عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ، قَالَ: «مَا أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ، وَلاَ فِي سُكْرُجَةٍ، وَلاَ خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ» قُلْتُ لِقَتَادَةَ: عَلَى مَا يَأْكُلُونَ؟ قَالَ: «عَلَى السُّفَرِ» (رواه البخارى)
حضرت قتادہ نے رسول اللہ ﷺ کے خادم حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی خوان پر کھانا نہیں کھایا اور نہ چھوٹی طشتری یا پیالی میں کھایا اور نہ کبھی آپ کے لئے چپاتی پکائی گئی ۔ قتادہ سے پوچھا گیا تو پھر (رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب کرامؓ) کس چیز پر کھانا کھایا کرتے تھے ، تو انہوں نے کہا کہ دسترخوان پر ۔ (صحیح بخاری)
تشریح
خُوان (جس کا ترجمہ خوان کیا گیا ہے) ایک چوکی یا نیچی قسم کی میز ہوتی تھی جو کھانے ہی میں استعمال ہوتی تھی ، بڑے لوگ (مترفین) اسی پر کھانا کھاتے تھے اور نیچے فرش پر دسترخوان بچھا کر کھانے کو بڑائی اور امارت کی شان کے خلاف سمجھا جاتا تھا ۔ اسی طرح امیر لوگوں کے دسترخوان پر سکرجہ یعنی چھوٹی چھوٹی طشتریاں اور پیالیاں ہوتی تھیں ۔ خود صحابہ کرامؓ کے آخری دور میں یہ چیزیں خود مسلمان گھرانوں میں بہت عام ہو گئی تھیں ۔
حضرت انسؓ کی اس حدیث کا مطلب و مدعا بھی بس یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے کھانے میں نہایت سادگی اور بندگی کی شان ہوتی تھی ، نہ آپ ﷺ نے کبھی خوان پر کھانا کھایا ، نہ چھوٹی طشتریوں اور پیالیوں میں کھایا ، نہ کبھی خاص طور سے آپ ﷺ کے لئیے گھر میں چپزتیاں بنائی گئیں ۔ اس سلسلہ معارف الحدیث کی دوسری جلد “کتاب الرقاق” میں وہ حدیثیں گزر چکی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی معیشت کس قدر سادہ اور غریبانہ بلکہ فقیرانہ تھی ۔