عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «سَمِعْتُ النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ الْقَزَعِ» قِيْلَ لِنَافِعٍ مَا الْقَزَعُ؟ قَالَ: «يُحْلَقُ بَعْضُ رَأْسِ الصَّبِيِّ وَيُتْرَكُ بَعْضٌ» رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے خادم) نافع ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ ﷺ منع فرماتے تھے قزع سے ۔ نافع سے پوچھا گیا کہ قزع کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے کہا کہ قزع یہ ہے کہ بچے کے سر کے کچھ حصہ کے بال مونڈ دئیے جائیں اور کچھ حصہ کے چھوڑ دئیے جائیں ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بچہ کو دیکھا جس کے سر کے کچھ بال مونڈ دئیے گئے اور کچھ چھوڑ دئیے گئے تھے تو آپ ﷺ نے لوگوں کو اس سے منع فرمایا اور ہدایت فرمائی کہ یا تو پورا سر مونڈا جائے یا پورے سر پر بال چھوڑ دئیے جائیں ۔ اس حکم کی وجہ ظاہر ہے ، سر کے کچھ حصے کے بال مونڈ دینا اور کچھ چھوڑ دینا انتہائی بےڈھنگے پن کی بات ہے اور اس سے بچے کی شکل بگڑ جاتی ہے ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ نے اس سے ممانعت فرمائی ہے ۔ اس حکم پر اس سے ملتی جلتی دوسری صورتوں کو بھی قیاس کیا جا سکتا ہے ۔