عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِجَدْيٍ أَسَكَّ مَيِّتٍ ، فَقَالَ : « أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنَّ هَذَا لَهُ بِدِرْهَمٍ؟ » فَقَالُوا : مَا نُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا بِشَيْءٍ ، قَالُوا : « فَوَاللهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللهِ ، مِنْ هَذَا عَلَيْكُمْ » (رواه مسلم)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گُذر بکری کے ایک بوچے (۱) مردہ بچے پر ہوا ، جو راستے میں مَرا پڑا تھا ، اُس وقت آپ کے ساتھ جو لوگ تھے اُن سے آپ نے فرمایا : تم میں سے کوئی اس مرے ہوئے چے کو صرف ایک درہم میں خریدنا پسند کرے گا ؟ انہوں نے عرض کیا ہم تو اس کو کسی قیمت پر بھی خریدنا پسند نہیں کریں گے ۔ آپ نے فرمایا : قسم ہے خدا کی کہ دنیا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ ذلیل اور بے قیمت ہے جتنا ذلیل اور بے قیمت تمہارے نزدیک یہ مردار بچہ ہے ۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلبِ مبارک میں بندوں کی ہدایت اور تربیت کا جو بے پناہ جذبہ رکھ دیا تھا ، اس حدیث سے اس کا کچھ اندازہ کیا جا سکتا ہے ، آپ راستہ چل رہے ہیں ، بکری کے ایک مردار بچے پر آپ کی نظر پڑتی ہے ، گِھن سے منہ پھیر کر نکل جانے کے بجائے آپ صحابہ کو متوجہ کر کے اُس کی اس حالت سے ایک اہم سبق دیتے ہیں ، اور ان کو بتلاتے ہیں کہ یہ مردار بچہ تمہارے نزدیک جس قدر حقیر و ذلیل ہے اسی قدر اللہ کے نزدیک دنیا حقیر و ذلیل ہے ۔ اس لئے اپنی طلب و فکر کا مرکز اس کو نہ بناؤ ، بلکہ آخرت کے طالب بنو ۔