عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ لِأَهْلِ الجَنَّةِ: يَا أَهْلَ الجَنَّةِ؟ فَيَقُولُونَ: لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ، فَيَقُولُ: هَلْ رَضِيتُمْ؟ فَيَقُولُونَ: وَمَا لَنَا لاَ نَرْضَى وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، فَيَقُولُ: أَنَا أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالُوا: يَا رَبِّ، وَأَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ؟ فَيَقُولُ: أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِي، فَلاَ أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا " (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ : (جنتی جب جنت میں پہنچ جائیں گے اور وہاں کی نعمتیں ان کو عطا ہو جائیں گی تو) اللہ تعالیٰ ان کو مخاطب کر کے فرمائیں گے ، کہ اے اہلِ جنت ! وہ عرض کریں گے ، کہ اے ہمارے رب ! ہم حاضر ہیں ، حاضر ہین ، آُ کی بارگاہ قدس میں ، اور ساری خیر اور سب بھلائی آپ ہی کے قبضے میں ہے (جس کو چاہیں عطا فرمائیں ، یا عطا نہ فرمائیں) پھر اللہ تعالیٰ ان بندوں سے فرمائیں گے ، تم خوش ہو ؟ (یعنی جنت اور جو نعمتیں جنت میں تم کو دی گئی ، تم ان سے راضی ہو ؟) یہ جنتی بندے عرض کریں گے ، اے پروردگار! جب آپ نے ہمیں یہاں وہ کچھ نصیب فرمایا جو اپنی کسی مخلوق کو نہیں دیا تھا (یعنی آپ کی بخشش ، اور آپ کے کرم سے جب یہاں ہمیں وہ نعمتیں اور وہ راحتیں اور لذتیں نصیب ہیں ، جو دنیا میں کسی بڑے سے بڑے کو بھی نصیب نہیں تھیں) تو ہم کیوں راضی اور خوش نہ ہوں گے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ، کیا میں تمہیں اس سب سے اعلیٰ و افضل ایک چیز اور دوں! وہ بندے عرض کریں گے کہ خداودا! وہ کیا چیز ہے ، جو اس جنت اور اس کی ان نعمتوں سے بھی افضل ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ، میں تم کو اب اپنی دائمی اور ابدی رضا مندی ، اور خوشنودی کا تحفہ دیتا ہوں ، اس کے بعد اب میں کبھی تم پر ناراض نہ ہوں گے ۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
جنت اور اس کی ساری نعمتیں عطا فرمانے کے بعد اس رب کریم کا اپنے بندوں سے پوچھنا ، کہ “تم راضی ہو ، خوش اور مطمئن ہو ؟ “ بجائے خود کتنی بڑی نعمت ہے اور پھر دائمی رضا کا تحفہ ، اور کبھی ناراض نہ ہونے کا اعلان ، کتنا بڑا انعام اور احسان ے ، اس سے جو لذت اور مسرت اہلِ جنت کو اس وقت حاصل ہو گی ، اگر اس کا ایک ذرہ اس دنیا میں ہم پر منکشف کر دیا جائے ، تو دنیا کی کسی لذت اور مسرت کی چاہت ہمارے دلوں میں نے رہے ، بے شک ، شے شک اللہ کی رضا ، جنت اور اس کی ساری نعمتوں سے بہت ہی اعلیٰ و بالا ہے ، “وَرِضْوَانٌ مِنَ اللَّهِ أَكْبَرُ” اور لذت و مسرت میں اعلان رضا سے بڑھ کر صرف “دیدارِ الہٰی ہے ”۔