عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْمَالُ وَيَفِيضَ حَتَّى يَخْرُجَ الرَّجُلُ بِزَكَاةِ مَالِهِ فَلاَ يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهَا مِنْهُ وَحَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا. (رواه مسلم)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت نہیں آئے گی جب تک کہ (ایسا وقت نہ آجائے کہ) غیرمعمولی بہتات ہو مال کی اور وہ بہا بہا پھرے یہاں تک کہ (حالت یہ ہو جائے کہ) ایک آدمی اپنے مال کی زکوۃ نکالے اور وہ نہ پا سکے کوئی ایسا (فقیر مسکین صاحب حاجت) جو زکوۃ کو اس سے قبول کرے اور ہوجائے عرب کی زمین (جس کا بڑا حصہ آج بے آب و گیاہ ہے) سرسبز چراگاہوں اور نہروں کی شکل میں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
گزشتہ نصف صدی کے اندر اندر عرب ملکوں میں پیٹرول کی دریافت کے بعد جو انقلاب آیا ہے اور دولت کی ریل پیل ہے اور چٹیل میدانوں اور ریگستانوں کو کشت زار اور باغ و بہار میں تبدیل کرنے اور نہریں نکالنے کی جو کوششیں ہو رہی ہیں یقینا یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مصداق ہیں جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا اس وقت اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا لیکن اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر منکشف فرمایا تھا کہ ایک وقت ایسا انقلاب آئے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ارشاد میں امت کو اس کی اطلاع دی تھی صحابہ کرام نے صرف سنا تھا اور ہمارے زمانہ میں آنکھوں سے دیکھا جا رہا ہے بلاشبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس طرح کی اطلاعات آپ کا معجزہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل ہیں۔