عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اکثر و بیشتر یہ دعا کیا کرتے تھے : “اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ” (اے میرے اللہ ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما ، اور ہمیں آتشِ دوزخ کے عذاب سے بچا) ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
سبحان اللہ ! کتنی مختصر اور کتنی جامع دعا ہے ۔ اس میں اللہ تعالیٰ سے اس دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت کی کبھی ختم نہ ہونے والی زندگی میں بھی بھلائی مانگی گئی ہے ۔ ظاہر ہے اس میں دنیا اور آخرت کی ساری ہی اچھی مرغوبات اور مطلوبات آ گئیں ۔ اور آخر میں عذاب دوزخ سے بچانے اور محفوظ رکھنے کی استدعا کی گئی ہے ۔ الغرض دنیا اور آخرت میں ایک بندے کو جو کچھ چاہئے وہ سب ہی اس مختصر ترین دعا میں مانگ لیا گیا ہے ۔ پھر اس کی ایک یہ بھی خصوصیت ہے کہ یہ دراصل قرآن مجید کی دعا ہے ، اس فرق کے ساتھ کہ قرآن پاک مین اس کا پہلا لفظ “رَبَّنَا” ہے اور حدیث میں اس کی جگہ پہلا لفظ “اَللَّهُمَّ” ہے ۔ حاصل ایک ہی ہے ۔
حضرت انسؓ کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا بہ کثرت کیا کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ ہم امتیوں کو بھی رسول اللہ ﷺ کے اس اکثری معمول کی پیروی کی توفیق دے ۔