Maarif ul Hadith
11. کتاب المعاملات
معارف الحدیث
1738
Maarif ul Hadithعَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طَلَبُ كَسْبِ الْحَلَالِ فَرِيضَةٌ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حلال حاصل کرنے کی فکر و کوشش فرض کے بعد فریضہ ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
بسم اللہ الرحمن الرحیم
معاشی معاملات ...... انسانوں کی فطری ضرورت
اس باب میں خداوندی ہدایت اور اس کے بنیادی اصول
اللہ تعالی نے انسان کو مدنی الطبع بنایا ہے یعنی انسان کی فطری ساخت ایسی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں باہمی تعاون اور معاملاتی لین دین کے محتاج ہیں ہر فرد اور طبقہ کی ضرورت دوسرے سے وابستہ ہے مثلا ایک مزدور جسکی زندگی کی ضرورت ہے بہت مختصر ہے جو صبح سے شام تک محنت مزدوری کرکے بس گزارہ کے پیسے حاصل کرتا ہے اسے بھی ضرورت ہے اس آدمی کی جس سے وہ اپنا اور بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے غلہ وغیرہ خرید سکے اورغلہ پیدا کرنے والے کاشتکار کو ضرورت ہے اس مزدور کی جس سے وہ اپنی کھیتی باڑی کے کاموں میں مدد لے سکے اسی طرح مزدور اور کاشتکار دونوں کو ضرورت ہے اس آدمی کی جو ان کے لباس کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کپڑا تیار کرے اور یہ اس سے بلا واسطہ یا بالواسطہ کپڑا خرید سکیں اور کپڑا تیار کرنے والے کو ضرورت ہے اس آدمی یا اس ایجنسی کی جس سے وہ سوت یا ریشم اور کپڑے کی صنعت کی دوسری ضروریات نقد یا قرض ادھار خرید سکے پھر ان میں سے کسی کو رہنے کے لئے مکان تعمیر کرنا ہو تو اس کو ضرورت ہوگی کسی سے اینٹ سیمنٹ وغیرہ تعمیری ضروریات خریدنے کی اور اس کے بنوانے کے لئے معماروں اور مزدوروں کی۔ پھر خدانخواستہ ان میں سے کوئی بیمار پڑ جائے تو ضرورت ہوگی حکیم ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی اور دواؤں کی دوکان سے دوا خریدنے کی۔ الغرض اشیاء کی خرید و فروخت اور تجارتی مبادلہ اور محنت و مزدوری اور صنعت و زراعت اور قرض وعاریت وغیرہ معاشی معاملات اس دنیا میں انسانی زندگی کے لوازم ہیں پھر ان معاملات میں کبھی کبھی تنازعات کا پیدا ہونا بھی ناگزیر ہے ان کے حل کے لئے ضرورت ہے عدل و انصاف کے کسی نظام کی اور کسی دستور و قانون کی۔ یہ جو کچھ عرض کیا گیا کوئی فلسفہ یا منطق کا مسئلہ نہیں ہے سب مشاہدہ اور ہم سب کا روزمرہ کا تجربہ ہے۔
اللہ تعالی نے انبیاء علیہم السلام کے ذریعے اور سب سے آخر میں خاتم الانبیاء سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے جس طرح انسانوں کو یہ ہدایت دی کہ وہ اپنے آغاز و انجام کے بارے میں اپنے پیدا کرنے والے مالک و معبود کی ذات و صفات اور توحید و آخرت وغیرہ کے بارے میں کیا عقیدہ اور یقین رکھیں اور کس طرح اس کی عبادت کریں اور کونسے اعمال ان کی روحانیت اور انسانی شرافت کے لیے مضر اور مہلک ہیں جن سے وہ بچیں اور پرہیز کریں اور اخلاق اور معاشرت کے بارے میں ان کا رویہ کیا رہے اسی طرح اس نے خریدوفروخت صنعت و تجارت اور محنت مزدوری وغیرہ ان معاشی معاملات کے بارے میں جو انسانی شرافت وعظمت سے مطابقت رکھتے ہیں اور جن میں انسانوں کی دنیوی و اخروی فلاح ہے۔
اس کا نتیجہ یہ بھی ہوا کہ اس خداوندی ہدایت اور اس شعبے سے متعلق شریعت محمدی کے احکام کی پابندی اور پیروی کرتے ہوئے ان کاموں کا کرنا اب دنیا نہیں بلکہ عین دین اور ایک معنی کر عبادت ہے اور اللہ کی طرف سے اس پر اسی طرح اجر و ثواب اور جنت کے درجات عالیہ کا وعدہ ہے جس طرح نماز روزہ اور ذکر و تلاوت وغیرہ اچھے اخلاق پر اور دین کی دعوت اور خدا کی راہ میں جان و مال کی قربانی پر۔
انسانی زندگی کے اس شعبہ یعنی معاملات کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے ذریعے جو ہدایتیں اور جو احکام امت کو ملے ہیں ان کی بنیاد جہاں تک ہم نے سمجھا ہے چار اصولوں پر ہے ایک خلق اللہ کی نفع رسانی۔ دوسرے عدل۔ تیسرے سچائی و دیانت داری۔ چوتھے سماحت۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر فریق دوسرے کے ساتھ رعایت اور خیرخواہی کا معاملہ کرے خاص کر کمزور اور ضرورتمند فریق کو حتی الوسع سہولت دی جائے۔
اس تمہید کے بعد ناظرین کرام معاشی معاملات سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات و تعلیمات ذیل میں پڑھیں۔ اللہ تعا لی لکھنے والے اپنے گنہگار بندے کو نیز پڑھنے والوں اور سننے والوں کو ان ہدایات و ارشادات کی پیروی کے اہتمام کی توفیق عطا فرمائے۔
سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چندوہ ارشادات درج کئے جاتے ہیں جن میں معاشی معاملات کی ہمت افزائی فرمائی گئی ہے اور ان پر اجر و ثواب کی بشارت سنائی گئی ہیں۔
تشریح ..... اکثر شارحین نے حدیث کا مطلب یہ بیان کیا ہے اور بظاہر یہی اللہ و رسول پر ایمان اور نماز و زکوۃ وغیرہ جو اسلام کے اولین اور بنیادی ارکان و فرائض ہیں درجہ اور مرتبہ میں ان کے بعد حلال روزی حاصل کرنے کی فکر اور کوشش بھی ایک اسلامی فریضہ ہے۔ بندہ اگر اس سے غفلت برتے اور کوتاہی کرے گا تو خطرہ ہے حرام روزی سے پیٹ بھرے اور آخرت میں اس کا انجام وہ ہوگا جو حرام سے پیٹ بھرنے والوں کا بتلایا گیا ہے۔ اللہ کی پناہ!
پھر یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے کسی فریضے کا ادا کرنا اس کی بندگی اور عبادت ہے اور بندہ اس پر اجر و ثواب کا مستحق ہے جو فریضہ کی ادائیگی پر اللہ تعالی کی طرف سے ملنا چاہیے۔ پس کسب حلال کی فکر و کوشش اور اس میں مشغول ہونا عین دین و عبادت اور موجب اجر و ثواب ہے۔ اس میں کسب حلال کے طالب ہر تاجر ہر مزدور ہر کاشتکار اور ہر دست کار کے لیے کتنی بڑی بشارت ہے لیکن یہ بہرحال پیش نظر رہے کہ اس حدیث میں صرف کمائی کرنے کو نہیں بلکہ کسب حلال کی تلاش و فکر کا فریضہ بتلایا گیا ہے اور اس ارشاد کا خاص مقصد اور مطمع نظر حرام سے بچانا ہے۔
تشریح
بسم اللہ الرحمن الرحیم
معاشی معاملات ...... انسانوں کی فطری ضرورت
اس باب میں خداوندی ہدایت اور اس کے بنیادی اصول
اللہ تعالی نے انسان کو مدنی الطبع بنایا ہے یعنی انسان کی فطری ساخت ایسی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں باہمی تعاون اور معاملاتی لین دین کے محتاج ہیں ہر فرد اور طبقہ کی ضرورت دوسرے سے وابستہ ہے مثلا ایک مزدور جسکی زندگی کی ضرورت ہے بہت مختصر ہے جو صبح سے شام تک محنت مزدوری کرکے بس گزارہ کے پیسے حاصل کرتا ہے اسے بھی ضرورت ہے اس آدمی کی جس سے وہ اپنا اور بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے غلہ وغیرہ خرید سکے اورغلہ پیدا کرنے والے کاشتکار کو ضرورت ہے اس مزدور کی جس سے وہ اپنی کھیتی باڑی کے کاموں میں مدد لے سکے اسی طرح مزدور اور کاشتکار دونوں کو ضرورت ہے اس آدمی کی جو ان کے لباس کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کپڑا تیار کرے اور یہ اس سے بلا واسطہ یا بالواسطہ کپڑا خرید سکیں اور کپڑا تیار کرنے والے کو ضرورت ہے اس آدمی یا اس ایجنسی کی جس سے وہ سوت یا ریشم اور کپڑے کی صنعت کی دوسری ضروریات نقد یا قرض ادھار خرید سکے پھر ان میں سے کسی کو رہنے کے لئے مکان تعمیر کرنا ہو تو اس کو ضرورت ہوگی کسی سے اینٹ سیمنٹ وغیرہ تعمیری ضروریات خریدنے کی اور اس کے بنوانے کے لئے معماروں اور مزدوروں کی۔ پھر خدانخواستہ ان میں سے کوئی بیمار پڑ جائے تو ضرورت ہوگی حکیم ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی اور دواؤں کی دوکان سے دوا خریدنے کی۔ الغرض اشیاء کی خرید و فروخت اور تجارتی مبادلہ اور محنت و مزدوری اور صنعت و زراعت اور قرض وعاریت وغیرہ معاشی معاملات اس دنیا میں انسانی زندگی کے لوازم ہیں پھر ان معاملات میں کبھی کبھی تنازعات کا پیدا ہونا بھی ناگزیر ہے ان کے حل کے لئے ضرورت ہے عدل و انصاف کے کسی نظام کی اور کسی دستور و قانون کی۔ یہ جو کچھ عرض کیا گیا کوئی فلسفہ یا منطق کا مسئلہ نہیں ہے سب مشاہدہ اور ہم سب کا روزمرہ کا تجربہ ہے۔
اللہ تعالی نے انبیاء علیہم السلام کے ذریعے اور سب سے آخر میں خاتم الانبیاء سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے جس طرح انسانوں کو یہ ہدایت دی کہ وہ اپنے آغاز و انجام کے بارے میں اپنے پیدا کرنے والے مالک و معبود کی ذات و صفات اور توحید و آخرت وغیرہ کے بارے میں کیا عقیدہ اور یقین رکھیں اور کس طرح اس کی عبادت کریں اور کونسے اعمال ان کی روحانیت اور انسانی شرافت کے لیے مضر اور مہلک ہیں جن سے وہ بچیں اور پرہیز کریں اور اخلاق اور معاشرت کے بارے میں ان کا رویہ کیا رہے اسی طرح اس نے خریدوفروخت صنعت و تجارت اور محنت مزدوری وغیرہ ان معاشی معاملات کے بارے میں جو انسانی شرافت وعظمت سے مطابقت رکھتے ہیں اور جن میں انسانوں کی دنیوی و اخروی فلاح ہے۔
اس کا نتیجہ یہ بھی ہوا کہ اس خداوندی ہدایت اور اس شعبے سے متعلق شریعت محمدی کے احکام کی پابندی اور پیروی کرتے ہوئے ان کاموں کا کرنا اب دنیا نہیں بلکہ عین دین اور ایک معنی کر عبادت ہے اور اللہ کی طرف سے اس پر اسی طرح اجر و ثواب اور جنت کے درجات عالیہ کا وعدہ ہے جس طرح نماز روزہ اور ذکر و تلاوت وغیرہ اچھے اخلاق پر اور دین کی دعوت اور خدا کی راہ میں جان و مال کی قربانی پر۔
انسانی زندگی کے اس شعبہ یعنی معاملات کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے ذریعے جو ہدایتیں اور جو احکام امت کو ملے ہیں ان کی بنیاد جہاں تک ہم نے سمجھا ہے چار اصولوں پر ہے ایک خلق اللہ کی نفع رسانی۔ دوسرے عدل۔ تیسرے سچائی و دیانت داری۔ چوتھے سماحت۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر فریق دوسرے کے ساتھ رعایت اور خیرخواہی کا معاملہ کرے خاص کر کمزور اور ضرورتمند فریق کو حتی الوسع سہولت دی جائے۔
اس تمہید کے بعد ناظرین کرام معاشی معاملات سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات و تعلیمات ذیل میں پڑھیں۔ اللہ تعا لی لکھنے والے اپنے گنہگار بندے کو نیز پڑھنے والوں اور سننے والوں کو ان ہدایات و ارشادات کی پیروی کے اہتمام کی توفیق عطا فرمائے۔
سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چندوہ ارشادات درج کئے جاتے ہیں جن میں معاشی معاملات کی ہمت افزائی فرمائی گئی ہے اور ان پر اجر و ثواب کی بشارت سنائی گئی ہیں۔
تشریح ..... اکثر شارحین نے حدیث کا مطلب یہ بیان کیا ہے اور بظاہر یہی اللہ و رسول پر ایمان اور نماز و زکوۃ وغیرہ جو اسلام کے اولین اور بنیادی ارکان و فرائض ہیں درجہ اور مرتبہ میں ان کے بعد حلال روزی حاصل کرنے کی فکر اور کوشش بھی ایک اسلامی فریضہ ہے۔ بندہ اگر اس سے غفلت برتے اور کوتاہی کرے گا تو خطرہ ہے حرام روزی سے پیٹ بھرے اور آخرت میں اس کا انجام وہ ہوگا جو حرام سے پیٹ بھرنے والوں کا بتلایا گیا ہے۔ اللہ کی پناہ!
پھر یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے کسی فریضے کا ادا کرنا اس کی بندگی اور عبادت ہے اور بندہ اس پر اجر و ثواب کا مستحق ہے جو فریضہ کی ادائیگی پر اللہ تعالی کی طرف سے ملنا چاہیے۔ پس کسب حلال کی فکر و کوشش اور اس میں مشغول ہونا عین دین و عبادت اور موجب اجر و ثواب ہے۔ اس میں کسب حلال کے طالب ہر تاجر ہر مزدور ہر کاشتکار اور ہر دست کار کے لیے کتنی بڑی بشارت ہے لیکن یہ بہرحال پیش نظر رہے کہ اس حدیث میں صرف کمائی کرنے کو نہیں بلکہ کسب حلال کی تلاش و فکر کا فریضہ بتلایا گیا ہے اور اس ارشاد کا خاص مقصد اور مطمع نظر حرام سے بچانا ہے۔
1739
Maarif ul Hadithعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيْكَرَبَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَنْفَعُ فِيهِ إِلَّا الدِّينَارُ وَالدِّرْهَمُ» (رواه احمد)
حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے لوگوں کے لیے ایک وقت آئے گا جب روپیہ پیسہ ہی کام آئے گا۔ (مسند احمد)
تشریح
اس حدیث کو حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہٗ سے روایت کرنے والے ایک تابعی ابوبکر بن ابی مریم ہیں انہوں نے واقعہ یہ بیان کیا ہے کہ حضرت مقدام کے یہاں دودھ دینے والے جانور تھے ان کی ایک باندی دودھ فروخت کرتی اور اسکی قیمت خود حضرت مقدام لے لیتے تھے اس پر بعض لوگوں نے ناپسندیدگی کے ساتھ تعجب کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ دودھ فروخت کراتے ہیں اور اس کی قیمت وصول کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ ہاں میں ایسا کرتا ہوں اور اپنے طرز عمل کے جواز کی سند میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا حوالہ دیا۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ اپنی چیز فروخت کرکے روپیہ پیسہ حاصل کرنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایسا وقت بھی آئے گا کہ روپیہ پیسہ بھی آدمی کے کام آئے گا۔ یعنی میں اسی خیال سے دودھ فروخت کرا کے روپیہ پیسہ حاصل کرتا ہوں مطلب یہ تھا کہ یہ اگر عظیمت نہیں تو رخصت ضرور ہے۔
تشریح
اس حدیث کو حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہٗ سے روایت کرنے والے ایک تابعی ابوبکر بن ابی مریم ہیں انہوں نے واقعہ یہ بیان کیا ہے کہ حضرت مقدام کے یہاں دودھ دینے والے جانور تھے ان کی ایک باندی دودھ فروخت کرتی اور اسکی قیمت خود حضرت مقدام لے لیتے تھے اس پر بعض لوگوں نے ناپسندیدگی کے ساتھ تعجب کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ دودھ فروخت کراتے ہیں اور اس کی قیمت وصول کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ ہاں میں ایسا کرتا ہوں اور اپنے طرز عمل کے جواز کی سند میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا حوالہ دیا۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ اپنی چیز فروخت کرکے روپیہ پیسہ حاصل کرنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایسا وقت بھی آئے گا کہ روپیہ پیسہ بھی آدمی کے کام آئے گا۔ یعنی میں اسی خیال سے دودھ فروخت کرا کے روپیہ پیسہ حاصل کرتا ہوں مطلب یہ تھا کہ یہ اگر عظیمت نہیں تو رخصت ضرور ہے۔
1740
Maarif ul Hadithعَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الْأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ» (رواه الترمذى والدارمى والدار قطنى ، ورواه ابن ماجة عن ابن عمر)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پوری سچائی اور ایمانداری کے ساتھ کاروبار کرنے والا تاجر نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۔ (جامع ترمذی سنن دارمی سنن دارقطنی) اور ابن ماجہ نےیہی حدیث اپنی سند سے حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ۔
تشریح
“ الصدوق ” اور “ الامین ” دونوں مبالغے کے صیغے ہیں حدیث کا مطلب اور پیغام واضح ہے کہ جو تاجر اور سوداگر اپنے کاروبار میں سچائی اور امانت یعنی دیانتداری کی پورے اہتمام سے پابندی کریں گے قیامت اور آخرت میں وہ نبیوں صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہونگے۔
قرآن پاک میں فرمایا گیا ہے ۔ “وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَـٰئِكَ رَفِيقًا ” (جو بندے اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کریں گے’ وہ (قیامت و آخرت میں) ان مقبولین و مقربین کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالی کا خاص انعام ہے یعنی انبیاء و صدیقین اور شہداء و صالحین (کے ساتھ) اور یہ سب بہت ہی اچھے رفیق ہیں) تجارت اور سوداگری بڑی آزمائش کی چیز ہے تاجر کے سامنے بار بار ایسی صورتیں آتی ہیں کہ اگر وہ خدا کے حکم کے مطابق سچائی اور دیانت داری کا لحاظ کرنے کے بجائے اس وقت وہ اپنی تجارتی مصلحت کے مطابق بازاری بات کرے تو ہزاروں لاکھوں کا نفع ہوتا ہے۔ پس جو تاجر اپنی تجارتی مصلحت اور نفع نقصان سے صرف نظر کر کے اللہ کے حکم کے مطابق ہر حال میں سچائی اور ایمانداری کی پابندی کرتا ہے وہ خدائی امتحان میں بڑا کامیاب ہے اور اس حدیث میں ایسے تاجروں کو بشارت سنائی گئی ہے کہ قیامت و آخرت میں وہ اللہ کے مقبول ترین بندوں یعنی نبیوں صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوں گے۔ اللہ تعالی کی طرف سے یہ ان کی سچائی و دیانت داری کا صلہ ہوگا۔
تنبیہ ...... اسی سلسلہ معارف الحدیث میں قرآن و حدیث کے نصوص کی بنیاد پر بار بار یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ ایسی تمام بشارتیں اس شرط کے ساتھ مشروط ہوتی ہیں کہ وہ آدمی ان خبیث اور مہلک باتوں سے پرہیز کرے جو بندے کو اللہ تعالی کی رحمت سے محروم کر دیتی ہیں۔
تشریح
“ الصدوق ” اور “ الامین ” دونوں مبالغے کے صیغے ہیں حدیث کا مطلب اور پیغام واضح ہے کہ جو تاجر اور سوداگر اپنے کاروبار میں سچائی اور امانت یعنی دیانتداری کی پورے اہتمام سے پابندی کریں گے قیامت اور آخرت میں وہ نبیوں صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہونگے۔
قرآن پاک میں فرمایا گیا ہے ۔ “وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَـٰئِكَ رَفِيقًا ” (جو بندے اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کریں گے’ وہ (قیامت و آخرت میں) ان مقبولین و مقربین کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالی کا خاص انعام ہے یعنی انبیاء و صدیقین اور شہداء و صالحین (کے ساتھ) اور یہ سب بہت ہی اچھے رفیق ہیں) تجارت اور سوداگری بڑی آزمائش کی چیز ہے تاجر کے سامنے بار بار ایسی صورتیں آتی ہیں کہ اگر وہ خدا کے حکم کے مطابق سچائی اور دیانت داری کا لحاظ کرنے کے بجائے اس وقت وہ اپنی تجارتی مصلحت کے مطابق بازاری بات کرے تو ہزاروں لاکھوں کا نفع ہوتا ہے۔ پس جو تاجر اپنی تجارتی مصلحت اور نفع نقصان سے صرف نظر کر کے اللہ کے حکم کے مطابق ہر حال میں سچائی اور ایمانداری کی پابندی کرتا ہے وہ خدائی امتحان میں بڑا کامیاب ہے اور اس حدیث میں ایسے تاجروں کو بشارت سنائی گئی ہے کہ قیامت و آخرت میں وہ اللہ کے مقبول ترین بندوں یعنی نبیوں صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوں گے۔ اللہ تعالی کی طرف سے یہ ان کی سچائی و دیانت داری کا صلہ ہوگا۔
تنبیہ ...... اسی سلسلہ معارف الحدیث میں قرآن و حدیث کے نصوص کی بنیاد پر بار بار یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ ایسی تمام بشارتیں اس شرط کے ساتھ مشروط ہوتی ہیں کہ وہ آدمی ان خبیث اور مہلک باتوں سے پرہیز کرے جو بندے کو اللہ تعالی کی رحمت سے محروم کر دیتی ہیں۔
1741
Maarif ul Hadithعَنِ المِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيْكَرَبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ، خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ، وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، كَانَ يَأْكُلُ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ» (رواه البخارى)
حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کسی نے کبھی کوئی کھانا اس سے بہتر نہیں کھایا کہ اپنے ہاتھوں کی محنت سے کما کے کھائے۔ اور اللہ کے پیغمبر داود علیہ السلام اپنے ہاتھوں سے کام کر کے کھاتے تھے۔ (صحیح بخاری)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ تحصیل معاش کی صورتوں میں بہت اچھی صورت یہ ہے کہ آدمی اپنے ہاتھ سے کوئی ایسا کام کرے جس سے کھانے پینے وغیرہ کی ضروریات پوری ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اللہ کے پیغمبر داود علیہ السلام کی سنت بھی ہے قرآن مجید میں بھی ہے کہ وہ زرہیں بناتے تھے اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسی کو انھوں نے اپنا ذریعہ معاش بنایا تھا بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد نے دستکاری اور ذاتی محنت کو بہت بلند مقام عطا فرمادیا۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ تحصیل معاش کی صورتوں میں بہت اچھی صورت یہ ہے کہ آدمی اپنے ہاتھ سے کوئی ایسا کام کرے جس سے کھانے پینے وغیرہ کی ضروریات پوری ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اللہ کے پیغمبر داود علیہ السلام کی سنت بھی ہے قرآن مجید میں بھی ہے کہ وہ زرہیں بناتے تھے اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسی کو انھوں نے اپنا ذریعہ معاش بنایا تھا بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد نے دستکاری اور ذاتی محنت کو بہت بلند مقام عطا فرمادیا۔
1742
Maarif ul Hadithعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: «عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ» (رواه احمد)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ حضرت کونسی کمائی زیادہ پاک اور اچھی ہے آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی کا اپنے ہاتھ سے کوئی کام کرنا اور ہر تجارت جو پاکبازی کے ساتھ ہو۔ (مسند احمد)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ سب سے اچھی کمائی تو وہ ہے جو خود اپنے دست بازو اور اپنی محنت سے ہو اور اس تجارت کی کمائی بھی پاکیزہ ہے جو شریعت کے احکام کے مطابق اور دیانتداری کے ساتھ ہو کا “كُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ” یہی مطلب ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ سب سے اچھی کمائی تو وہ ہے جو خود اپنے دست بازو اور اپنی محنت سے ہو اور اس تجارت کی کمائی بھی پاکیزہ ہے جو شریعت کے احکام کے مطابق اور دیانتداری کے ساتھ ہو کا “كُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ” یہی مطلب ہے۔
1743
Maarif ul Hadithعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يَغْرِسُ غَرْسًا، أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا، فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ، إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی صاحب ایمان بندہ درخت کا پودا لگائے یا کاشت کرے پھر اس میں سے پرندے کھائیں یا آدمی یا کوئی جانور تو وہ اس کے حق میں صدقہ ہو گا۔(صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ باغات لگانے والوں اور کاشت کاری کرنے والوں کے لیے اس حدیث نبوی میں کتنی عظیم بشارت ہے کہ اگر کوئی آدمی یا چلتا پھرتا جانور یا اڑتا ہوا پرندہ اس کے درخت کا پھل یا کھیت کے دانے کھائے تو باغ والے اور کھیت والے بندہ کو فی سبیل اللہ صدقہ کا ثواب ہوگا۔ اس حدیث پاک میں باغبانی اور کاشتکاری کے لیے جن پر انسانوں کی بنیادی ضرورتوں کا دارومدار ہے کتنی بڑی ترغیب اور ہمت افزائی ہے۔
تشریح
سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ باغات لگانے والوں اور کاشت کاری کرنے والوں کے لیے اس حدیث نبوی میں کتنی عظیم بشارت ہے کہ اگر کوئی آدمی یا چلتا پھرتا جانور یا اڑتا ہوا پرندہ اس کے درخت کا پھل یا کھیت کے دانے کھائے تو باغ والے اور کھیت والے بندہ کو فی سبیل اللہ صدقہ کا ثواب ہوگا۔ اس حدیث پاک میں باغبانی اور کاشتکاری کے لیے جن پر انسانوں کی بنیادی ضرورتوں کا دارومدار ہے کتنی بڑی ترغیب اور ہمت افزائی ہے۔
1744
Maarif ul Hadithعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَبْعَثَكَ عَلَى جَيْشٍ فَيُسَلِّمَكَ اللَّهُ وَيُغْنِمَكَ، وَأَزْعبُ لَكَ مِنَ الْمَالِ رَغْبَةً صَالِحَةً» . فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَسْلَمْتُ مِنْ أَجْلِ الْمَالِ، وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ زَعْبَةً فِي الْإِسْلَامِ، وَأَنْ أَكُونَ مَعَكَ. فَقَالَ: «يَا عَمْرُو، نِعْمَ الْمَالِ الصَّالِحُ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ» (رواه احمد)
حضرت عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ میرا ارادہ ہے کہ تم کو ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجوں پھر تم اللہ تعالی کے فضل سے صحیح سالم لوٹو (اور وہ مہم تمہارے ہاتھ پر فتح ہو) اور تم کو مال غنیمت حاصل ہو اور اللہ تعالی کی طرف سے تم کو مال و دولت کا اچھا عطیہ ملے۔ تو میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول میں نے اسلام مال و دولت کے لیے قبول نہیں کیا ہے بلکہ میں نے اسلام کی رغبت و محبت کی وجہ سے اس کو قبول کیا ہے اور اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت اور رفاقت مجھے نصیب ہو تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمرو! اللّہ کے صالح بندہ کے لئے جائز و پاکیزہ مال و دولت اچھی چیز (اور قابل قدر نعمت) ہے۔ (مسند احمد)
تشریح
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مال و دولت اگر جائز طریقہ سے حاصل ہو تو اللہ تعالی کی قابل قدر نعمت اور اس کا خاص فضل ہے۔ اور زہد ورقاق کے عنوانات کے تحت متعدد وہ حدیثیں اسی سلسلہ معارف الحدیث جلد دوم میں ذکر کی جاچکی ہیں۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ فقر و مسکنت اور مال و دولت سے خالی ہاتھ رہنے کو افضلیت حاصل ہے۔ اور امت کے فقرا اغنیہ سے افضل ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ بالکل صحیح ہیں اگر فقر و مسکنت کے ساتھ صبر اور تسلیم و رضا اور تعفف نصیب ہو تو پھر بلاشبہ یہ فخر و مسکنت بہت بلند مقام ہے اور اس میں بڑی خیر ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے یہی پسند فرمایا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے اللہ تعالی سے دعائیں کرتے تھے (اس سلسلے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں پہلے اپنے موقع پر (جلد پنجم میں) ذکر کی جاچکی ہیں) اور اگر اللہ تعالیٰ کسی بندے کو جائز اور پاک ذرائع سے مال و دولت نصیب فرمائے اور شکرکی اور صحیح مصارف میں خرچ کرنے کی توفیق ملے تو وہ بھی اللہ تعالی کا خاص فضل اور بڑی قابل قدر نعمت ہے۔ انبیاء علیہم السلام میں سے حضرت داؤد و سلیمان اور حضرت ایوب و یوسف علیہم السلام اور ان کے علاوہ بھی متعدد حضرات کو اللہ تعالی نے اس فضل سے نوازا تھا اور اکابر صحابہ میں حضرت عثمان حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت زبیر بن عوام وغیرہم رضی اللہ عنہم کو بھی اس فضل خداوندی سے وافر حصہ عطا ہوا تھا بہرحال یہ بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی قابل قدر اور لائق شکر نعمت ہے۔ (نِعْمَ الْمَالِ الصَّالِحُ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ)
تشریح
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مال و دولت اگر جائز طریقہ سے حاصل ہو تو اللہ تعالی کی قابل قدر نعمت اور اس کا خاص فضل ہے۔ اور زہد ورقاق کے عنوانات کے تحت متعدد وہ حدیثیں اسی سلسلہ معارف الحدیث جلد دوم میں ذکر کی جاچکی ہیں۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ فقر و مسکنت اور مال و دولت سے خالی ہاتھ رہنے کو افضلیت حاصل ہے۔ اور امت کے فقرا اغنیہ سے افضل ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ بالکل صحیح ہیں اگر فقر و مسکنت کے ساتھ صبر اور تسلیم و رضا اور تعفف نصیب ہو تو پھر بلاشبہ یہ فخر و مسکنت بہت بلند مقام ہے اور اس میں بڑی خیر ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے یہی پسند فرمایا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے اللہ تعالی سے دعائیں کرتے تھے (اس سلسلے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں پہلے اپنے موقع پر (جلد پنجم میں) ذکر کی جاچکی ہیں) اور اگر اللہ تعالیٰ کسی بندے کو جائز اور پاک ذرائع سے مال و دولت نصیب فرمائے اور شکرکی اور صحیح مصارف میں خرچ کرنے کی توفیق ملے تو وہ بھی اللہ تعالی کا خاص فضل اور بڑی قابل قدر نعمت ہے۔ انبیاء علیہم السلام میں سے حضرت داؤد و سلیمان اور حضرت ایوب و یوسف علیہم السلام اور ان کے علاوہ بھی متعدد حضرات کو اللہ تعالی نے اس فضل سے نوازا تھا اور اکابر صحابہ میں حضرت عثمان حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت زبیر بن عوام وغیرہم رضی اللہ عنہم کو بھی اس فضل خداوندی سے وافر حصہ عطا ہوا تھا بہرحال یہ بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی قابل قدر اور لائق شکر نعمت ہے۔ (نِعْمَ الْمَالِ الصَّالِحُ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ)
1745
Maarif ul Hadithعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لاَ تَزُولُ قَدَمَا ابْنِ آدَمَ يَوْمَ القِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ، عَنْ عُمُرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ، وَعَنْ شَبَابِهِ فِيمَا أَبْلاَهُ، وَمَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَا أَنْفَقَهُ، وَمَاذَا عَمِلَ فِيمَا عَلِمَ. (رواه الترمذى)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن (جب حساب کتاب کے لیے بارگاہ خداوندی میں پیشی ہوگی تو) آدمی کے پاوں اپنی جگہ سے سرک نہ سکیں گے جب تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں پوچھ گچھ نہ کرلی جائے۔ ایک اس کی پوری زندگی کے بارے میں کن کاموں اور مشغلوں میں اس کو ختم کیا؟ اور دوسرے خصوصیت سے اسکی جوانی کے بارے میں کہ کن مشغلوں میں بوسیدہ اور پرانا کیا۔ اور تیسرے اور چوتھے مال و دولت کے بارے میں کہ کہاں سے اور کن طریقوں اور راستوں سے اس کو حاصل کیا تھا اور کن کاموں اور کن راہوں میں اسکو صرف کیا۔ اور پانچواں سوال یہ ہو گا کہ جو کچھ معلوم تھا اس پر کتنا عمل کیا۔(جامع ترمذی)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قیامت میں ہر آدمی کو اپنے پورے آمد و خرچ کا بھی حساب دینا ہوگا کہ کتنا کمایا حلال طریقے سے کمایا یا خدانخواستہ حرام طریقے سے؟ اور کمائی کو کی مدوں میں خرچ کیا جائز میں یا ناجائز میں؟ الغرض اس دنیا اور اس کی زندگی میں ہم جو کچھ کماتے اور خرچ کرتے ہیں آخرت میں اس کا پورا پورا حساب دینا ہوگا۔ وہ بندے بڑے خوش نصیب اور خوش قسمت ہیں جو قیامت کے دن کے اس حساب کو پیش نظر رکھتے ہوئے کمانے اور خرچ کرنے میں اور سارے مالی معاملات میں اللہ تعالی کی ہدایت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے احکام کی پابندی کرتے ہیں اور ان کا انجام بہت خطرناک ہے جو اس طرف سے بے فکر اور بے پروا ہیں۔
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قیامت میں ہر آدمی کو اپنے پورے آمد و خرچ کا بھی حساب دینا ہوگا کہ کتنا کمایا حلال طریقے سے کمایا یا خدانخواستہ حرام طریقے سے؟ اور کمائی کو کی مدوں میں خرچ کیا جائز میں یا ناجائز میں؟ الغرض اس دنیا اور اس کی زندگی میں ہم جو کچھ کماتے اور خرچ کرتے ہیں آخرت میں اس کا پورا پورا حساب دینا ہوگا۔ وہ بندے بڑے خوش نصیب اور خوش قسمت ہیں جو قیامت کے دن کے اس حساب کو پیش نظر رکھتے ہوئے کمانے اور خرچ کرنے میں اور سارے مالی معاملات میں اللہ تعالی کی ہدایت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے احکام کی پابندی کرتے ہیں اور ان کا انجام بہت خطرناک ہے جو اس طرف سے بے فکر اور بے پروا ہیں۔
1746
Maarif ul Hadithعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قالَ: «لا يَكْسِبُ عَبْدٌ مَالَ حَرَامٍ فَيَتَصَدَّقُ مِنْهُ فَيُقْبَلُ مِنْهُ، وَلا يُنْفِقُ مِنْهُ فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهِ، وَلا يَتْرُكُهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ إِلا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ، وَلَكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ، إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ».
حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی بندہ (کسی ناجائز طریقہ سے) حرام مال کمائے اور اس میں سے للہ صدقہ کرے تو اس کا صدقہ قبول ہو گا۔ اور اس میں سے خرچ کرے تو اس میں (منجانب اللہ) کی برکت ہو۔ اور جو شخص حرام مال (مرنے کے بعد) پیچھے چھوڑ کے جائے گا تو وہ اس کے لئے جہنم کا توشہ ہی ہوگا۔ یقینا اللہ تعالی بدی کو بدی سے نہیں مٹاتا بلکہ بدی کو نیکی سے مٹاتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ گندگی گندگی کو نہیں دھو سکتی۔ (مسند احمد نیز شرح السنہ میں بھی اسی طرح ہے)
تشریح
حدیث کا حاصل اور مدعا یہ ہے کہ حرام مال سے کیا ہوا صدقہ قبول نہیں ہوتا اور حرام کمائی میں برکت نہیں ہوتی اور جب کوئی آدمی ناجائز و حرام طریقے سے کمایا ہوا مال مرنے کے بعد وارثوں کے لئے چھوڑ گیا تو وہ آخرت میں اس کے لیے وبال ہی کا باعث ہوگا اس کو حرام کمانے کا بھی گناہ ہوگا اور وارثوں کو حرام کھلانے کا بھی۔ (حالانکہ وارثوں کے لیے حلال مال چھوڑ جانا ایک طرح کا صدقہ ہے اور اس پر یقین اجروثواب ملنے والا ہے) آگے جو فرمایا گیا ہے “إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ الخ” میں مال حرام کا صدقہ قبول نہ ہونے اور مرنے کے بعد باعث وبال ہونے کا سبب بیان فرمایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ صدقہ اگر صحیح اور پاک مال سے ہو تو وہ گناہوں کا کفارہ اور مغفرت کا وسیلہ بن جاتا ہے لیکن اگر حرام اور ناپاک مال سے صدقہ کیا گیا تو نجس اور ناپاک ہے وہ گناہوں کی گندگی کو دھونے کی اور گناہوں کا کفارہ اور مغفرت کا وسیلہ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا جس طرح گندے اور ناپاک پانی سے ناپاک کپڑا پاک صاف نہیں کیا جا سکتا ہے۔
تشریح
حدیث کا حاصل اور مدعا یہ ہے کہ حرام مال سے کیا ہوا صدقہ قبول نہیں ہوتا اور حرام کمائی میں برکت نہیں ہوتی اور جب کوئی آدمی ناجائز و حرام طریقے سے کمایا ہوا مال مرنے کے بعد وارثوں کے لئے چھوڑ گیا تو وہ آخرت میں اس کے لیے وبال ہی کا باعث ہوگا اس کو حرام کمانے کا بھی گناہ ہوگا اور وارثوں کو حرام کھلانے کا بھی۔ (حالانکہ وارثوں کے لیے حلال مال چھوڑ جانا ایک طرح کا صدقہ ہے اور اس پر یقین اجروثواب ملنے والا ہے) آگے جو فرمایا گیا ہے “إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ الخ” میں مال حرام کا صدقہ قبول نہ ہونے اور مرنے کے بعد باعث وبال ہونے کا سبب بیان فرمایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ صدقہ اگر صحیح اور پاک مال سے ہو تو وہ گناہوں کا کفارہ اور مغفرت کا وسیلہ بن جاتا ہے لیکن اگر حرام اور ناپاک مال سے صدقہ کیا گیا تو نجس اور ناپاک ہے وہ گناہوں کی گندگی کو دھونے کی اور گناہوں کا کفارہ اور مغفرت کا وسیلہ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا جس طرح گندے اور ناپاک پانی سے ناپاک کپڑا پاک صاف نہیں کیا جا سکتا ہے۔
1747
Maarif ul Hadithعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا، إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ} وَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ} ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، يَمُدُّ يَدَهُ إِلَى السَّمَاءِ، يَا رَبِّ، يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ ؟ " (رواه مسلم)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو اللہ تعالی پاک ہے وہ صرف پاک ہی کو قبول کرتا ہے اور اس نے اس بارے میں جو حکم اپنے پیغمبروں کو دیا ہے وہی اپنے سب مومن بندوں کو دیا ہے پیغمبروں کے لئے اس کا ارشاد ہے کہ “اے پیغمبروں! تم کھاؤ پاک اور غذا اور عمل کرو صالح ” ۔ اور اہل ایمان کو مخاطب کرکے اس نے فرمایا ہے کہ “اے ایمان والو تم ہمارے رزق میں سے حلال اور طیب کھاؤ (اور حرام سے بچو) ”۔
اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر فرمایا ایک ایسے آدمی کا جو طویل سفر کرکے (کسی مقدس مقام پر) ایسے حال میں جاتا ہے کہ اس کے بال پراگندہ ہیں اور جسم اور کپڑوں پر گردوغبار ہیں اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا اٹھا کے دعا کرتا ہے۔ اے میرے رب! اے میرے پروردگار! اور حالت یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام ہے اس کا پینا حرام ہے اس کا لباس حرام ہے اور حرام غذا سے اس کا نشونما ہوا ہے تو ایسے آدمی کی دعا کیسے قبول ہوگی۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کا مطلب اور پیغام یہ ہے کہ اللہ تعالی مقدس اور پاک ہے اور وہ اسی صدقہ اور اسی نذرونیاز کو قبول کرتا ہے جو پاک مال سے ہو۔ آگے فرمایا گیا ہے کہ حرام سے بچنے اور صرف حلال استعمال کرنے کاحکم وہ امر الہی ہے جو تمام اہل ایمان کی طرح سب پیغمبروں کو بھی دیا گیا تھا۔ لہذا ہر مومن کو چاہیے کہ وہ اس حکم الہی کی عظمت و اہمیت کو محسوس کرے اور ہمیشہ اس پر عمل پیرا رہے اس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بیان فرمایا کہ حرام مال اتنا خبیث اور ایسا منحوص ہے کہ اگر کوئی آدمی سر سے پاؤں تک درویش اور قابل رحم فقیر بن کے کسی مقدس مقام پر جا کے دعا کرے لیکن اس کا کھانا پینا اور لباس حرام سے ہو تو اس کی دعا قبول نہ ہوگی۔
اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر فرمایا ایک ایسے آدمی کا جو طویل سفر کرکے (کسی مقدس مقام پر) ایسے حال میں جاتا ہے کہ اس کے بال پراگندہ ہیں اور جسم اور کپڑوں پر گردوغبار ہیں اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا اٹھا کے دعا کرتا ہے۔ اے میرے رب! اے میرے پروردگار! اور حالت یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام ہے اس کا پینا حرام ہے اس کا لباس حرام ہے اور حرام غذا سے اس کا نشونما ہوا ہے تو ایسے آدمی کی دعا کیسے قبول ہوگی۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کا مطلب اور پیغام یہ ہے کہ اللہ تعالی مقدس اور پاک ہے اور وہ اسی صدقہ اور اسی نذرونیاز کو قبول کرتا ہے جو پاک مال سے ہو۔ آگے فرمایا گیا ہے کہ حرام سے بچنے اور صرف حلال استعمال کرنے کاحکم وہ امر الہی ہے جو تمام اہل ایمان کی طرح سب پیغمبروں کو بھی دیا گیا تھا۔ لہذا ہر مومن کو چاہیے کہ وہ اس حکم الہی کی عظمت و اہمیت کو محسوس کرے اور ہمیشہ اس پر عمل پیرا رہے اس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بیان فرمایا کہ حرام مال اتنا خبیث اور ایسا منحوص ہے کہ اگر کوئی آدمی سر سے پاؤں تک درویش اور قابل رحم فقیر بن کے کسی مقدس مقام پر جا کے دعا کرے لیکن اس کا کھانا پینا اور لباس حرام سے ہو تو اس کی دعا قبول نہ ہوگی۔