عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، ان رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال : « اللهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا » ، وَفِي رِوَايَةِ كَفَافًا . (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ، کہ : اے اللہ ! محمد کے متعلقین کی روزی بس بقدر کفاف ہو ۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
اصل عربی زبان میں آل کا لفظ گھر والوں یعنی بیوی بچوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے ، اور متبعین کے لیے بھی ، لیکن اس دعا میں بظاہر آپ کی مراد آپ کے گھر والے ہی ہیں ، اسی لئے ہم نے اس کا ترجمہ متعلقین سے کیا ہے ، قوت اور کفاف دونوں کا مطلب قریب قریب یہی ہے کہ روزی بس اتنی ہو کہ زندگی کا نظام چلتا رہے ، نہ اتنی تنگی ہو کہ فاقہ زدگی اور پریشان حالی کی وجہ سے اپنے متعلقہ کام بھی نہ انجام دئیے جا سکیں اور دستِ سوال کسی کے سامنے پھیلانا پڑے ، اور نہ اتنی فراغت ہو کہ کل کے لیے بھی ذخیرہ رکھا جا سکے ۔ احادیث و سیر کی شہادت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اسی طرح گذری ہے ۔