عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَى الغَنَمَ»، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: وَأَنْتَ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ، كُنْتُ أَرْعَاهَا عَلَى قَرَارِيطَ لِأَهْلِ مَكَّةَ» (رواه البخارى)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی پیغمبر بھیجے سب نے بکریاں چرائی ہیں ، صحابہؓ نے عرض کیا اور حضرت آپ نے ؟ فرمایا کہ ہاں میں نے بھی بکریاں چرائی ہیں ، میں چند قیراط پر اہلِ مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا ۔ (صحیح بخاری)
تشریح
کسی کو اجرت اور مزدوری دے کر اپنا کام کرانا ، یا استعمال کے لئے کسی کو اپنی چیز دے کر اس کا کرایہ لینا ۔ شریعت اور فقہ کی زبان میں اس کو “اجارہ” کہا جاتا ہے اور یہ ان معاملات میں سے ہے جن ر انسانی تمدن کی بنیاد قائم ہے ۔ اس موضوع سے متعلق چند حدیثیں ذیل میں درج کی جا رہی ہیں ۔
تشریح ..... حضور ﷺ نے اس حدیث میں چند قیراط مزدوری پر مکہ والوں کی بکریاں چرانے کا اپنا جو واقعہ بیان فرمایا ہے یہ غالباً ابتدائی عمر کا ہے جب آپ ﷺ اپنے چچا خواجہ ابو طالب کے ساتھ رہتے تھے تو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے مزدوری پر مکہ والوں کی بکریاں چراتے تھے جس کے عوض آپ ﷺ کو چند قیراط مل جاتے تھے ۔ یہی اس زمانہ میں آپ ﷺ کا ذریعہ معاش تھا ۔ ایک قیراط ، درہم کا قریباً بارہواں حصہ ہوتا تھا ۔
بکریاں چرانا بڑا صبر آزما کام ہے اور اگر آدمی میں صلاحیت ہو تو اس سے اس کی بڑی تربیت ہوتی ہے ۔ غرور اور تکبر جیسے رزائل کا علاج ہوتا ہے ، صبر کی اور غصہ پینے کی عادت پڑتی ہے اور شفقت و ترحم کی مشق ہوتی ہے ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے سب پیغمبروں نے یہ کورس پورا کیا ہے ۔ ضمنی طور پر یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اس طرح کی مزدوری نہ صرف جائز بلکہ سنتِ انبیاء ہے ۔