عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اثْنَتَانِ يَكْرَهُهُمَا ابْنُ آدَمَ : الْمَوْتُ ، وَالْمَوْتُ خَيْرٌ لِلْمُؤْمِنِ مِنَ الْفِتْنَةِ ، وَيَكْرَهُ قِلَّةَ الْمَالِ ، وَقِلَّةُ الْمَالِ أَقَلُّ لِلْحِسَابِ " (رواه احمد)
محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دو چیزیں ایسی ہیں جن کو آدمی ناپسند ہی کرتا ہے (حالانکہ ان میں اس کے لیے بڑی بہتری ہوتی ہے) ایک تو وہ موت کو پسند نہیں کرتا ، حالانکہ موت اس کے لیے فتنہ سے بہتر ہے ، اور دوسرے وہ مال کی کمی اور ناداری کو نہیں پسند کرتا ، حالانکہ مال کی کمی آخرت کے حساب کو بہت مختصر اور ہلکا کرنے والی ہے ۔ (مسند احمد)
تشریح
واقعہ یہی ہے کہ ہر آدمی موت سے اور ناداری و افلاس سے گھبراتا ہے اور ان سے بچنا چاہتا ہے حالانکہ موت اس لحاظ سے بڑی نعمت ہے ، کہ مرنے کے بعد آدمی دنیا کے دین سوز فتنوں سے مامون و محفوظ ہو جاتا ہے ، اور مال و دولت کی کمی اس لحاظ سے بڑی نعمت ہے کہ ناداروں اور مفلسوں کو آخرت مین بہت مختصر حساب دینا ہو گا ، اور وہ اس سخت مرحلہ سے بڑی جلدی اور آسانی سے فارغ ہو جائیں گے ۔ جب انسان افلاس و ناداری کی مصیبت میں گرفتار ہو ، یا کسی عزیز قریب کی موت کا صدمہ اس کو پہنچا ہو ، تو اس وقت وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرح کے ارشادات سے بڑی تسکین اور تسلی حاصل کر سکتا ہے ۔