عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ يَخْرُجُ مِنْ عَيْنَيْهِ دُمُوعٌ ، وَإِنْ كَانَ مِثْلَ رَأْسِ الذُّبَابِ ، مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ ، ثُمَّ تُصِيبُ شَيْئًا مِنْ حُرِّ وَجْهِهِ ، إِلَّا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ » (رواه ابن ماجه)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کے خوف اور ہیبت سے جس بندہ مومن کی آنکھوں سے کچھ آنسو نکلیں ، اگرچہ وہ مقدار میں بہت کم ، مثلاً مکھی کے سر برابر (یعنی ایک قطرہ ہی کے بقدر) ہوں ، پھر وہ آنسو بہہ کر اس کے چہرہ پر پہنچ جائیں تو اللہ تعالیٰ اس چہرہ کو آتشِ دوزخ کے لئے حرام کر دے گا ۔ (سنن ابن ماجہ)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو چہرہ خوفِ خدا کے آنسوؤں سے کبھی تر ہوا ہو ، اس کو دوزخ کی آگ سے بالکل محفوظ رکھا جائے گا ، اور دوزخ کی آنچ کبھی اس کو نہ لگ سکے گی ۔ “ کتاب الایمان ” میں تفصیل سے بتایا جا چکا ہے ، کہ جن احادیث کسی خاص نیک عمل پر آتشِ دوزخ کے حرام ہو جانے کی خوشخبری دی جاتی ہے ، ان کا مطلب و مقصد عام طور سے یہ ہوتا ہے کہ اس نیک عمل کا ذاتی تقاجہ اور خاصہ یہی ہے ، اور اللہ تعالیٰ اس عمل کرنے والے کو جہنم کی آگ سے بالکل محفوظ رکھے گا ، بشرطیکہ اس شخص سے کوئی ایسا بڑا گناہ سرزد نہ ہوا ہو جس سے تقاضا اس کے برعکس جہنم میں ڈالا جانا ہو ، یا اگر کبھی ایسا گناہ اس سے ہوا ہو تو وہ اس سے تائب ہو چکا ہو ، اور اللہ تعالیٰ سے اس کی معافی مانگ چکا ہو ۔ یہ نہ سمجھا جائے ، کہ یہ محض تاویل ہے بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ہمارے عرف اور محاورات میں بھی اس قسم کے وعدوں اور بشارتوں میں یہ شرط ہمیشہ محفوظ ہوتی ہے ۔