئی ؟ آپ نے فرمایا پانی سے پھر ہم نے عرض کیا ، کہ جنت کس چیز سے بنی (یعنی اس کی تعمیر پتھروں سے ہوئی یا انیٹوں سے ، یا کس چیز سے ؟) آپ نے فرمایا ، اس کی تعمیر اس طرح ہے ، کہ ایک اینٹ سونے کی ، اور ایک اینٹ چاندی کی ، اور اس کا مسالہ (جس سے اینٹوں کو جوڑا گیا ہے) تیز خوشبودار مشک ہے ، اور وہاں کے سنگریزے جو بچھے ہوئے ہیں وہ موتی اور یاقوت ہین ، اور وہاں کی خاک گویا زعفران ہے ، جو لوگ اس جنت میں پہنچیں گے ، ہمیشہ عیش اور چین سے رہیں گے ، اور کوئی تنگی ، تکلیف ، ان کو نہ ہو گی ۔ اور ہمیشہ زندہ رہیں گے ، وہاں ان کو موت نہیں آئے گی ، اور کبھی ان کے کپڑے پرانے اور خستہ نہ ہوں گے ، اور ان کی جوانی کبھی زائل نہ ہو گی ۔ (رواہ احمد والترمذی والدارمی)

تشریح
حضرت ابو ہریرہؓ کے پہلے سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ عام مخلوق پانی سے پیدا کی گئی ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ نے پہلے پانی پیدا کیا ، اور پھر سے اور مخلوق وجود میں آئی ۔ قرآن مجید میں بھی فرمایا گیا ہے : “وَاللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِنْ مَاءٍ” اور دوسری جگہ فرمایا گیا ہے : “وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ” جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر جاندار پانی سے پیدا کیا گیا ہے ۔ پھر دوسرے سوال کے جواب میں جنت کی تعمیر اور وہاں کے فرش اور وہاں کی خاک کے متعلق جو کچھ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا ، اس کی اصلی حقیقت اور کیفیت مشاہدے ہی سے معلوم ہو گی ، البتہ یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ جنت کی تعمیر اس طر ح نہیں ہوئی ہے کہ کسی عملے نے اسے بنایا ہو ، جس طرح ہماری اس دنیا میں عمارتیں بنتی ہیں ، بلکہ جنت اور اس کی ہر چیز معماروں اور صناعوں کے توسط کے بغیر اللہ کے حکم سے بنی ہے ، جس طرح زمین و آسمان اور آسمان کے ستارے ، آفتاب و ماہتاب وغیرہ سب براہ راست اللہ کے حکم سےبنے ہیں ۔
“إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئاً أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ”