عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَا آكُلُ مُتَّكِئًا» (رواه البخارى)
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : میں ٹیک لگا کر یا کسی چیز کے سہارے بیٹھ کر کھانا نہیں کھاتا ۔ (صحیح بخاری)
تشریح
ٹیک لگا کر بلاضرورت کسی چیز کا سہارا لے کر کھانے کے لئے بیٹھنا متکبرانہ طریقہ ہے ، حدیث پاک کا مطلب یہی ہے کہ میں متکبرین کی طرح تکیہ وغیرہ لگا کر کھانا نہیں کھاتا اور اس کو پسند نہیں کرتا ، میں اللہ کا بندہ ہوں اور کھانا بھی اسی طرح کھاتا ہوں جس طرح ایک بندہ کو کھانا چاہئے ۔
کنزالعمال میں مسند ابو یعلیٰ اور ابن سعد کے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث ان الفاظ میں نقل کی گئی ہے ۔
آكُلُ كَمَا يَأْكُلُ الْعَبْدُ، وَأَجْلِسُ كَمَا يَجْلِسُ الْعَبْدُ
میں ایک غلام اور بندہ کی طرح کھاتا ہوں اور غلام اور بندہ کی طرح بیٹھتا ہوں ۔
قریب قریب یہی مضمون دیگر صحابہ کرام کی روایات کا بھی ہے ۔ ان سب احادیث و روایات کا حاصل اور مدعا یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھانے کے لئے ایک عاجز بندہ کی طرح بیٹھتے تھے ، متکبرین کی طرح نہیں بیٹھتے تھے ، اور یہی آپ ﷺ کی تعلیم تھی ۔ اور جو بندہ کھانے کے وقت اس حقیقت سے غافل نہ ہو گا کہ کھانا اللہ تعالیٰ کی نعمت اور (اس کا عطیہ ہے اور وہ ربِ کریم حاضر و ناظر ہے اور میں اس کے سامنے اس کی نگاہ میں ہوں ، وہ کبھی متکبروں کی طرح نہیں بیٹھے گا اور متکبروں کی طرح نہیں کھائے گا) ۔