عَنْ سَفِينَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خِلَافَةُ النُّبُوَّةِ ثَلَاثُونَ سَنَةً، ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ» (رواه ابوداؤد)
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ خلافت النبوہ (یعنی نبوی اصول و طریق کار کی پابندی کے ساتھ نظام حکومت کی سربراہی) صرف تیس سال تک رہے گی اس کے بعد اللہ جس کو چاہے گا بادشاہت دے گا۔ (سنن ابی داود)
تشریح
اللہ تعالی کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بات منکشف کر دی گئی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت علی منہاج النبوہ یعنی حد تک آپ صلی اللہ وسلم کے اصول اور طور طریقوں کے ساتھ نظام حکومت صرف تیس سال تک چلے گا۔ اس کے بعد بادشاہی اور حکمرانی کا دور آ جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے ٹھیک تیسویں سال حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہٗ کی شہادت ہوئی۔ آپؓ کے بعد آپؓ کے بڑے صاحبزادے حضرت حسن رضی اللہ عنہٗ آپؓ کے جانشین اور خلیفہ ہوئے لیکن انہوں نے چند ہی مہینے بعد مسلمانوں کی خانہ جنگی ختم کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشن گوئی کے مطابق حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی اور ان کے حق میں خلافت سے دستبردار ہو گئے۔ حضرت حسنؓ کی خلافت کے یہ چند مہینے شامل کر لیے جائیں تو پورے تیس سال ہو جاتے ہیں۔ خلافت علی منہاج نبوت اور خلافت راشدہ جس کو اس حدیث میں خلافت النبوہ کہا گیا ہےبس اس تیس سالوں تک رہی۔ اس کے بعد طور طریقوں میں تبدیلی کا عمل شروع ہو گیا اور شدہ شدہ خلافت علی منھاج النبوہ کی جگہ بادشاہت کا رنگ آ گیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری پیشنگوئیوں کی طرح یہ حدیث بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جو کچھ ہونے والا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اطلاع دی اور وہی وقوع میں آیا۔ ظاہر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم اللہ تعالی کی وحی کے ہی ذریعہ ہوا تھا۔