عَنْ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ. (رواه الترمذى)
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ ارشاد فرماتے تھے کہ مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کے خلاف جہاد کرے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
قرآن پاک میں فرمایا گیا “إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ” (یعنی انسان کا نفس برائی اور گناہ کا تقاضہ کرتا ہے) پس اللہ کا جو بندہ اپنی نفسانی خواہشات سے جنگ کرے ان کی پیروی کے بجائے احکام الہی کی تابعداری کرے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں فرمایا کہ وہ اصل “مجاہد” ہے۔ اسی طرح اس سلسلہ معارف الحدیث کتاب المعاشرہ میں والدین کی خدمت کے بیان میں وہ حدیث ذکر کی جاچکی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کی خدمت کو بھی جہاد قرار دیا ہے۔ (ففيهما فجاهد)