hadith book logo

Maarif ul Hadith

14. دعوت الی الخیر امربالمعروف نہی عن المنکر

معارف الحدیث

1905
Maarif ul Hadith
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ. (رواه مسلم)
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی نیک کام کی طرف (کسی بندے کی) رہنمائی کی تو اس کو اس نیک کام کے کرنے والے بندے کے اجر کے برابر ہی اجر ملے گا۔ (صحیح مسلم)

تشریح
اللہ تعالی کی طرف سے انبیاء علیہم سلام اس لئے بھیجے جاتے تھے کہ اس کے بندوں کو نیکی اور بھلائی کی دعوت دیں پسندیدہ اعمال و اخلاق اور ہر طرح کے اعمال خیر کی طرف ان کی رہنمائی کرے اور ہر نوع کی برائیوں سے ان کو روکنے اور بچانے کی کوشش کریں تاکہ دنیا و آخرت میں وہ اللہ کی رحمت اور رضا کے مستحق ہوں اور اس کے غضب و عذاب سے محفوظ رہیں اسی کا جامعہ عنوان “دعوت الی الخیر، امربالمعروف ونہی عن المنکر ” ہے۔
جب خاتم النبیین سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ ختم کردیاگیا تو قیامت تک کے لیے اس پیغمبرانہ کام کی پوری ذمہ داری آپ کی امت کے سپرد کی گئی قرآن پاک میں فرمایا گیا۔
وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (آل عمران 104:3)
ترجمہ: اور لازم ہے کہ تم میں ایک ایسی امت ہو جو (لوگوں کو) دعوت دے خیر اور بھلائی کی اور حکم کرے معروف (اچھی باتوں) کا اور روکے ہر طرح کی برائیوں سے اور وہی بندے فلاح یاب ہوں گے (جو یہ فریضہ ادا کریں گے)
پھر چند ہی آیتوں کے بعد اس صورت میں فرمایا گیا ہے:
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ (آل عمران 110:3)
ترجمہ: اے پیروان محمد تم (تمام امتوں میں) وہ بہترین امت ہو جو لوگوں (کی اصلاح و ہدایت) کے لئے ظہور میں لائی گئی ہے تمہارا کام (اور تمہاری ذمہ داری) یہ ہے کہ نیکی کا حکم دیتے ہو برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو (اور ایمان والی زندگی گزارتے ہو)۔
بہرحال سلسلہ نبوت ختم ہو جانے کے بعد اس پیغمبرانہ کام کی پوری ذمہ داری ہمیشہ کے لئے امت محمدیہ پر عائد کر دی گئی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات میں وضاحت فرمائی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو امتی اس ذمہ داری کو کماحقہ ادا کریں گے وہ اللہ تعالی کے کیسے عظیم انعامات کے مستحق ہونگے اور جو اس میں کوتاہی کرینگے وہ اپنے نفسوں پر کتنا بڑا ظلم کریں گے اور ان کا انجام اور حشر کیا ہوگا۔ اس تمہید کے بعد اس سلسلہ کی مندرجہ ذیل حدیث پڑھی جائیں۔

تشریح ..... اس حدیث کا مطلب و مدعا اس مثال سے اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ مثلا ایک شخص نماز کا عادی نہیں تھا آپ کی دعوت ترغیب اور محنت کے نتیجہ میں وہ پابندی سے نماز پڑھنے لگا وہ قرآن پاک کی تلاوت و ذکر اللہ سے غافل تھا آپ کی دعوت اور کوشش کے نتیجے میں وہ قرآن پاک کی روزانہ تلاوت کرنے لگا ذکر و تسبیح کا عادی ہو گیا وہ زکوۃ ادا نہیں کرتا تھا آپ کی مخلصانہ دعوت وتبلیغ کے اثر سے وہ زکوۃ بھی ادا کرنے لگا اسی طرح اور بھی اعمال صالحہ کا پابند ہوگیا۔ تو اس کو عمر بھر کی نمازوں ذکر و تلاوت زکوۃ و صدقات اور دیگر اعمال صالحہ کا جتنا اجر و ثواب آخرت میں ملے گا (اس حدیث کی بشارت کے مطابق) اللہ تعالی اتنا ہی اجر و ثواب بطور انعام کے اپنے لامحدود خزانہ کرم سے اس داعی الخیر بندے کو بھی عطا فرمائے گا جس کی دعوت و تبلیغ نے اس کو ان اعمال صالحہ پر آمادہ کیا اور عادی بنایا۔ واقعہ یہ ہے کہ اس راستہ سے جتنا اجر و ثواب اور آخرت میں جو درجہ حاصل کیا جاسکتا ہے وہ کسی دوسرے راستہ سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ بزرگان دین کی اصطلاح میں یہ طریق نبوت کا سلوک بشرطیکہ خالصا لوجہ اللہ صرف رضائے الہی کی طلب میں ہوں۔
1906
Maarif ul Hadith
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لاَ يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلاَلَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لاَ يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا. (رواه مسلم)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ جس بندے نے کسی نیکی کے راستہ کی طرف (لوگوں کو) دعوت دی تو اس داعی کو ان سب لوگوں کے اجروں کے برابر اجر ملے گا جو اس کی بات مان کر نیکی کے اس راستہ پر چلیں گے اور عمل کریں گے اور اس کی وجہ سے ان عمل کرنے والوں کے اجروں میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ (اور اسی طرح) جس نے (لوگوں کو) کسی گمراہی (اور بد عملی) کی دعوت دی تو اس داعی کو ان سب لوگوں کے گناہوں کے برابر گناہ ہوگا جو اس کی دعوت پر اس گمراہی اور بد عملی کے مرتکب ہونگے اور اس کی وجہ سے ان لوگوں کے گناہوں میں (اور ان کے عذاب میں) کوئی کمی نہ ہوگی۔ (صحیح مسلم)

تشریح
اس حدیث میں داعیان حق و ہدایت کو بشارت سنانے کے ساتھ داعیان ضلالت کی بدانجامی بھی بیان فرمائی گئی ہے حقیقت یہ ہے کہ جن خوش نصیبوں کو دعوت الی الخیر اور ارشاد و ہدایت کی توفیق ملتی ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلکہ تمام انبیاء علیہ السلام کے مشن کے خادم اور ان کے لشکر کے سپاہی ھیں اور جن کی بدبختی نے انکو گمراہی اور بدعملی کا داعی بنا دیا ہے وہ شیطان کے ایجنٹ اور اسکے لشکری ہیں اور ان دونوں کا انجام وہ ہے جو اس حدیث میں بیان فرمایا گیا ہے۔
1907
Maarif ul Hadith
عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ يَهْدِيَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى يَدَيْكَ رَجُلًا خَيْرٌ لَكَ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبَتْ» (رواه الطبرانى فى الكبير)
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بات کہ اللہ تعالی تمہارے ہاتھ اور تمہارے ذریعہ کسی آدمی کو ہدایت دے دی تمہارے لئے اس ساری کائنات سے بہتر ہے جس پر آفتاب طلوع ہوتا ہے اور غروب ہوتا ہے۔ (معجم کبیر للطبرانی)

تشریح
ظاہر ہے کہ اس دنیا کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جس پر آفتاب طلوع اور غروب نہ ہوتا ہو تو حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ کسی ایک آدمی کو بھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے حق میں اس سے بہتر اور زیادہ نفع بخش ہے کہ مشرق سے مغرب تک کی ساری دنیا تم کو مل جائے۔ اللہ تعالی ان حقائق کا یقین نصیب فرمائے اور عمل کی توفیق دے۔
1908
Maarif ul Hadith
عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللَّهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عِذَابًا مِنْ عِنْدِهِ ثُمَّ لَتَدْعُنَّهُ وَلاَ يُسْتَجَابُ لَكُمْ. (رواه الترمذى)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اے اہل ایمان) قسم اس پاک ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم پر لازم ہیں اور تم کو تاکید ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے رہو (یعنی اچھی باتوں اور نیکیوں کی لوگوں کو ہدایت و تاکید کرتے رہو اور بری باتوں اور برے کاموں سے ان کو روکتے رہو) یا پھر ایسا ہوگا کہ (اس معاملہ میں تمہاری کوتاہی کی وجہ سے) اللہ تم پر اپنا کوئی عذاب بھیج دے گا پھر تم اس سے دعائیں کرو گے اور وہ تمہاری دعائیں قبول نہیں کی جائیں گے۔ (جامع ترمذی)

تشریح
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو واضح الفاظ میں آگاہی دی ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میری امت کا ایسا اہم فریضہ ہے کہ جب اس کی ادائیگی میں غفلت اور کوتاہی ہوگی تو اللہ تعالی کی طرف سے وہ کسی فتنہ اور عذاب میں مبتلا کر دی جائے گی۔ اور پھر جب دعا کرنے والے اس عذاب اور فتنہ سے نجات کے لئے دعائیں کریں گے تو ان کی دعائیں بھی قبول نہ ہوں گی۔
اس عاجز کے نزدیک اس میں قطعا شبہ کی گنجائش نہیں کہ صدیوں سے یہ امت طرح طرح کے جن فتنوں اور عذابوں میں مبتلا ہے اور امت کے اخیار اور صلحاء کی دعاؤں اور التجاؤں کے باوجود ان عذابوں سے نجات نہیں مل رہی ہے تو اس کا بہت بڑا سبب یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے اللہ تعالی کے حکم سے امت کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی جو ذمہ داری سپرد کی تھی اور اس سلسلہ میں جو تاکیدی احکام دیئے تھے اور اس کا جو عمومی نظام قائم فرمایا تھا وہ صدیوں سے تقریبا معطل ہے امت کی مجموعی تعداد میں اس فریضہ کے ادا کرنے والے فی ہزار ایک کے تناسب سے بھی نہیں ہیں الغرض یہ وہی صورتحال ہے جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد میں واضح آگاہی دی تھی۔
1909
Maarif ul Hadith
عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيْقِ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الآيَةَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لاَ يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} فَإِنِّيْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا الْمُنْكَرَ فَلَمْ يُغَيِّرُوا يُوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابِهِ. (رواه ابن ماجه والترمذى)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ قرآن پاک کی یہ آیت پڑھتے ہو “يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لاَ يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ” (اے ایمان والو تم پر لازم ہے اپنے نفسوں کی فکر تمہارا کچھ نہ بگاڑیں گے گمراہ ہونے والے لوگ جب تم راہ ہدایت پر ہو) (حضرت صدیق اکبر نے اس آیت کا حوالہ دے کر فرمایا کہ کسی کو اس آیت سے غلط فہمی نہ ہو) میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب لوگوں کا یہ حال ہو جائے کہ وہ شریعت کے خلاف کام ہوتے دیکھیں اور اس کی تغییر و اصلاح کے لئے کچھ نہ کریں تو قریبی خطرہ ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے ان سب ہی پر عذاب آجائے۔ (سنن ابن ماجہ جامع ترمذی)

تشریح
سورہ مائدہ کی یہ 125 ایک سو پچسویں آیت ہے جس کا حوالہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ نے دیا ہے اس آیت کے ظاہری الفاظ سے کسی کو یہ غلط فہمی ہو سکتی ہے کہ اہل ایمان کی ذمہ داری بس یہ ہے کہ وہ اس کی فکر کریں کہ وہ خود اللہ اور رسول کے بتلائے ہوئے راستہ پر چلتے رہیں دوسروں کی اصلاح و ہدایت کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے اگر دوسرے لوگ اللہ و رسول کے احکام کے خلاف چل رہے ہیں ہم کو ان کی گمراہی اور غلط کاری سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ نے اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لئے فرمایا کہ آیت سے ایسا سمجھنا غلط ہوگا میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ جب لوگوں کا رویہ یہ ہو جائے کہ دوسرے لوگوں کو خلاف شریعت کام کرتے دیکھے اور ان کی اصلاح کے لیے کچھ نہ کریں بلکہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں تو اس بات کا قریبی خطرہ ہوگا کہ خدا کی طرف سے ایسا عذاب آئے جو سب ہی کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔
صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث اور قرآن و حدیث کے دوسرے نصوص کی روشنی میں سورہ مائدہ کی اس آیت کا مفاد اور مدعی یہ ہوگا کہ اے اہل ایمان جب تم راہ ہدایت پر ہو اللہ و رسول کے احکام کی تعمیل کر رہے ہو (جس میں امر بالمعروف نہی عن المنکر اور بقدر امکان بندگان خدا کی اصلاح و ہدایت کی کوشش بھی شامل ہے) تو اس کے بعد جو ناخدا ترس لوگ ہدایت قبول نہ کریں اور گمراہی کی حالت میں رہیں تو اس کی اس گمراہی اور معاشیت کوشی کی تم پر کوئی ذمہ داری نہیں تم عند اللہ بری الذمہ ہو۔
(حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث “مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ الحديث” اس سلسلہ معارف الحدیث کی کتاب الایمان میں درج ہو چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص کوئی خلاف شریعت کام ہوتا دیکھے تو اگر اس کے لئے اس کا امکان ہے کہ طاقت استعمال کرکے اس کو روک دے تو ایسا ہی کرے اور اگر اس کی استطاعت اور قدرت نہیں ہے تو زبان ہی سے نصیحت اور اظہار ناراضی کرے اگر اس کی بھی استطاعت اور قدرت نہیں ہے تو دل ہی سے اس کو برا سمجھے اور دل میں اس کے خلاف جذبہ رکھے)
1910
Maarif ul Hadith
عَنْ جَرِيرِ ابْنِ عَبْدِاللهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ فِي قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي، يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا عَلَيْهِ، وَلَا يُغَيِّرُونَ إِلَّا أَصَابَهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ قَبْلَ أَنْ يَمُوتُوا» (رواه ابوداؤد وابن ماجه)
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے کہ کسی قوم (اور جماعت) میں کوئی آدمی ہوں جو ایسے اعمال کرتا ہو جو گناہ اور خلاف شریعت ہیں اور اس قوم اور جماعت کے لوگ اس کی قدرت اور طاقت رکھتے ہوں کہ اس کی اصلاح کر دیں اور اس کے باوجود اصلاح نہ کریں (اسی حال میں اس کو چھوڑے رکھیں) تو ان لوگوں کو اللہ تعالی مرنے سے پہلے کسی عذاب میں مبتلا فرمائے گا۔ (سنن ابی داؤد سنن ابن ماجہ)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ استطاعت اور قدرت کے باوجود غلط کار اور بگڑے ہوئے لوگوں کی اصلاح و ہدایت کی کوشش نہ کرنا اور بے پروائی کا رویہ اختیار کرنا اللہ کے نزدیک ایسا گناہ ہے جس کی سزا آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی دی جاتی ہے۔ اللهم اغفر لنا وارحمنا ولا تعذبنا
1911
Maarif ul Hadith
عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْحَى الله عَزَّ وَجَلَّ إِلَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنِ اقْلِبْ مَدِينَةَ كَذَا وَكَذَا بِأَهْلِهَا، قَالَ: فَقَالَ: يَا رَبِّ إِنَّ فِيهِمْ عَبْدَكَ فُلَانًا لَمْ يَعْصِكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ، قَالَ: فَقَالَ: اقْلِبْهَا عَلَيْهِمْ، فَإِنَّ وَجْهَهُ لَمْ يَتَمَعَّرْ فِيَّ سَاعَةً قَطُّ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ اللہ تعالی نے جبرئیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ فلاں بستی کو اس کی پوری آبادی کے ساتھ الٹ دو! جبرائیل نے عرض کیا خداوندا اس شہر میں تیرا فلاں بندہ بھی ہے جس نے پل جھپکنے کے برابر بھی کبھی تیری نافرمانی نہیں کی اللہ تعالی کا حکم ہوا کہ اس بستی کو اس بندے پر اور اس کے دوسرے سب باشندوں پر الٹ دو کیوں کہ کبھی ایک ساعت کے لیے بھی میری وجہ سے اس بندہ کا چہرہ متغیر نہیں ہوا۔ (شعب الایمان للبیہقی)

تشریح
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے کسی زمانہ کا یہ واقعہ بیان فرمایا کہ کوئی بستی تھی جس کے باشندے عام طور سے سخت فاسق فاجر تھے اور ایسی بد اعمالیاں کرتے تھے جو اللہ تعالی کے قہر و جلال کا باعث بن جاتی ہیں لیکن اس بستی میں ایک ایسا بندہ بھی تھا جو اپنی ذاتی زندگی کے لحاظ سے اللہ تعالی کا پورا فرما بردار تھا اور اس سے کبھی معصیت سرزد نہیں ہوئی تھی مگر دوسری طرف اس کا حال یہ تھا کہ بستی والوں کے فسق و فجور اور ان کی بداعمالیوں پر کبھی اس کو غصہ بھی نہیں آتا تھا اور اس کے چہرے پر شکن بھی نہیں پڑتی تھی۔ اللہ تعالی کے نزدیک یہ بھی اس درجہ کا جرم تھا کہ جبرائیل علیہ السلام کو حکم ہوا کہ بستی کے فاسق فاجر باشندوں کے ساتھ اس بندے پر بھی بستی کو الٹ دو۔
اللہ تعالی اس حدیث سے عبرت حاصل کرنے اور سبق لینے کی توفیق دے۔ (آمین)
1912
Maarif ul Hadith
عَنِ الْعُرْسِ بْنِ عَمِيرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا عُمِلَتِ الْخَطِيئَةُ فِي الأَرْضِ كَانَ مَنْ شَهِدَهَا فَكَرِهَهَا. كَانَ كَمَنْ غَابَ عَنْهَا وَمَنْ غَابَ عَنْهَا فَرَضِيَهَا كَانَ كَمَنْ شَهِدَهَا. (رواه ابوداؤد)
حضرت عرس بن عمیرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی سرزمین میں گناہ کیا جائے تو جب لوگ وہاں موجود ہوں اور اس گناہ سے ناراض ہوں تو (اللہ کے نزدیک) وہ ان لوگوں کی طرح ہیں جو وہاں موجود نہیں ہیں (یعنی ان سے اس گناہ کے بارے میں کوئی باز پرس نہ ہوگی) اور جو لوگ اس گناہ والی سرزمین میں موجود نہ ہوں مگر اس گناہ سے راضی ہوں وہ ان لوگوں کی طرح ہیں جو وہاں موجود تھے (اور گویا شریک گناہ تھے)۔ (سنن ابی داود)

تشریح
اس باب کی دوسری حدیثوں کی روشنی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب یہ ہوگا کہ جن لوگوں کے سامنے اللہ و رسول کے احکام اور شریعت کے خلاف کام کیے جائیں وہ اگر ان سے ناراض ہوں اور حسب استطاعت اصلاح و تغییر کی کوشش کریں ورنہ کم از کم دل ہی میں اس کے خلاف جذبہ رکھیں تو خواہ ان کی ناراضی اور کوششوں کا کوئی اثر نہ ہو اور معصیتوں کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے تب بھی ان سے کوئی بازپرس نہ ہوگی (بلکہ وہ ان شاء اللہ ماجور ہوں گے) اور جن لوگوں کو ان کے خلاف شریعت کاموں سے ناگواری اور ناراضی بھی نہ ہو وہ اگرچہ گناہوں کی جگہ سے دور ہوں پھر بھی وہ مجرم ہونگے اور شریک گناہ سمجھے جائیں گے اللہ تعالی توفیق دے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں ہم اپنا احتساب کریں۔
1913
Maarif ul Hadith
عَنِ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْمُدْهِنِ فِي حُدُودِ اللَّهِ وَالْوَاقِعِ فِيهَا مَثَلُ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا سَفِينَةً، فَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَسْفَلِهَا وَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَعْلاَهَا، فَكَانَ الَّذِي فِي أَسْفَلِهَا يَمُرُّونَ بِالْمَاءِ عَلَى الَّذِينَ فِي أَعْلاَهَا، فَتَأَذَّوْا بِهِ، فَأَخَذَ فَأْسًا، فَجَعَلَ يَنْقُرُ أَسْفَلَ السَّفِينَةِ، فَأَتَوْهُ فَقَالُوا مَا لَكَ قَالَ تَأَذَّيْتُمْ بِي، ولابد لِي مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ أَخَذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَنْجَوْهُ وَنَجَّوْا أَنْفُسَهُمْ، وَإِنْ تَرَكُوهُ أَهْلَكُوهُ وَأَهْلَكُوا أَنْفُسَهُمْ. (رواه البخارى)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مثال ان لوگوں کی جو اللہ کی حدود اور اس کے احکام کے بارے میں مداہنت (یعنی سہل انگاری اور ڈھیلے پن) سے کام لیتے ہیں (روک ٹوک نہیں کرتے) اور ایسے لوگوں کی جو خود اللہ کی حدود کو پامال اور اس کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں ایک ایسے گروہ کی سی مثال ہے جو باہم قرعہ اندازی کرکے ایک کشتی پر سوار ہوا تو کچھ لوگوں نے کشتی کے نیچے کے درجہ میں جگہ پائی اور کچھ نے اوپر والے درجہ میں۔ تو نیچے کے درجہ والا آدمی پانی لے کر اوپر کے درجہ والوں پر سے گزرتا تھا اس سے انہوں نے تکلیف محسوس کی (اور اس پر ناراضی کا اظہار کیا) تو نیچے کے درجے والے نے کلہاڑا لیا اور لگا صاف کرنے کشتی کے نیچے کے حصے میں (تاکہ نیچے ہی سے دریا سے براہ راست پانی حاصل کرلے اور پانی کے لئے اوپر آنا جانا نہ پڑے) تو اوپر کے درجہ والے اس کے پاس آئے اور کہا کے تم کو کیا ہو گیا ہے؟ (یہ کیا کر رہے ہیں؟) اس نے کہا کہ (پانی کے لئے میرے آنے جانے سے) تم کو تکلیف ہوئی (زندگی کی) ناگزیر ضرورت ہے (میں دریا سے پانی حاصل کرنے کے لئے یہ سوراخ کر رہا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) تو اگر یہ کشتی والے اس آدمی کا ہاتھ پکڑ لیں (اور اس کو کشتی میں سوراخ نہ کرنے دیں) تو اس کو بھی ہلاکت سے بچا لیں گے اور اپنے کو بھی اور اور اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیں گے (اور کشتی میں سوراخ کرنے دینگے) تو اس کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیں گے۔ اور اپنے کو بھی (سب ہی غرقاب ہو جائیں گے)۔ (صحیح بخاری)

تشریح
حدیث کی بقدر ضرورت تشریح ترجمہ ہی کے ضمن میں کردی گئی ہے بڑی ہی عام فہم اور سبق آموز مثال ہے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ جب کسی بستی یا کسی گروہ میں اللہ کی حدود پامال کی جاتی ہوں اور اس کے احکام کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہوتی ہو وہ بد اعمالیاں ہوتی ہوں جو خداوند ذوالجلال کے قہر و عذاب کو دعوت دیتی ہیں تو اگر ان میں کے اچھے اور نیک لوگ اصلاح و ہدایت کی کوئی کوشش نہیں کریں گے تو جب خدا کا عذاب نازل ہوگا تو یہ بھی اس کی لپیٹ میں آجائیں گے اور انکی ذاتی نیکی اور پرہیزگاری ان کو نہ بچا سکے گی۔ قرآن پاک میں بھی فرمایا گیا ہے
“وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَّا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنكُمْ خَاصَّةً ۖ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ” (الانفال نمبر 25) (اور اس عذاب سے ڈرو اور بچنے کی کوشش کرو جو صرف ظالموں، مجرموں ہی پر نہیں آئے گا اور خود جان لو کہ اللہ کی سزا بڑی ہی سخت ہے)
1914
Maarif ul Hadith
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ فِي قوله تعالى {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لاَ يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} قَالَ أَمَا وَاللَّهِ سَأَلْتَ عَنْهَا خَبِيرًا سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: بَلِ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ حَتَّى إِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا وَهَوًى مُتَّبَعًا وَدُنْيَا مُؤْثَرَةً وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهِ فَعَلَيْكَ بِخَاصَّةِ نَفْسِكَ وَدَعِ الْعَوَامَّ فَإِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامًا الصَّبْرُ فِيهِنَّ مِثْلُ الْقَبْضِ عَلَى الْجَمْرِ لِلْعَامِلِ فِيهِنَّ مِثْلُ أَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلاً يَعْمَلُونَ مِثْلَ عَمَلِكُمْ. (رواه الترمذى)
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے اللہ تعالی کے ارشاد “يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لاَ يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ” کے بارے میں (ایک صاحب کے سوال کے جواب میں) فرمایا کہ میں نے اس آیت کے بارے میں اس ہستی سے پوچھا تھا جو (اس کے مطلب اور مدعی سے اور اللہ کے حکم سے) سب سے زیادہ باخبر تھی (یعنی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا تو آپ نے ارشاد فرمایا (اس آیت سے غلط فہمی میں نہ پڑو) بلکہ تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر برابر کرتے رہو یہاں تک کہ جب (وہ وقت آ جائے کہ) تم دیکھو کہ بخل اور دولت اندوزی کے جذبہ کی اطاعت کی جاتی ہے اور (اللہ اور رسول کے احکام کے مقابلہ میں) اپنی نفسانی خواہشات کا اتباع کیا جاتا ہے اور (آخرت کو فراموش کرکے) بس دنیا ہی کو مقصود بنا لیا گیا ہے اور ہر شخص خود رائی اور خود بینی کا مریض ہے (تو جب عام لوگوں کی حالت یہ ہو جائے) تو اس وقت بس اپنی ذات ہی کی فکر کرو اور عوام کو چھوڑو (ان کا معاملہ خداکے حوالہ کردو) کیونکہ تمہارے بعد میں ایسا دور بھی آئے گا کہ صبر اور ثابت قدمی (کے ساتھ دین پر قائم رہنا اور شریعت پر چلنا) ایسا (مشکل اور صبر آزما) ہوگاجیسا ہاتھ میں انگارہ لے لینا ان دنوں میں شریعت پر عمل کرنے والے پچاس آدمیوں کے برابر اجر و ثواب ملے گا (جامع ترمذی)

تشریح
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے ایک تابعی ابو امیہ شعبانی نے سورہ مائدہ کی اس آیت نمبر 125 کے متعلق جس کے بارے میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا ارشاد اوپر گزر چکا ہے سوال کیا تھا تو انھوں نے یہ جواب دیا کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا تھا (کیونکہ اس کے ظاہری الفاظ سے یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ اگر ہم خود اللہ و رسول کی ہدایت کے مطابق چل رہے ہیں تو دوسرے لوگوں کے دین کی فکر اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر ہماری ذمہ داری نہیں ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جواب ارشاد فرمایا جو حدیث میں مذکور ہوا جس کا حاصل یہ ہے کہ اپنے دین کی فکر کے ساتھ دوسرے بندگان خدا کے دین کی فکر اور اس سلسلہ میں امربالمعروف ونہی عن المنکر بھی دینی فریضہ اور خداوندی مطالبہ ہے اس لیے اس کے کو برابر کرتے رہو۔ ہاں جب امت کا حال یہ ہو جائے کہ بخل و کنجوسی اس کا مزاج بن جائے اور دولت کی پوجا ہونے لگے اور اللہ و رسول کے احکام کے بجائے بس خواہشات نفس کا اتباع کیا جانے لگے اور آخرت کو بھلا کر دنیا ہی کو مقصود بنا لیا جائے اور خود بینی اور خود رائی کی وبا عام ہوجائے تو اس بگڑی ہوئی فضا میں چونکہ امر بالمعروف نہی عن المنکر کی تاثیر و افادیت اور عوام کی اصلاح پذیری کی امید نہیں ہوتی اس لئے چاہیے کہ بندہ عوام کی فکر چھوڑ کے بس اپنی ہی اصلاح اور معصیت سے حفاظت کی فکر کرے۔
آخر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعد میں ایسے دور بھی آئیں گے جب دین پر قائم رہنا اور اللہ و رسول کے احکام پر چلنا ہاتھ میں آگ لینے کی طرح تکلیف دہ اور صبر آزما ہو گا۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں خود دین پر قائم رہنا ہی بہت بڑا جہاد ہوگا اور دوسروں کی اصلاح کی فکر اور اس سلسلہ میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ذمہ داری باقی نہیں رہے گی۔ اور ایسی ناموافق فضا اور سخت حالات میں اللہ و رسول کے احکام پر صبروثابت قدمی کے ساتھ عمل کرنے والوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کو پچاس پچاس تمہارے جیسے عمل کرنے والوں کی برابر اجر و ثواب ملے گا۔