عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الكَبَائِرِ الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الوَالِدَيْنِ، وَاليَمِينُ الغَمُوسُ، وَمَا حَلَفَ بِاللَّهِ حَالِفُ يَمِينٍ صَبْرٍ، فَأَدْخَلَ فِيهَا مِثْلَ جَنَاحِ بَعُوضَةٍ إِلاَّ جُعِلَتْ نُكْتَةً فِي قَلْبِهِ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ. (رواه الترمذى)
حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے (اور سب سے خبیث) گناہ یہ ہیں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا۔ اور ماں باپ کی نافرمانی۔ اور (حاکم کے سامنے) جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھانا۔ اور عدالت میں جو قسم کھانے والا قسم کھائے اور اس میں مچھر کے پر کے برابر گڑبڑ کرے (یعنی ذرہ برابر بھی جھوٹ یاخیانت شامل کرے) تو (اللہ تعالی کی طرف سے) اس کے دل میں قیامت تک کے لئے ایک داغ بنا دیا جاتا ہے۔ (یعنی اس کا وبال قیامت میں ظاہر ہوگا)۔ (جامع ترمذی)